قرآن کریم کی تفسیر کی ضرورت اور اہمیت

قرآن فہمی بہت بڑی نعمت ہے۔ تلاوت قرآن کے ساتھ معانی قرآن بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ علامہ قرطبی سے منقول ہے کہ: جو لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں اور قرآن کریم کی تفسیر نہیں جانتے ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور قرآن کریم کی تفسیر جانتا ہے اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس چراغ ہے کہ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ خط میں کیا لکھا ہے۔

قرآن کریم کی تفسیر کی ضرورت اور اہمیت
قرآن کریم کی تفسیر کی ضرورت اور اہمیت

قرآن مجید خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی آخری کتاب ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اعلان کر دیا ہے کہ یہ کتاب قیامت تک محفوظ رہے گی، یہ کتاب عربی زبان میں ہے اور فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ معیار پر ہے، زبان و ادب کے حسن کا ایک پہلو یہ ہے کہ بعض باتوں کو کھلے ہوئے الفاظ میں کہا جائے اور بعض باتیں استعارہ اور کنایہ کے پردہ میں ذکر کی جائیں، جیسے ہر لفظ کا مبہم ہونا ایک عیب ہے، اسی طرح ہر لفظ کا کنایہ و تشبیہ سے عاری ہونا بھی زبان کی خوبصورتی اور کشش کو مجروح کر دیتا ہے، نیز بعض دفعہ کلام میں ابہام سے اس کی معنویت دوبالا ہو جاتی ہے، یہ سب عربی زبان ہی کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ ہر زبان کے ادب میں اس کو ملحوظ رکھا گیا ہے، چنانچہ قرآن مجید میں بھی ایسی آیات ہیں، جن کا مفہوم بالکل واضح ہے اور جن کو خود قرآن میں “محکمات” سے تعبیر کیا گیا ہے، وہیں ایسی آیات بھی ہیں، جن میں تشبیہ و تمثیل سے کام لیا گیا ہے، یا جن میں ایک سے زیادہ معنوں کا احتمال ہے اور یہ احتمال و ابہام بھی معنوی اعتبار سے فائدہ سے خالی نہیں ہے، مثال کے طور پر قرآن نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لئے لباس سے تعبیر کیا ہے، لباس میں کئی خصوصیات ہیں:

  • لباس انسان کے لئے زینت اور وقار کا سبب ہے
  • لباس کے ذریعہ خارجی اثرات سے انسان کی حفاظت ہوتی ہے
  • لباس جسم کے عیوب کو ڈھانک دیتا ہے
  • لباس انسان کے جسم کا سب سے قریبی راز دار ہوتا ہے
  • لباس انسان کے وجود سے قریب تر شے ہوتی ہے

اب غور کیجیے! کہ اس ایک تشبیہ میں ازدواجی رشتہ کے کتنے تقاضوں کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے اور پھر تعبیر کی خوبصورتی اور اہل ذوق کے لیے اس کا لطف الگ رہا۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے وضو کے افعال پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا: ”وَامْسَحُوْا بِرُؤُسِکُمْ“ (مائدہ:6) آیت کے اس ٹکڑے میں سر پر مسح کرنے کا حکم ہے، اس میں “رؤس” پر “ب” داخل ہے، “ب” کے معنی عربی میں “بعض” کے آتے ہیں اور بعض صورتوں میں یہ زائد بھی ہوتی ہے، جس کا مقصد دو کلمات کو باہم مربوط کرنا ہوتا ہے، اس کا کوئی مستقل اور علیحدہ معنی نہیں ہوتا، اگر “ب” پہلے معنی میں ہو تو مقصد ہو گا کہ سر کے کچھ حصہ کا مسح کرو اور دوسری صورت میں پورے سر کا مسح مراد ہوگا، اب اس لفظ کی مناسب تشریح کے لیے لغت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے روشنی حاصل کرنی پڑتی ہے۔

پس قرآن مجید کی کچھ آیات تو بالکل واضح ہیں کہ عربی زبان سے واقفیت ان کو سمجھنے کے لیے کافی ہے؛ لیکن قرآن کی بہت سی تعبیرات میں ایک سے زیادہ معنوں کا احتمال بھی ہے، ایسے کلمات اور فقروں کی تشریح و توضیح کی ضرورت پیش آتی ہے، اسی کے لیے علم تفسیر کی ضرورت پیش آئی۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قرآن اللہ کی زمین پر اللہ کا دسترخوان ہے، اس سے جس قدر ہو سکے علم حاصل کرلو۔ اس سے معلوم ہوا کہ علم تفسیر گویا اللہ تعالیٰ کے دسترخوان سے فائدہ اٹھانا ہے، ایک اور حدیث میں ہے کہ اہل قرآن اہل اللہ اور اللہ کے خاص بندے ہیں، علما کے نزدیک یہاں “اہل اللہ” سے مراد مفسرینِ قرآن ہیں، اس سے علم تفسیر کی اہمیت و فضیلت معلوم ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *