دورِ ثانی کے کلیدی عہدہ داران
حضرت مولانا اعزاز علی امروہیؒ
۱۳۰۰ – ۱۳۷۴ھ / ۱۸۸۲ – ۱۹۵۵ء
حضرت مولانا اعزاز علی صاحب امروہیؒ، دارالعلوم دیوبند کے نہایت ممتاز فضلاء میں سے تھے۔ شیخ الادب والفقہ کے لقب سے شہرت پائی۔ عربی زبان و ادب کا خاص ذوق رکھتے تھے اور متعدد عربی کتب و حواشی تحریر فرمائے۔ دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کے صدر مفتی، استاذِ حدیث اور نائب ناظم تعلیمات رہے۔ آپ نے اپنی علمی و انتظامی صلاحیتوں سے دارالعلوم کی بے انتہا خدمت فرمائی۔

ابتدائی حالات
یکم محرم ۱۳۰۰ھ / ۱۰/ نومبر ۱۸۸۲ء کو بدایوں میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد جناب محمد مزاج علی صاحب امروہہ کے رہنے والے تھے اور ان دنوں ملازمت کے سلسلہ میں بدایوں مقیم تھے۔ آپ کی ابتدائی تعلیم شاہجہان پور میں ہوئی جہاں آپ کے والد ٹرانسفر ہو گئے تھے۔ وہی حافظ قرآن کی تکمیل کی۔ پھر نہم ضلع سیتا پور کے مدرسہ گلشن فیض کے صدر مدرس مولانا مقصود علی خان صاحب شاہجہان پوری سے شرح جامی تک کی کتابیں پڑھیں اور پھر شاہجہان پور کے مدرسہ عین العلم میں مولانا بشیر احمد صاحب اور حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب سے تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد میرٹھ کے مدرسہ قومی میں داخلہ لے کر مولانا عبدالمومن دیوبندی اور مولانا عاشق الہی میرٹھی سے کچھ کتابیں پڑھیں۔ پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے۔ یہاں ہدایہ، ابوداؤد، ترمذی اور بخاری حضرت شیخ الہند سے، فنون کی کتابیں حضرت مولانا غلام رسول ہزاروی اور حضرت مفتی عزیز الرحمن صاحب وغیرہ سے پڑھیں۔
۱۳۲۱ھ / ۱۹۰۳ء میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد حضرت شیخ الہند کے حکم سے مدرسہ نعمانیہ پورنی ضلع بھاگلپور (بہار) تشریف لے گئے اور تقریباً سات سال اس علاقہ میں درس دیتے رہے۔ پھر آپ شاہجہان پور تشریف لائے اور ایک مسجد میں افضل المدارس کے نام سے مدرسہ قائم کیا جس میں تقریباً تین سال آپ نے نہایت کامیابی کے ساتھ درس دیا۔
دارالعلوم میں
۱۳۳۰ھ / ۱۹۱۲ء میں آپ کا تقرر دارالعلوم دیوبند میں بحیثیت مدرس ہوا اور پہلے سال آپ کو عربی کی ابتدائی کتابیں علم الصیغہ اور نور الایضاح وغیرہ پڑھانے کے لیے دی گئیں۔ دارالعلوم کی روداد میں آپ کی نسبت لکھا ہے:
”حضرت مولانا اعزاز علی امروہیؒ صاحب طبقہٴ وسطیٰ و اخریٰ کے درمیانی فارغ التحصیل حضرات میں سے ہیں۔ چند جگہ مدرس رہے۔ آپ ایک نوجوان با استعداد اور صاحبِ صلاح و تقویٰ عالم ہیں، صورت و سیرہ اپنے سلف کی یادگار ہیں۔ علوم میں استعدادِ تام رکھتے ہیں، خصوصاً علمِ ادب میں خاص مہارت ہے، ابھی آپ نے حماسہ کا حاشیہ کیا ہے اور کنز الدقائق کا تحشیہ کر رہے ہیں، اس سے پہلے دیوانِ متنبی کا تحشیہ کر چکے ہیں۔ آپ دارالعلوم کے درجہٴ وسطیٰ میں درس دیتے ہیں، علمِ ادب کے اکثر اسباق آپ کے پاس رہتے ہیں، طلبہ کو عربی تحریر کی مشق بھی کراتے ہیں، خوش تقریر ہیں، طلبہ آپ سے نہایت مانوس ہیں۔“
۱۳۴۰ھ/۱۹۲۱ء میں جب حضرت مولانا حافظ محمد احمد صاحب کا ریاست حیدرآباد کے مفتیِ اعظم کے عہدہ پر انتخاب عمل میں آیا تو اپنی ضعیف العمری کی وجہ سے حضرت مولانا اعزاز علی صاحب کو اپنی معیت میں لے گئے، وہاں ایک سال قیام رہا۔ حضرت مولانا حافظ محمد احمد صاحب کے ساتھ ہی آپ دیوبند تشریف لائے۔
۱۳۴۷ھ/۱۹۲۸ء میں مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب کے بعد صدر مفتی دارالعلوم دیوبند کا عہدہ سونپا گیا جس پر آپ ۱۳۴۸ھ/۱۹۲۹ء تک فائز رہے۔ دوسری مرتبہ ۱۳۶۲ھ/۱۹۴۵ء میں آپ کو افتاء کا منصب تفویض کیا گیا جس پر ۱۳۶۶ھ/۱۹۴۷ء تک فائز رہے۔ آپ کے دورِ صدارت میں کل ۲۴۸۵۵ فتاویٰ لکھے گئے۔
انتظامی امور میں بھی آپ کی قابلیت مسلم تھی اور وقتاً فوقتاً ادارہٴ اہتمام کے ذریعہ آپ کی انتظامی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جاتا تھا۔ حضرت شیخ الاسلام کے عہدِ صدارت میں ۱۳۵۷ھ میں نائب ناظم تعلیمات بنائے گئے اور (درمیان میں ۱۳۶۴ھ تا ۱۳۶۷ھ کے علاوہ) تا حیات اس عہدہ پر قائم رہے۔ دارالاقامہ کی ذمہ داریاں بھی آپ سے متعلق رہیں۔ غرض آپ ایک بے نظیر استاد، منتظم، متبحر عالمِ دین اور جامع شخصیت تھے۔ دارالعلوم میں آپ کی علمی و انتظامی خدمات کا دور چالیس برس تک ممتد رہا۔
فقہ و ادب آپ کا خاص فن تھا، جس کی مہارت مشہورِ زمانہ ہے۔ آپ جب شروع میں دارالعلوم دیوبند تشریف لائے تو عربی کی ابتدائی کتابیں علم الصیغہ اور نور الایضاح وغیرہ آپ کو دی گئیں، مگر آپ کے درس نے بالآخر وہ مقبولیت حاصل کی کہ “شیخ الادب والفقہ” کے لقب سے مشہور ہوئے۔ عمر کے آخری دور میں کئی سال ترمذی جلد ثانی اور تفسیر کی بلند پایہ کتابیں پڑھائیں۔ حضرت مولانا مدنیؒ کی عدم موجودگی میں متعدد مرتبہ بخاری شریف کے پڑھانے کا بھی ان کو اتفاق پیش آیا۔ تعلیم کے ساتھ طلبہ کی تربیت اور نگرانی کا ان میں خاص ذوق تھا، جس سے طلبہ کو بے انتہا فائدہ پہنچا۔ آپ کی پابندیِ اوقات ضرب المثل تھی اور اوقاتِ درس کی پابندی میں اپنی نظیر آپ تھے، یہاں تک کہ بعض اساتذہٴ دارالعلوم نے درس میں وقت کی پابندی کا سبق حضرت شیخ الادب ہی سے سیکھا۔ تدریس کے ابتدائی دور سے آخر عمر تک منٹوں اور سیکنڈوں تک کی پابندی فرماتے رہے۔
بے نفسی اور تواضع میں اپنی مثال آپ تھے۔ بڑی سے بڑی کتابوں کے درس کے ساتھ چھوٹی سے چھوٹی کتاب پڑھانے میں کبھی آپ کو عار نہ ہوا تھا، ترمذی و بخاری کے درس کے ساتھ بچوں کو میزان الصرف، علم الصیغہ، نور الایضاح وغیرہ بھی پڑھاتے تھے۔ آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب طالب علم وہ ہوتا تھا جو یکسوئی کے ساتھ پڑھنے لکھنے میں لگا رہے اور سب سے زیادہ مبغوض وہ ہوتا تھا جو غیر تعلیمی مشاغل میں لگ کر پڑھنے میں تساہل کرے، خواہ وہ خود ان کی اولاد کیوں نہ ہو۔
تصنیفات و تالیفات
حضرت شیخ الادب کو جس طرح عربی نظم و نثر پر قدرت حاصل تھی، اسی طرح وہ اردو نظم و نثر میں بھی کامل دستگاہ رکھتے تھے۔ اردو نثر میں ان کا ایک خاص انداز تھا۔ آپ بہت اچھا شعری ذوق رکھتے تھے۔ آپ کے عربی زبان کے متعدد قصائد دارالعلوم کے ترجمان ماہنامہ القاسم میں شائع ہوتے رہے۔ آپ نے عربی و فارسی میں متعدد کتب و حواشی تحریر فرمائے، نیز اردو میں بعض کتابوں کا ترجمہ بھی فرمایا، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
(۱) عربی ادب میں نفحة اليمن کے معیار کے مطابق نفحة العرب کے نام سے ایک کتاب مرتب فرمائی تھی، جس میں حکایات و قصص اور اخلاقی مضامین بیان کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب عربی مدارس کے نصاب میں داخل کی گئی۔
(۲) شرح دیوان حماسه
(۳) حاشیه دیوان متنبی
(۴) حاشیه کنز الدقائق
(۵) حاشیه فارسی نور الایضاح
(۶) حاشیه عربی نور الایضاح
(۷) حاشیه عربی قدوری
(۸) محمود الروايه حاشیه شرح الوقایه لملا علی قاری
(۹) حاشیه شمائل ترمذی
(۱۰) حاشیه تلخیص المفتاح
(۱۱) حاشیه عروض المفتاح
(۱۲) قصیده لامیه مولانا حبیب الرحمن عثمانی کا ترجمه
(۱۳) علامه ابن حجر مکی کی کتاب الزواجر کا اردو ترجمه
(۱۴) مفید الطالبین وغیره
وفات
۱۴/ رجب ۱۳۷۴ھ / ۸/ مارچ ۱۹۵۵ء کو اس دارِ فانی سے رحلت فرمائی اور قبرستان قاسمی دیوبند میں مدفون ہوئے۔
مآخذ:
- تاریخ دارالعلوم دیوبند، دوم، ص ۲۵۱،۹۳ تا ۲۵۲
- مشاہیر علمائے دیوبند، اول، ۹۱ تا ۹۳
- فہرست کتب اکابر، کتب خانہ دارالعلوم دیوبند
- نقشِ اسباق، دارالعلوم دیوبند
