وحی کا مفہوم
وحی کے معنی: وحی کے لفظی معنی ”خفیہ طور پر جلدی سے اشارہ کرنے“ کے ہوتے ہیں اور ’ایحاء‘ بھی اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ جلدی سے کوئی اشارہ کرنا۔ خواہ وہ اشارہ رمز و کنایہ استعمال کر کے کیا جائے یا کوئی بے معنی آواز نکال کر خواہ کسی عضو کو حرکت دے کر یا تحریر و نقوش استعمال کر کے ہر صورت میں لغوی معنی کے طور پر یہ صادق آتے ہیں۔

وحی متلو اور وحی غیر متلو
وحی متلو اس وحی کو کہتے ہیں جس کی تلاوت کی جاسکے یعنی کہ قرآن کریم جس کا ایک ایک لفظ قیامت تک کے لیے اللہ تعالیٰ نے محفوظ کر دیا ہے اس میں کسی بھی طرح کا رد و بدل ممکن نہیں اس کا ایک نقطہ یا شوشہ بھی بدلا نہ جاسکے گا اور نہ جائے گا اس وحی کو علماء کی اصطلاح میں ”وحی متلو“ کہتے ہیں۔
وحی کی دوسری قسم وہ وحی جس کی تلاوت نہ کی جاسکے جو قرآن کریم کا حصہ نہیں۔ ایسی وحی جس کے ذریعہ آپ ﷺ کو بہت سارے احکامات عطا فرمائے گئے ہیں اس وحی کو وحی غیر متلو کہتے ہیں۔
وحی متلو یعنی کہ قرآن کریم میں اسلام کے اصولی قواعد اور بنیادی مسائل کی تشریح پر اکتفا کیا گیا اور ان تعلیمات کی تفصیل اور جزوی مسائل زیادہ تر وحی غیر متلو کے ذریعہ عطا کیے گئے اور یہ وحی غیر متلو صحیح احادیث کی شکل میں موجود ہے۔ ایک حدیث میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ”اُوْتِیْتُ الْقُرْاٰنَ وَمِثْلَہٗ مَعَہٗ“ (مجھے قرآن اور اس جیسی دوسری تعلیمات بھی دی گئی)۔
اس حدیث میں دوسری تعلیمات سے مراد وحی غیر متلو ہے جیسا کہ ہم تمام لوگوں کو معلوم ہے کہ بہت سارے ایسے مسائل ہیں یا ایسی باتیں ہیں جن کی تشریح ہمیں احادیثِ نبویہ سے حاصل ہوتی ہے اور ان کی تفصیل قرآن کریم میں موجود نہیں ہے مثلاً وضو کا مسئلہ، فرمایا گیا: ”یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ“ (مائدہ:7)۔ (اے ایمان والو جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو پہلے اپنے چہرہ کو دھو لو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک اور مسح کرو سر کا اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھو لو)۔
اس آیت کریمہ میں ایک مجرد حکم صادر فرما دیا گیا کہ نماز سے قبل یہ ساری چیزیں کر لو لیکن اس کی تشریح و تفصیل کے لیے ہمیں احادیث نبوی کا رخ کرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ تفصیل کہ بدن کے کس حصے کو کتنی بار اور کس طرح سے دھوئیں۔ ان سب احکامات کی تفصیل حدیث میں ملتی ہے۔
اسی طرح ایک اور مثال جس سے ہر مسلمان واقف ہے کہ نبی کریم ﷺ مدینہ طیبہ میں ایک عرصے تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے اور پھر حکم صادر ہونے کے بعد آپ نے بیت اللہ کی طرف رخ کیا۔ ارشاد فرمایا: ”وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَا اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ“ (البقرہ:143)۔ (اور جس قبلہ کی طرف آپ پہلے رخ کرتے تھے اسے ہم نے صرف اس لیے مقرر کیا تھا تاکہ یہ جان لیں کہ کون رسول کی اتباع کرتا ہے اور کون اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ جاتا ہے)۔
یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب آپ ﷺ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھ رہے تھے اور بیت اللہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہوا۔ اب اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم نے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کا حکم صرف اس لیے دیا تھا کہ یہ بات واضح ہو جائے کہ کون اس کے حکم کی تعمیل کرتا ہے اور کون نہیں۔ اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ اس امر کو اپنی جانب منسوب کرتا ہے کہ اس نے اس بات کا حکم دیا تھا کہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو تو اس بات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے کسی ایسی وحی کے ذریعہ حکم دیا تھا جو قرآن میں کہیں مذکور نہیں اور اس وحی کا نام غیر متلو ہے۔
ایک اور مثال ارشادِ ربانی ہے ”فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهٖ وَاَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَاَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ“ (تحریم:3)۔ (پس جب اس [عورت] نے آپ ﷺ کو اس کی خبر دی اور اللہ نے اس کو آپ پر ظاہر کر دیا)۔
اس آیت کی مختصر تشریح یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضورؐ کو وہ باتیں وحی کے ذریعہ بتلا دیں جو آپ کی زوجہ مطہرہ نے چھپائی تھی۔ جب آپ نے ان کو یہ بات واضح کر دی تو اس پر انہوں نے آپ سے پوچھا کہ یہ بات آپ کو کس نے بتلائی تو آپ نے فرمایا کہ یہ بات مجھے علیم و خبیر اللہ تعالیٰ نے بتلائی ہے۔ حالانکہ یہ بات پورے قرآن کریم میں کہیں بھی ذکر نہیں ہے اس کو وحی غیر متلو کہتے ہیں۔
