دورِ ثانی کے کلیدی عہدہ داران
حضرت مفتی عزیزالرحمن عثمانی دیوبندیؒ
۱۲۷۵ – ۱۳۴۷ھ / ۱۸۵۸ – ۱۹۲۸ء
حضرت مفتی عزیزالرحمن عثمانی دیوبندیؒ دارالعلوم دیوبند کے مفتیِ اعظم، نائب مہتمم، ذی استعداد عالمِ دین اور صاحبِ نسبت بزرگ تھے۔ آپ نے تدریس کے علاوہ فتاویٰ نویسی کے خدمات انجام دیں اور دارالافتاء دارالعلوم کو علمی و دینی حلقوں میں وقار و اعتبار بخشا۔ مطبوعہ مکمل و مدلل فتاویٰ دارالعلوم دیوبند آپ ہی کے فتاویٰ کا مجموعہ ہے جو مکررات کو حذف کرنے کے بعد اٹھارہ جلدوں میں چھپ چکا ہے۔ آپ علم و عمل، اخلاق و ملکات، معرفت و بصیرت اور فقاہت و درایت کی بے مثال شخصیتوں میں سے ایک بلند پایہ شخصیت تھے جنھوں نے دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء کو زینت بخشی۔

ابتدائی حالات
حضرت مفتی صاحب کا سالِ ولادت ۱۲۷۵ھ / ۱۸۵۸ء ہے، تاریخی نام ظفر الدین رکھا گیا۔ آپ کے والدِ ماجد حضرت مولانا فضل الرحمن عثمانی ہیں جو دارالعلوم کی بنیاد و قیام میں شریک رہے۔ ۱۲۸۲ھ / ۱۸۶۷ء کے اواخر میں جب دارالعلوم میں درجہٴ قرآن شریف جاری کیا گیا تو حضرت مفتی صاحب کو درجہٴ قرآن میں داخل کر دیا گیا۔ شعبان ۱۲۸۵ھ میں انہوں نے نصف قرآنِ مجید کے حفظ کا امتحان دیا اور ۱۲۸۷ھ میں پورا قرآن شریف حفظ کر لیا۔ اس وقت درجہٴ قرآن شریف کے استاد حافظ نامدار خاں صاحب تھے۔ ۱۲۹۵ھ / ۱۸۷۸ء میں انہوں نے بخاری شریف و مسلم شریف اور شرحِ عقائد کا امتحان دے کر دارالعلوم سے فراغت حاصل کی۔ اس وقت حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتوی، حضرت مولانا سید احمد دہلوی، حضرت شیخ الہند اور مولانا عبد العلی رحمہم اللہ تعالیٰ دارالعلوم کے نمایاں اساتذہ تھے۔ ۱۲۹۸ھ / ۱۸۸۱ء کے جلسہٴ دستار بندی میں آپ کو سند و دستار حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کے دستِ مبارک سے عطا ہوئی۔
فراغتِ تعلیم کے بعد کچھ عرصے دارالعلوم میں معین المدرس رہے اور اس کے ساتھ فتاویٰ نویسی کی خدمات بھی انجام دیتے رہے۔ پھر آپ کو میرٹھ بھیج دیا گیا، وہاں مدرسہ اسلامیہ اندر کوٹ میں کئی سال تک درس و تدریس میں مصروف رہے۔ ۱۳۰۹ھ میں اکابرِ دارالعلوم نے نائب مہتمم کے عہدے کے لیے ان کا انتخاب کیا۔ پھر ایک سال کے بعد ان کو مفتی و مدرس دارالعلوم مقرر کیا گیا۔ رودادِ دارالعلوم (۱۳۳۳ھ) میں لکھا ہے:
”مولوی عزیز الرحمن صاحب نے فراغت کے بعد بطورِ معین المدرسین دارالعلوم میں درس دیا اور حضرت مولانا یعقوب کی نگرانی میں افتاء کا کام بھی کیا۔ اسی زمانہ میں ان کو داعیہٴ طریقت پیدا ہوا، خاندانِ نقشبندیہ میں حضرت مولانا رفیع الدین کے ہاتھوں پر بیعت کی، چند سال ریاضت و مجاہدات کے بعد اجازت حاصل ہوئی۔ چند سال تک میرٹھ کے مدرسہ اسلامیہ واقع اندر کوٹ میں مدرس رہے، اس زمانے میں آپ کو دوبارہ حج کا شوق پیدا ہوا، اس سفر میں آپ کا حج کے ساتھ یہ بھی مقصد تھا کہ شیخ المشائخ حضرت حاجی امداد اللہ قدس سرہ کی خدمت میں قیام فرمائیں۔ چنانچہ ڈیڑھ سال آپ کا اس سفر میں صرف ہوا اور حضرت حاجی امداد اللہ صاحب نے بھی آپ کو مجاز فرمایا۔ شوال ۱۳۰۵ھ میں تشریف لے گئے تھے اور صفر ۱۳۰۷ھ میں واپس تشریف لائے۔ ۱۳۰۹ھ مطابق ۱۸۹۱ء میں آپ کو میرٹھ سے دیوبند بلا لیا گیا، اس وقت سے برابر دارالعلوم کی خدمت میں مصروف رہے۔“
مسندِ افتاء پر
دارالعلوم نے استفتاءات کی کثرت کی وجہ سے ۱۳۱۰ھ / ۱۸۹۲ء میں دارالافتاء قائم کیا اور فتاویٰ نویسی کی خدمات مستقل طور پر حضرت مفتی عزیز الرحمن کو سونپی گئیں۔ مفتی صاحب نے اس فریضہ کو حسن و خوبی انجام دیا۔ حضرت مفتی صاحب بڑے اہم اور معرکۃ الآراء استفتاءات کا جواب قلم برداشتہ اور مراجعتِ کتب کے بغیر بلا تکلف تحریر فرما دیا کرتے تھے۔ چالیس سال کے قریب آپ نے دارالعلوم کے دارالافتاء کی خدماتِ جلیلہ انجام دیں۔ اس دور میں بے شمار ایسے مشکل فتاویٰ بھی لکھے جو نہ صرف فتاویٰ بلکہ معرکۃ الآراء مہمات میں محاکمہ کی حیثیت رکھتے ہیں، مگر صرف چند لفظوں میں ان کا جواب تحریر فرما دیتے تھے۔ سفر میں دارالافتاء کی ڈاک ساتھ رہتی تھی، مراجعتِ کتب کے بغیر محض حذاقت و مہارت اور کمالِ استعداد سے بے تکلف فتاویٰ تحریر فرماتے رہتے تھے، نصوصِ فقہ اکثر و بیشتر حفظ یا درستی تھیں۔
آپ کے فتاویٰ کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مختصر ہونے کے ساتھ ساتھ عام فہم بھی ہوتے تھے۔ فتاویٰ کی زبان سہل اور سلیس ہوتی تھی، یہ ایسی خصوصیت ہے جو اس دور کے فتاویٰ میں اور کہیں نہیں پائی جاتی۔ فتاویٰ نویسی میں حضرت مفتی صاحب کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی تھی کہ وہ زمانے کے تقاضوں سے کبھی صرفِ نظر نہیں کرتے تھے۔ اس پر ان کی نظر بہت گہری پڑتی تھی اور کسی مسئلہ کے مختلف مفتی بہ پہلو ہوتے تو ایسے موقع پر وہ آسان پہلو کو اختیار کرتے اور اسی پر فتویٰ دیتے تھے، ایسی صورت ہرگز اختیار نہیں کرتے جو عوام کے لیے مشکلات پیدا کرنے والی ہو، ان کے فتاویٰ میں جا بجا اس کی مثالیں موجود ہیں۔ آپ کے فتاویٰ کی یہ خصوصیت بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ آپ کے فتاویٰ ہند و بیرونِ ہند میں مسلمانوں کے معاملات و عبادات و اعتقادات میں فیصلہ کن سمجھے جاتے ہیں۔
فتویٰ نویسی علومِ شرعیہ میں بڑا مشکل کام ہے، اس کام میں حالات کے بدلنے سے جس قدر نزاکتیں پیدا ہو جاتی ہیں ان کو صرف اہل علم ہی سمجھ سکتے ہیں۔ یوں تو فتاویٰ ہر زمانے میں لکھے گئے ہیں۔ مگر فتاویٰ نویسی کا جو کمال حضرت مفتی صاحب کو حاصل تھا، وہ کم ہی دوسروں میں نظر آتا ہے۔ ۱۳۱۰ھ / ۱۸۹۲ء سے ۱۳۲۹ھ / ۱۹۱۱ء تک حضرت مفتی صاحب نے جو فتاویٰ تحریر فرمائے ہیں افسوس ہے کہ ان کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ ۱۳۳۰ھ / ۱۹۱۲ء سے ۱۳۴۶ھ / ۱۹۲۷ء تک کے فتاویٰ کی تعداد بیالیس ہزار سے زائد ہے۔ مذکورہ بالا تعداد صرف وہ ہے جس کا ریکارڈ محفوظ ہے۔ حضرت مولانا محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند کے ایک سرسری اندازے کے مطابق حضرت مفتی صاحب کے فتاویٰ کی تعداد ایک لاکھ اٹھارہ ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ان کا یہ زبردست کارنامہ عظیم الشان دینی خدمت ہے۔ ۱۳۳۳ھ سے ۱۳۴۲ھ تک کے فتاویٰ کو فتاویٰ دارالعلوم دیوبند کے عنوان سے اٹھارہ جلدوں میں فقہی ترتیب کے لحاظ سے مرتب کر کے دارالعلوم کی جانب سے شائع کیا جا چکا ہے۔
اخلاق و اوصاف
حضرت مفتی صاحب صرف عالم اور مفتی ہی نہیں تھے بلکہ عارف باللہ اور صاحبِ باطن بزرگ تھے۔ بیعت و ارشاد کا سلسلہ بھی مستقلاً قائم تھا اور ہزارہا بندگانِ خدا اطرافِ ہندوستان سے آپ کی باطنی تلقین و تربیت سے فیضیاب ہو کر مراد کو پہنچے۔ علم وفضل کے ساتھ تواضع و کسرِ نفسی آپ کا خاص رنگ تھا، جو چھوٹی چھوٹی جزئیات تک میں نمایاں ہوتا تھا۔ روزانہ کا معمول تھا کہ بعدِ نمازِ عصر محلہ کے آس پاس کے گھروں کے دروازوں پر جا کر پوچھتے کہ بازار سے کسی کو کچھ سودا سلف منگوانا ہو تو بتلا دے۔ حضرت مفتی صاحب سب کے پیسے لے لیتے اور بازار جا کر ایک ایک کا فرمائشی سودا خریدتے، کسی کا نمک، کسی کی مرچ، کسی کا دھنیا؛ اور یہ سب سامان رومال کے الگ الگ کونوں میں باندھ کر خود ہی لاتے۔ یہ بھی گوارا نہ کرتے کہ اس بوجھ کو کوئی دوسرا اٹھائے، خود ہی یہ سامان اپنے کندھوں پر لادتے، بعض اوقات بوجھ سے دہرے ہو جاتے تھے، مگر کسی حالت میں گوارا نہ تھا کہ اسے دوسرے کے حوالے فرما کر کچھ ہلکے ہو جائیں۔ پھر خود ہی گھر گھر جا کر یہ اشیاء فرمائش کنندوں کے سپر فرماتے۔ بے نفسی اور خدمتِ خلق کے اس عمل میں ان کو کبھی تصور بھی نہ ہوتا تھا کہ میں کوئی خدمت کر رہا ہوں یا کوئی بڑا عمل ہے جو میرے ہاتھوں انجام پا رہا ہے، یا میں کسرِ نفسی کا کوئی عظیم کارنامہ انجام دے رہا ہوں۔
ان عملی مجاہدات کے ساتھ درس کی علمی باریک بینیاں مستزاد تھیں۔ افتاء کے ساتھ درس کا شغل مستقل رہتا تھا۔ فقہ، حدیث اور تفسیر کے اونچے اسباق آپ کے یہاں ہوتے تھے۔ بڑی بڑی اہم تحقیقات جو آپ کے ذہنِ رسا کی پیداوار ہوتی تھیں کبھی بھی اپنی طرف منسوب کر کے دعوے کا انداز اختیار نہیں کرتے بلکہ بطورِ احتمال ارشاد فرماتے اور تقریر کے ضمن میں کہتے کہ اس مسئلہ میں ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے، حالاں کہ وہ ان کی تحقیق ہوتی تھی مگر بھی یہ نہیں فرماتے تھے کہ اس مسئلے میں میری رائے اور تحقیق یہ ہے۔ غور کیا جائے تو یہ مقامِ اس علمی خدمت اور عملی بے نفسی کے مقام سے بھی زیادہ بلند اور نازک تر ہے جہاں تک پہنچنا ہر کسی کا حوصلہ نہیں۔ علمی دقائق خود اپنا ذہن پیش کرے اور اس ذہن کو کبھی آگے نہ لایا جائے، بے نفسی اور فنا کا یہ نہایت ہی اونچا مقام ہے اور اسی کو میسر آسکتا ہے جس کے رگ و پے میں تواضع اور کسرِ نفسی سمائی ہو۔
۱۳۴۶ھ / ۱۹۲۷ء میں حضرت علامہ انور شاہ کشمیری صاحب کے ساتھ حضرت مفتی صاحب بھی دارالعلوم سے مستعفی ہو گئے تھے۔ ۱۳۴۷ھ / ۱۹۲۸ء میں حضرت شاہ صاحب کی علالت کے باعث جب دیوبند تشریف لائے تو بخاری شریف کے چودہ پارے باقی تھے۔ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل کے ذمہ داروں کے اصرار پر حضرت مفتی صاحب ہی ربیع الثانی ۱۳۴۷ھ میں ڈابھیل تشریف لے گئے اور بخاری شریف کا درس شروع کرا دیا اور صرف ڈیڑھ ماہ کی قلیل مدت میں بخاری شریف کے باقی ماندہ چودہ پارے ختم کرا دیے۔
وفات
جمادی الثانیہ ۱۳۴۷ھ / ۱۹۲۸ء کے اوائل میں آپ دیوبند تشریف لائے۔ راستے میں طبیعت علیل ہو گئی، دیوبند پہنچنے پر علاج شروع ہوا مگر افاقہ نہ ہو سکا، وقتِ موعود آچکا تھا، بالآخر ۷/ جمادی الثانیہ ۱۳۴۷ھ مطابق ۲۰/ نومبر ۱۹۲۸ء کی شب میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ اگلے دن حضرت مفتی صاحب کی نمازِ جنازہ ہوئی اور دارالعلوم کے قبرستان میں سپردِ خاک کیے گئے۔
مآخذ:
تاریخ دارالعلوم دیوبند، دوم، ص ۲۴۵ تا ۲۴۸، ۲۵۰ تا ۲۵۱
