حضرت مولانا علامه محمد انور شاہ کشمیریؒ
۱۲۹۲-۱۳۵۲ھ / ۱۸۷۵-۱۹۳۳ء
حضرت مولانا علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ کی مبارک ہستی نہ کسی تعارف کی محتاج ہے اور نہ کسی تعریف کی دست نگر۔ ان کی حقیقی تاریخ ان کے تلامذہ اور مآثر علمی کی صورت میں ہمہ وقت نمایاں اور چشم دید ہے۔ اس امت مرحومہ میں لاکھوں علماء وفضلاء پیدا ہوئے اور اپنے نورانی آثار دنیا کے لیے چھوڑ گئے لیکن ایسی ہستیاں معدودے چند ہیں جن کا فیض عالم گیر اور محبوبیت عام قلوب کی امانت ہوا اور جن کے علم کے ساتھ ساتھ عمل سے بھی امت نے استفادہ کیا ہو۔ حضرت امام العصر علامہ انور شاہ صاحب کی ہستی ان ہی مبارک اور معدودے چند ہستیوں میں سے ایک ممتاز ہستی ہے جو صدیوں میں پیدا ہوتی ہے اور صدیوں کو علم وفضل سے نگین کر جاتی ہے۔ حضرت کا علم اگر متقدمین کی یاد تازہ کرتا تھا تو ان کا عمل سلف صالحین کو زندہ کیے ہوا تھا۔ علم، حافظہ، تقویٰ وطہارت اور زہد وقناعت مثالی تھی۔ علمی حیثیت سے ان کے تلامذہ ان کو چلتا پھرتا کتب خانہ کہا کرتے تھے۔

ابتدائی حالات
حضرت شاہ صاحب لولاب کشمیر کے رہنے والے تھے۔ ۲۷/ شوال ۱۲۹۲ھ مطابق نومبر ۱۸۷۵ء کو سادات کے ایک معزز علمی خاندان میں آپ کی ولادت ہوئی۔ یہ خاندان اپنے علم وفضل کے لحاظ سے کشمیر بھر میں ممتاز خاندان سمجھا جاتا ہے۔ ساڑھے چار سال کی عمر میں اپنے والدِ بزرگوار مولانا سید معظم شاہ سے قرآن مجید شروع کیا۔ غیر معمولی ذہانت وذکاوت اور بے پناہ قوتِ حافظہ ابتدا ہی سے عمر سے موجود تھی، چنانچہ چھ ڈیرھ سال کی قلیل مدت میں کتاب اللہ کے ساتھ فارسی کی چند ابتدائی کتابیں ختم کر کے علومِ متداولہ کی تحصیل میں مشغول ہو گئے۔ ابھی بمشکل ۱۴/ سال کی عمر تھی کہ حصولِ علم کے جذبہٴ بے پایاں نے ترکِ وطن پر آمادہ کر دیا، تقریباً تین سال ہزارہ کے مدارس میں رہ کر مختلف علوم وفنون میں دسترس حاصل کی مگر دیوبند کی شہرت نے مزید تکمیل کے لیے بے چین بنا دیا۔ چنانچہ ۱۳۱۱ھ / ۱۸۹۳ء میں دیوبند تشریف لائے، حضرت شیخ الہند مسندِ صدارت پر متمکن تھے۔ استاذ نے شاگرد کو شاگرد نے استاذ کو پہلی ہی ملاقات میں پہچان لیا، کتبِ موقوف علیہ کے بعد حدیث وتفسیر کی کتابیں شروع کیں اور چند ہی سال میں دارالعلوم دیوبند میں شہرت ومقبولیت کے ساتھ ایک امتیازی شان حاصل کی، پھر ۱۳۱۲ھ تک حدیث وتفسیر اور فنون کی اعلیٰ کتابوں سے فارغ ہو کر حضرت گنگوہیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سندِ حدیث کے علاوہ باطنی فیوض سے بھی مستفیض ہوئے۔ حضرت گنگوہیؒ سے آپ کو شرفِ خلافت بھی حاصل ہوا۔
دارالعلوم سے فراغت کے بعد آپ نے مدرسہ امینیہ دہلی میں کچھ دنوں فرائضِ تدریس انجام دیے، ۱۳۲۰ھ مطابق ۱۹۰۳ء میں کشمیر چلے گئے۔ وہاں اپنے علاقے میں فیضِ عام کے نام سے ایک مدرسہ قائم کیا۔ ۱۳۲۳ھ مطابق ۱۹۰۵ء میں حج بیت اللہ کے لیے تشریف لے گئے، کچھ مدت حجاز میں قیام رہا اور وہاں کے کتب خانوں سے استفادہ کا موقع ملا۔ ۱۳۲۷ھ مطابق ۱۹۰۹ء میں آپ دیوبند تشریف لائے، حضرت شیخ الہندؒ نے آپ کو یہاں روک لیا۔ ۱۳۳۳ھ مطابق ۱۹۱۵ء کے اواخر میں جب شیخ الہند نے سفرِ حجاز کا قصد کیا تو اپنی جانشینی کا فخر شاہ صاحب کو بخشا، دارالعلوم کی مسندِ صدارت پر تقریباً بارہ سال تک جلوہ افروز رہے۔ ۱۳۴۶ھ مطابق ۱۹۲۷ء کے اوائل میں اہتمامِ دارالعلوم سے بعض اختلافات کے باعث آپ فرائضِ صدارت سے دست کش ہو کر گجرات کے مدرسہ ڈابھیل میں تشریف لے گئے اور ۱۳۵۱ھ مطابق ۱۹۳۲ء تک وہاں درسِ حدیث کا مشغلہ جاری رہا۔
ایک با کمال شخصیت
اگر حضرت شیخ الہندؒ نے دارالعلوم کا غلغلہ چار دانگِ عالم میں بلند کیا تو حضرت شاہ صاحب نے مسندِ تدریس پر رونق افروز ہو کر عالمِ اسلام کو علمِ دین کی روشنی سے منور کر دیا۔ وہ علمِ حدیث میں عدیم النظیر محدث، علومِ فقہ میں فقیہِ اعظم، اتباعِ شریعت میں صلحائے سلف کا نمونہ تھے، تو معرفتِ الٰہی میں جنیدِ وقت اور شبلیِ عصر؛ ان کا وجود اسلام اور مسلمانوں کے لیے موجبِ تقویت تھا، اسلامی دنیا نے اس قدر وسیع العلم اور باعمل عالم بہت کم پیدا کیے ہیں، شاہ صاحبؒ اگر ایک طرف اپنے معاصرین میں متبحر علمی کے لحاظ سے عدیم النظیر تھے تو دوسری جانب زہد و تقویٰ میں بھی ان کی ذات بے مثل تھی۔ وہ ایک باکمال مفسر، محدث اور فلسفی تھے۔ آدمی کا ایک کمال کا ہونا بھی کم نہیں ہوتا مگر ان کی دستارِ کمال میں متعدد لعل آمیزاں تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے وجود سے علمی دنیا میں ایک انقلاب پیدا ہو گیا تھا، تشنہ گانِ علوم کی جس کثیر تعداد نے اس بحر العلوم سے سیرابی حاصل کی وہ آپ اپنی مثال ہے۔ مشرق ووسطیٰ سے لے کر چین تک ان کے فیضانِ علم کا سیلاب موجیں مارتا رہا اور ہند و بیرونِ ہند کے ہزاروں تشنہ گانِ علوم نے اس سے اپنی پیاس بجھائی۔ غیر منقسم ہندوستان، عرب، ایران، عراق، افغانستان، چین، مصر، جنوبی افریقہ، انڈونیشیا اور ملیشیا میں بکثرت آپ کے تلامذہ پھیلے ہوئے ہیں۔ دارالعلوم میں آپ کے زمانہٴ قیام میں ۸۰۹ طلبہ نے دورہٴ حدیث سے فراغت حاصل کی۔
حضرت شاہ صاحب کو قدرت کی جانب سے ایسا عدیم النظیر حافظہ بخشا گیا تھا کہ ایک مرتبہ کی دیکھی ہوئی کتاب کے مضامین ومطالب تو درکنار عبارتیں تک مع صفحات وسطور کے یاد رہتی تھیں، جو بات ایک مرتبہ کان یا نگاہ کے راستے سے دماغ میں پہنچ گئی وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتی تھی، اور دورانِ تقریر بے تکلف حوالے پر حوالے دیتے چلے جاتے تھے۔ اس کے ساتھ مطالعے کا اس قدر شوق تھا کہ جملہ علوم کے خزانے ان کے دامنِ جستجو کو مستغنی اور مطمئن اور تشنہٴ علم کو سیراب نہ کر سکتے تھے۔ کثرتِ مطالعہ اور قوتِ حافظہ کے باعث گو یا ایک متحرک کتب خانہ تھے۔
صحاحِ ستہ کے ساتھ ساتھ اکثر کتابیں تقریباً نوکِ زبان تھیں۔ تحقیقِ طلب مسائل جن کی جستجو وتحقیق میں عمریں گزر جاتی ہیں سائل کے استفسار پر چند لمحوں میں اس قدر جامعیت کے ساتھ جواب دیتے تھے کہ اس موضوع پر مسائل کو نہ تو شبہ باقی رہتا تھا اور نہ کتاب دیکھنے کی ضرورت، پھر مزید لطف یہ کہ کتابوں کے ناموں کے ساتھ صفحات وسطور تک کا حوالہ بھی بتلا دیا جاتا تھا۔ وہ ہر ایک علم وفن پر اس طرح برجستگی کے ساتھ تقریر فرماتے تھے گویا ان کو تمام علوم مختصر ہیں، دورانِ تقریر بے شمار کتابوں کے حوالے بلا تکلف دیتے چلے جاتے تھے، حتیٰ کہ اگر کسی کتاب کے پانچ پانچ اور دس دس حواشی ہوتے تو ہر ایک کی عبارت بقیدِ صفحہ و سطر یاد ہوتی تھی۔ احادیث کا تمام ذخیرہ اور ان کی صحت وعدمِ صحت کے متعلق طویل وعریض بحثیں، رواۃ کے مدارج ومراطب نوکِ زبان تھے، مشہور ومعروف کتب خانوں کے اکثر مخطوطات نظر سے گزر چکے تھے، اور ہر طرح حافظے میں موجود تھے گویا آج ہی ان کا مطالعہ کیا ہے۔
آپ کا مطالعہ محض علومِ شرعیہ تک ہی محدود نہ تھا بلکہ جس فن کی بھی کتاب ہاتھ میں آتی اس کا شروع سے آخر تک ایک مرتبہ مطالعہ ضرور فرما لیتے تھے اور جب بھی اس کے متعلق بحث چھڑ جاتی تو اس کتاب کے مندرجات کو اس طرح حوالوں کے ساتھ بیان فرما دیتے کہ سننے والے حیران وششدر رہ جاتے۔ ایک مرتبہ کسی شخص نے علمِ جفر کے مشکل ترین مسائل حل کرنے کے لیے پیش کیے شاہ صاحب نے حسبِ معمول برجستہ جوابات کے ساتھ متعدد کتب کے حوالے دے کر بتلا دیا کہ فلاں فلاں کتابوں کی جانب رجوع کیا جائے۔
شاہ صاحب کا حافظہ غضب کا تھا، شیخ ابن ہمام کی مشہور کتاب فتح القدیر جو آٹھ ضخیم جلدوں میں ہے اس کا مطالعہ ۲۰/ دن میں اس طرح کیا تھا کہ فتح القدیر کی کتاب الحج کی تنقیص بھی ساتھ ساتھ کرتے گئے تھے، اور ابن ہمام نے صاحبِ ہدایہ پر جو اعتراضات کیے ہیں ان کے جوابات بھی لکھتے گئے۔ ایک مرتبہ دورانِ درس فرمایا کہ اب سے ۲۶/ سال پہلے میں نے فتح القدیر کا مطالعہ کیا تھا، اب تک دوبارہ دیکھنے کی ضرورت پیش نہیں آئی اور آج بھی اس کا جو مضمون اور بحث پیش کروں گا اگر تم مراجعت کرو گے تو تفاوت بہت کم پاؤ گے۔ یہ ایک واقعہ ہے، اس طرح کے واقعات ان کی زندگی میں بے شمار ہیں۔
شاعرِ مشرق علامہ اقبال مرحوم کو شاہ صاحب سے بڑا تعلق تھا اور اکثر علمی مباحث میں ان سے رجوع کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اسلامی مسائل کی تدوینِ جدید کے لیے شاہ صاحب سے بہتر کوئی دوسرا شخص نہیں ہے۔ علامہ اقبال مرحوم کو اپنی زندگی کے آخری ایام میں اسلام سے شغف پیدا ہو گیا تھا، اس میں شاہ صاحب کے فیضانِ صحبت کو بھی بڑا دخل حاصل ہے، علامہ موصوف نے اسلامیات میں شاہ صاحب سے بہت کچھ استفادہ کیا تھا، چنانچہ علامہ اقبال مرحوم آپ کا بے حد احترام کرتے تھے اور عقیدت ومحبت کے جذبات کے ساتھ شاہ صاحب کی رائے کے آگے سرِتسلیم خم کر دیتے تھے۔
علومِ نقلیہ وعقلیہ کے علاوہ تصوف پر بھی ان کی نظر متبحرانہ تھی، مولانا سید سلیمان ندویؒ نے شاہ صاحب کی وفات پر ’معارف‘ میں لکھا تھا:
”ان کی مثال اس سمندر کی سی تھی جس کی اوپر کی سطح ساکن لیکن اندر کی سطح موتیوں کے گراں قیمت خزانوں سے معمور ہوتی ہے وہ وسعتِ نظر قوتِ حافظہ اور کثرتِ حفظ میں اس عہد میں بے مثال تھے، علومِ حدیث کے حافظ و نکتہ شناس، علومِ ادب میں بلند پایہ، معقولات میں ماہر، شعر و سخن سے بہرہ مند اور زہد وتقویٰ میں کامل تھے، مرتے دم تک علم ومعرفت کے اس شہید نے قال الله وقال الرسول کا نعرہ بلند رکھا۔“
مصر کے مشہور زمانہ عالم سید رشید رضا جب دیوبند تشریف لائے اور شاہ صاحب سے ان کی ملاقات ہوئی تو بے ساختہ بار بار کہتے تھے: ”ما رأيت مثل هذا الأستاذ الجليل“ میں نے اس جلیل القدر استاد جیسا کوئی عالم نہیں دیکھا۔ بہر حال دارالعلوم کی یہ خوش قسمتی تھی کہ حضرت شیخ الہند کے بعد صدارتِ تدریس کا کام آپ کے سپرد ہوا، بقول مولانا سید مناظر احسن گیلانیؒ آپ کے زمانے میں طلبہ کی استعداد میں بڑا انقلاب ہوا اور اچھے اچھے مستعد طلبہ آپ کے حلقہٴ درس سے مستفید ہو کر اٹھے۔
ملکی سیاست میں شاہ صاحب اپنے استاذ حضرت شیخ الہند کے مسلک کے پیروکار تھے، مسلمانوں میں صحیح اسلامی زندگی پیدا کرنا علماء کا اولین فریضہ سمجھتے تھے، جمعیۃ علمائے ہند کے آٹھویں سالانہ اجلاس منعقدہ پشاور کا بصیرت افروز خطبہٴ صدارت اس کا روشن ثبوت ہے۔
حضرت تھانویؒ نے فتح الخبیر کی تقریظ میں لکھا ہے: ”میرے نزدیک اسلام کی حقانیت کی بہت سی دلیلوں میں سے ایک دلیل حضرت مولانا انور شاہ کا وجود بھی ہے۔ اگر اسلام میں کوئی کمی ہوتی تو مولانا انور شاہ یقیناً اسلام کو ترک کر دیتے“۔
حضرت شاہ صاحب کی وفات پر حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی نے تعزیتی تقریر میں فرمایا تھا کہ: ”مجھ سے اگر مصر وشام کا کوئی آدمی پوچھتا کہ کیا تم نے حافظ ابن حجر عسقلانی، شیخ تقی الدین بن دقیق العید اور سلطان العلماء شیخ عز الدین بن عبدالسلام کو دیکھا ہے؟ تو میں استعارہ کر کے کہہ سکتا تھا کہ ہاں! دیکھاہے کیونکہ صرف زمانے کا تقدم وتاخر ہے، اگر شاہ صاحب بھی چھٹی یا ساتویں صدی میں ہوتے تو ان خصوصیات کے حامل ہونے کی وجہ سے ان کے ہی مرتبہ میں ہوتے“۔
معروف تلامذہ
حضرت شاہ صاحب نے ایک ہزار سے زائد علماء کو درسِ حدیث دیا اور جن میں ممتاز تلامذہ میں برصغیر کے درج ذیل مشاہیر علماء کے نام شامل ہیں: حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی، حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی، مولانا سید بدر عالم میرٹھی، مولانا مناظر احسن گیلانی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، علامہ محمد یوسف بنوری، مولانا عبدالقادر رائے پوری، مولانا عبد الرحمن کامل پوری، مولانا مفتی عتیق الرحمن عثمانی، مولانا حامد الانصاری غازی، مولانا سعید احمد اکبر آبادی، مولانا حمید الدین فیض آبادی، مولانا محمد میاں صاحب دیوبندی، مفتی محمد نعیم لدھیانوی، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، مولانا منظور احمد نعمانی وغیرہہم رحمہم اللہ تعالیٰ۔
تصنیفات وتالیفات
حضرت علامہ کشمیریؒ نے متعدد علمی و تحقیقی تصانیف یادگار بھی چھوڑی ہیں۔ درسِ حدیث کی تقریر کی جامعیت کا اندازہ فیض الباری سے کیا جا سکتا ہے جو صحیح بخاری کی تقریر ہے اور چار ضخیم جلدوں میں شائع ہو چکی ہے اور بخاری کی مشہور شروح میں سے ایک ہے۔ ترمذی کی شرح معارف السنن بھی آپ کی درسی تقریر کا مجموعہ ہے۔ آپ کی کتاب مشکلات القرآن اپنے موضوع پر ایک نادر اور بے مثال کتاب سمجھی جاتی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی فتنے انگیز تحریک کے خلاف حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ اور ان کے لائق شاگردوں کی علمی وعملی مساعی قابلِ صد تحسین ہیں۔ ان حضرات نے ختمِ نبوت، تکفیر اور دیگر اسلامی فکری موضوعات پر قابلِ قدر مواد اکٹھا کر دیا اور علمی طور پر قادیانیت کو لاجواب کر دیا۔ مختلف اسلامی مباحث پر عربی اور فارسی میں ایک درجن سے زائد تصانیف جو نہایت معرکۃ الآراء مسائل پر مشتمل ہیں زیورِ طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں۔
ذیل میں آپ کی کچھ کتابوں کا نام ذکر کیا جاتا ہے:
(۱) فیض الباری شرح بخاری
(۲) عرف الشذی علی جامع الترمذی
(۳) مشکلات القرآن
(۴) نیل فرقدین فی مسئلہ رفع الیدین
(۵) بسط الیدین لنيل الفرقدین
(۶) فصل الخطاب فی مسئلہ ام الکتاب
(۷) ضرب الخاتم علی حدوث العالم
(۸) خزائن الاسرار
(۹) اکفار الملحدین
(۱۰) التصریح بما تواتر فی نزول المسیح
(۱۱) تحیة الاسلام فی حیاة عیسیٰ علیہ السلام
(۱۲) عقیدة الاسلام فی حیاة عیسیٰ علیہ السلام
(۱۳) خاتم النبیین
(۱۴) کشف الستر عن صلاة الوتر وغیرہ۔
وفات
ڈابھیل میں چند سال قیام فرمانے کے بعد آخر میں امراض کی شدت سے مجبور ہو کر دیوبند جس کو آپ نے اپنا وطن بنا لیا تھا چلے آئے تھے۔ دیوبند ہی میں ۳/ صفر المظفر ۱۳۵۲ھ / ۲۸/ مئی ۱۹۳۳ء کو ۶۰/ سال کی عمر میں رحلت فرمائی۔ قبر مبارک عیدگاہ کے قریب ہے۔ مولانا محمد یوسف بنوری نے نفحة العنبر میں حضرت شاہ صاحب کے تفصیلی حالات لکھے ہیں، یہ کتاب عربی میں ہے؛ دوسری کتاب حیاتِ انور اردو میں ہے۔ حیاتِ انور اور مختلف حضرات کے مضامین کا گراں قدر مجموعہ ہے۔ الانور والنقوش دوام بھی آپ کے حالات وواقعات پر مشتمل ہیں۔
مآخذ:
- تاریخ دارالعلوم دیوبند، جلد دوم، ص ۴۶ تا ۶۷، ۲۰۱ تا ۲۰۷
- دارالعلوم دیوبند کی پچاس مثالی شخصیات، ص ۱۴۴ تا ۱۴۹
- اکابر علمائے دیوبند، حافظ اکبر شاہ بخاری، ص ۹۵ تا ۱۰۳
