دورِ ثانی کے کلیدی عہدہ داران
حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ
۱۲۹۶ – ۱۳۷۷ھ / ۱۸۷۹ – ۱۹۵۷ء
شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین، جمعیۃ علمائے ہند کے صدر اور سیاست و طریقت کے امام تھے۔ آپ اپنی جامعیت کے اعتبار سے ان ابراھیم کان امۃ کی تفسیر تھے؛ کیونکہ وہ یک وقت علوم و معارف کے امام، مجلسِ ارشاد و سلوک کے مسند نشیں، عزیمت و استقامت کے پہاڑ، فقر و تواضع کے نشان، بصائر و حکم کے سرچشمہ، زہد و قناعت کے مجسمہ، اخلاص و ایثار کے پیکر، سخاوت و شجاعت کے مخزن، میدانِ صبر و رضا کے شہسوار، قافلہٴ جہد و عمل کے تاجدار اور سلفِ صالحین کی مکمل متحرک یادگار تھے۔

ابتدائی حالات
آپ کا وطنِ موضع اللہ داد پور ناندھ ضلع فیض آباد ہے۔ ۱۹/ شوال ۱۲۹۶ھ مطابق ۶/ اکتوبر ۱۸۷۹ء کو ضلع اناؤ کے قصبہ بنگر مئو میں پیدا ہوئے جہاں آپ کے والد ماجد سید حبیب اللہ صاحب ہیڈ ماسٹر تھے اور ضلع اناؤ کے مشہور شیخِ وقت حضرت مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی سے ان کا خصوصی تعلق تھا۔ اپنے علم و تقویٰ کے لحاظ سے سادات کا یہ خاندان ہمیشہ ایک خاص عظمت اور شاہی زمانہ میں ایک بڑی جاگیر کا مالک رہا ہے۔
ابتدائی تعلیم پرائمری اسکول میں حاصل کرنے کے بعد ۱۲/ سال کی عمر میں آپ دیوبند تشریف لائے۔ میزان الصرف میں داخل لیا، یہاں حضرت شیخ الہند نے خاص شفقت و عنایت سے آپ کی تعلیم و تربیت فرمائی۔ دارالعلوم کے نصاب کی تکمیل اور سات سال یہاں کے علمی ماحول میں گزارنے کے بعد جب وطنِ مالوف تشریف لے گئے تو والدِ ماجد شوقِ ہجرت میں مدینۃ الرسول کے لیے رختِ سفر باندھ چکے تھے۔ آپ بھی والدین کے ہمراہ روانہ ہو گئے۔ روانگیِ حجاز سے قبل آپ حضرت گنگوہیؒ سے بیعت ہو چکے تھے اور انہیں کے حکم سے مکہ مکرمہ میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے کسبِ فیض کیا۔ پھر مدینہ منورہ میں والدِ ماجد کے ساتھ مقیم ہو گئے۔ ہر چند آپ نے ہندوستان سے ہجرت کا قصد نہیں فرمایا تھا تاہم والد صاحب کی حیات تک آغوشِ پدری کو چھوڑ کر ہندوستان واپس آنا پسند نہیں کیا۔
مسجدِ نبوی میں تدریس
قیامِ مدینہ کے زمانے میں تقریباً بارہ تیرہ سال تک مسجدِ نبوی میں درسِ حدیث کی خدمت تنگی و عسرت کے باوجود توکل علی اللہ انجام دی۔ عموماً روزانہ بارہ بارہ گھنٹے تک مسلسل درس و تدریس کا مشغلہ جاری رہتا تھا، مختلف جماعتوں کے بعد دیگرے حاضر ہو کر آپ کے فیضانِ علمی سے سیراب ہوتی تھیں۔ مسجدِ نبوی میں آپ کا درسِ حدیث وہاں کے تمام شیوخِ حدیث سے زیادہ پسندیدہ اور مقبول تھا، اور اس کی شہرت نے مختلف اسلامی ممالک کے طالبانِ علم کی ایک بڑی تعداد آپ کے گرد جمع کر دیا تھا۔ حجاز کی مقدس سرزمین اور خاص مسجدِ نبوی میں ایک ہندوستانی عالم کی جانب اس قدر کشش اور قبولِ عام کا باعث آپ کے طریقہٴ درس کی اس خصوصیت کو سمجھنا چاہیے۔ جو آپ کو دارالعلوم کے اساتذہ سے ورثہ میں ملی تھی۔
مدینہ منورہ کے قیام کے زمانہ میں آپ کئی مرتبہ ہندوستان تشریف لائے۔ اسی درمیان آپ کو حضرت گنگوہیؒ سے خلعتِ خلافت حاصل ہوئی۔ ۱۳۲۹ھ مطابق ۱۹۱۱ء میں تقریباً ایک سال دیوبند میں قیام فرما کر تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔ ۱۳۳۳ھ مطابق ۱۹۱۵ء میں جب حضرت شیخ الہند حجاز تشریف لے گئے تو آپ کے یہاں قیام فرمایا، اور آپ ہی کے ذریعے سے ترکی کے وزیرِ جنگ انور پاشا اور جمال پاشا سے ملاقات فرما کر اپنا انقلابی اسکیم ان کے سامنے پیش کی تھی۔ جب عربوں نے ترکوں کے خلاف بغاوت کی اور شریف حسین نے حضرت شیخ الہند کو گرفتار کر کے انگریزوں کے حوالے کیا تو آپ بھی حضرت شیخ الہند کے رفقاء میں شامل تھے، چنانچہ سوا تین سال تک آپ کو بھی مالٹا میں جنگی قیدی کی حیثیت سے رہنا پڑا۔
۱۳۳۸ھ مطابق ۱۹۲۰ء میں جب مالٹا سے رہائی ہوئی تو آپ حضرت شیخ الہند کی معیت میں ہندوستان تشریف لائے، مالٹا سے واپسی کا زمانہ تحریکِ خلافت کے آغاز کا زمانہ تھا، آپ یہاں پہنچ کر حضرت شیخ الہند کی قیادت میں سیاست میں شریک ہو گئے۔ اس زمانہ میں آپ کی مجاہدانہ اور سرفروشانہ قربانیوں نے مسلمانوں کے دلوں کو آپ کی عظمت و محبت سے لبریز کر دیا تھا— حضرت شیخ الہند کی وفات پر متفقہ طور سے آپ کو ان کا جانشین تسلیم کیا گیا۔ آپ حضرت شیخ الہند کی سیاسی، علمی وراثت کے سب سے بڑے امین تھے۔ آپ کو حضرت شیخ الہند سے طویل صحبت و ملازمت کا شرف حاصل رہا جس میں آپ کے رفقاء و معاصرین میں کوئی بھی آپ کا ہمسر و شریک نہیں تھا۔ اسی اتصال و یک نفسی نے حضرت مدنیؒ کی ذات کو ایک ایسا آئینہ بنا دیا تھا جس میں شیخ الہند کے سراپا کو بخوبی دیکھا جا سکتا تھا۔
جنگِ آزادی میں شرکت و انہماک کے باعث آپ کو متعدد مرتبہ کئی کئی سال تک جیل میں بھی رہنا پڑا۔ آپ کی زندگی کے تقریباً آٹھ سال قیدِ فرنگ میں گزرے۔ آپ مجاہدینِ حریت کے صفِ اول کے قائدین میں سے تھے اور آپ نے ملک کی آزادی کے لیے قید و بند کی بے انتہا صعوبتیں برداشت کیں۔ جمعیۃ علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے آپ نے قوم و ملت کی بیش بہا خدمات انجام دیں اور ملتِ اسلامیہ ہند کی اس عظیم الشان جماعت کی تا عمر قیادت فرمائی۔
دارالعلوم میں مسندِ صدارت پر
۱۳۴۶ھ مطابق ۱۹۲۷ء میں حضرت شاہ صاحبؒ دارالعلوم سے مستعفی ہوئے تو آپ کے سوا جماعتِ دارالعلوم میں کوئی ایسی شخصیت موجود نہ تھی جو دارالعلوم کی اس مہتم بالشان جگہ کو اس کے شایانِ شان پر کر سکے؛ اس لیے اکابر کی نظرِ انتخاب آپ ہی پر پڑی۔ آپ کے زمانہٴ صدارت میں طلبہ کی تعداد میں دو گنے سے بھی زیادہ اضافہ ہوا اور خاص طور پر دورہٴ حدیث کی جماعت میں یہ اضافہ تین گنے سے بھی متجاوز ہو گیا۔ ۱۳۴۶ھ سے ۱۳۷۷ھ تک ۳۲/ سال کی مدت میں آپ کے زمانہٴ صدارت میں ۴۲۸۳ طلبہ نے دورہٴ حدیث سے فراغت حاصل کی۔
آپ کا درسِ حدیث مضامین کے تنوع اور جامعیت کے لحاظ سے دنیائے اسلام میں اپنی نوعیت کا واحد درس سمجھا جاتا تھا، چنانچہ اس کی عظمت، شہرت اور کشش سال بہ سال طلبہ کی تعداد میں اضافے کا موجب ہوتی رہی، حدیثِ نبوی میں آپ کے تلامذہ کا حلقہ بہت وسیع ہے اور برصغیر کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جہاں آپ کے شاگرد موجود نہ ہوں۔ برصغیر کے مدارس میں مسندِ حدیث پر فائز سربرآوردہ علمائے کرام میں اکثر کو آپ کی شاگردی کا شرف حاصل ہے۔ جس طرح آج دنیائے اسلام میں دارالعلوم کو علومِ نبوی کی تعلیم میں طغراءِ امتیاز حاصل ہے اس طرح آپ کا علمی فیض بھی امتیازِ خاص رکھتا ہے۔
جہادِ حریت کی قیادت
حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ ہندوستان کی جہادِ آزادی کے صفِ اول کے قائدین میں سے تھے۔ آپ کو بجا طور پر جانشینِ شیخ الہند کہا جاتا ہے۔ آپ نے حضرت نانوتیؒ اور حضرت شیخ الہند وغیرہ اکابرین کے خواب کو شرمندئہ تعبیر کرنے کے لیے ہندوستان کے آزادی کی تحریک میں بھرپور حصہ لیا اور جمعیۃ علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی قیادت کا فریضہ انجام دیا۔
آپ نے ملک کو آزاد کرانے، اس سلسلہ میں قید و بند کی مصیبتیں اٹھانے، قربانیاں دینے اور خلوص و استقامت سے کام کرنے کی ایسی مثال پیش کی جس کی وجہ سے ملتِ اسلامیہ اس سرزمین پر اعزاز و افتخار کے ساتھ سراٹھا کر چلے، نام نہاد دعویداروں سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے، اپنے دین و شریعت اور زبان و تہذیب نیز نظامِ تعلیم میں اپنے شخص اور اپنی ضرورت کا احساس کرانے کی اہل بن سکی۔ حضرت حاجی امداد اللہ کی دعائے صبحِ گاہی، حضرت نانوتیؒ کی قلبی کیفیات اور حضرت شیخ الہند کی ملکی و ملی خدمات نے جو نقش قائم کیا ان کو عملی صورت میں آگے بڑھانے کے لیے آپ نے جمعیۃ علمائے ہند کے توسط سے گھر گھر آزادی کا صور پھونکا اور ایک پاک باز اور وفادار مجاہد کی حیثیت سے دینی و ملکی خدمات کا ایک لازوال نقش قائم کیا۔ آپ کی انقلابی فکر وعزیمت اور سیاسی بصیرت کا لوہا مخالفین نے بھی مانا، ملک کی تقسیم کے جن مضرات کو آپ نے اپنی تقریروں میں واضح کیا، آج وہ کھل کر سامنے آچکے ہیں۔
ایک جامع شخصیت
حضرت مدنیؒ کی ذاتِ گرامی ایک ایسا جوہرِ قابل تھی جس میں عالمِ دین کی عظمت و رفعت، مجاہد کی جرأت و عزیمت اور شیخِ وقت کی کشش و مقبولیت جیسی ساری صفاتِ محمودہ جمع تھیں۔ حضرت شیخ الاسلام مدنیؒ کی تعلیمی، تربیتی، تصنیفی و سیاسی خدمات اور کارنامے نصف صدی سے زیادہ عرصہ کو محیط ہیں۔ مدینہ منورہ، مدرسہ عالیہ کلکتہ اور سلہٹ و آسام کے علاوہ صرف دارالعلوم دیوبند میں چار ہزار سے زائد تلامذہ ہیں جنھوں نے آپ کی شمعِ علم سے اکتسابِ نور کیا۔ لاکھوں سے زیادہ طالبینِ حق ہیں جنھوں نے تربیتِ گاہِ مدنی سے صحیح عقائد، تحسینِ اخلاق اور تزکیہٴ باطن کا درس لیا، جن میں ڈیڑھ سو سے زیادہ وہ خوش بخت اور جوانِ ہمت بھی ہیں جو احسان و سلوک کی منزلیں طے کر کے سندِ اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے۔ اصلاحِ معاشرہ اور تبلیغِ دین کے لیے اس وسیع و عریض ملک کے چپے چپے کا دورہ، اسلامی عنوانات پر ہزاروں سے زائد خطبات و تقریریں، علومِ اسلامی کی اشاعت کی غرض سے ہزاروں مکاتبِ دینیہ اور مدارسِ اسلامیہ کی سرپرستی ونگرانی آپ کی خدمات کا روشن عنوان ہیں۔
استخلاصِ وطن، اتحادِ قومی اور ملت کی سربلندی کے لیے آپ نے وقت کی سب سے بڑی استعماری طاقت سے محاذ آرائی کی۔ آپ نے سیاست کے بحرِ مواج میں اپنے سفینہٴ حق کو تخنہ بندی کی، مگر اس بصیرت کے ساتھ کہ اس کی چھینٹیں آپ کے دامنِ حیات کو نمناک نہ کر سکیں۔ آپ نے مذہب و سیاست کے جام و سندان کو باہم آمیز کر دیا، مگر اس کمالِ فراست کے ساتھ کہ دونوں کی نزاکتوں سے ایک لمحہ کے لیے بھی صرفِ نظر نہیں کیا۔ بسا اوقات پورا دن ٹرین، تانگہ اور بیل گاڑیوں کے تکلیف دہ سفر میں گزر جاتا اور رات کا بیشتر حصہ جلسہ، وعظ یا درس میں، لیکن کیا مجال کہ آہِ نیم شبی اور آقائے بے نیاز سے عرض و نیاز کے محبوب مشغلہ میں ذرہ بھی فرق آ جائے۔
پھر ان ہمہ جہت اور مختلف النوع مشاغل کے ساتھ مختلف دینی، علمی، سیاسی اور تاریخی موضوعات پر کتب و رسائل کی تالیف و تصنیف، نیز ہزاروں صفحات پر پھیلے ہوئے ان مکاتیب کی تحریر جن میں تفسیرِ آیات، تشریحِ احادیث، تفصیلِ عقائد، توضیحِ مسائلِ فقہیہ، رموزِ احسان اور تاریخ و سیاست سے متعلق بیش بہا اور معلومات کا عظیم ذخیرہ جمع کر دیا ہے جس کے بارے میں پورے اعتماد کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ مکتوباتِ طویل فہرست میں مخدوم شرف الدین یحییٰ منیری (۸۴ھ)، مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی (۱۰۳۴ھ) اور شیخ حسام الدین مانک پوری کے مجموعہٴ مکاتیب کے بعد شیخ الاسلام کے مکتوبات اپنی افادیت، اپنی اثر آفرینی، کثرتِ معلومات اور جامعیت میں سب پر فوقیت رکھتے ہیں، اور جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ مکتوبات قلم برداشتہ اور بالعموم اسفار یا قید و بند کی حالت میں لکھے گئے ہیں جس سے حضرت شیخ الاسلام کے علمی استحضار و تبحر کا کسی قدر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آپ کی خود نوشت سوانحِ حیات نقشِ حیات تاریخِ آزادیِ ہند کی مستند دستاویز ہے۔
حضرت مولانا مدنیؒ کی ذاتِ باری تعالی اخلاقی خوبیوں اور مکارمِ عادات کا مجموعہ تھی۔ آپ کا حلم و تواضع اور عاجزی و انکساری مثالی تھا۔ آپ کا دسترخوان نہایت وسیع تھا، عموماً کم از کم دس، پندرہ مہمان آپ کے دسترخوان پر روزانہ موجود رہتے تھے۔
تصنیفات و تالیفات
حضرت مدنیؒ کی تصنیفات کی تعداد کم ہے؛ کیونکہ مختلف تدریسی، سیاسی اور تبلیغی و اصلاحی مشغولیات کی وجہ سے آپ اس جانب توجہ نہ دے سکے۔ ذیل میں آپ کی کتابوں کی فہرست دی جا رہی ہے:
(۱) مکتوباتِ شیخ الاسلام
(۲) نقشِ حیات
(۳) الشهاب الثاقب
(۴) سلاسلِ طیبہ
(۵) اسیرِ مالٹا
(۶) متحدہ قومیت اور اسلام
(۷) مودودی دستور کی حقیقت
(۸) ایمان و عمل
(۹) خطباتِ صدارت
(۱۰) الخلیفۃ المہدی فی الاحادیث الصحیحة
(۱۱) الخالۃ التعلیمیة فی الهند (عربی ترجمہ از مولانا نور عالم خلیل امینی)
(۱۲) بحوث فی الدعوة والفکر الاسلامی (عربی ترجمہ از مولانا نور عالم خلیل امینی)
(۱۳) درسِ بخاری (مرتب مولانا نعمت اللہ اعظمی)
وفات
محرم ۱۳۷۷ھ مطابق ۱۹۵۷ء میں حضرت مولانا مدنیؒ پر مدراس کے سفر میں دل کا دورہ پڑا، دیوبند تشریف لانے پر ڈاکٹروں نے تشخیص کیا کہ قلب کا پھیلاؤ بڑھ گیا ہے۔ مقامی اور بیرونی ڈاکٹروں کا علاج ہوتا رہا، مگر افاقہ نہ ہوا، پھر یونانی علاج شروع کیا گیا، اس سے مرض میں قدرے تخفیف محسوس ہوئی۔ ۱۰/ ۱۱/ جمادی الاولیٰ ۱۳۷۷ھ (۳/ ۴/ دسمبر ۱۹۵۷ء) کو طبیعت کافی پرسکون رہی، ۱۲/ جمادی الاولیٰ (۵/ دسمبر) کی صبح کو طبیعت کافی بشاش ہوگئی، کئی دن کے بعد دوپہر کو غذا تناول فرمائی اور پھر لیٹ گئے۔ ۳/ بجے کے قریب نمازِ ظہر کے لیے جب بیدار کرنا چاہا تو پتہ چلا کہ حضرت مدنیؒ واصلِ بحق ہو چکے ہیں۔ ۹/ بجے شب میں جنازہ دارالحدیث میں لا کر رکھا گیا، حضرت مولانا محمد زکریا صاحب شیخ الحدیث مظاہر علوم سہارن پور نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور ۱۳/ جمادی الاولیٰ ۱۳۷۷ھ (۶/ ۵/ دسمبر ۱۹۵۷ء) کی درمیانی شب میں اس خزینہٴ علم و معرفت کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا مدنیؒ کے تفصیلی حالاتِ خود نوشت سوانح نقشِ حیات، الجمعیة شیخ الاسلام نمبر، چراغِ محمد (قاضی محمد زاہد الحسینی)، تاثرِ شیخ الاسلام (مولانا نجم الدین اصلاحی)، انفاسِ قدسیہ (مفتی عزیز الرحمن بجنوری) وغیرہ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
مآخذ:
- تاریخ دارالعلوم دیوبند، جلد دوم، ص ۸۲ تا ۲۸۸، ص ۳۰۸ تا ۳۱۱
- روزنامہ الجمعیۃ دہلی، شیخ الاسلام نمبر، اشاعت دوم ۱۹۹۸ء
