صحاح ستہ کا مختصرا تعارف
حدیث کی مشہور کتابیں بہت زیادہ ہیں۔ ان میں کچھ کتابیں ایسی ہیں جن کو شہرت دوام حاصل ہوئی اور جو ہر زمانے اور ہر دور میں یکساں طور پر مقبول رہیں۔ حدیث کی چھ صحیح ترین کتابوں کو صحاح ستہ کہتے ہیں۔ صحاح ستہ یا کتب ستہ میں درج ذیل کتابیں شمار ہوتی ہیں۔
- صحیح بخاری
- صحیح مسلم
- جامع ترمذی
- سنن ابو داؤد
- سنن نسائی
- سنن ابن ماجہ۔
ان میں سب سے بلند پایہ کتاب امام بخاری کی صحیح بخاری ہے۔ اس کے بعد یہ رتبہ صحیح مسلم کو حاصل ہے۔

صحیح بخاری
صحیح بخاری کا اصل نام ’الجامع الصحيح المسند من امور رسول الله و سننه و ايامه‘ ہے۔ اور حقیقت واقعہ یہ ہے کہ صحیح بخاری کی جامعیت اور صحت کو دیکھتے ہوئے اس کا اس سے بہتر کوئی دوسرا نام نہیں ہو سکتا تھا۔ ایک ایسے دور میں جب حدیثوں کی کتابت اور تدوین کا کام بڑے پیمانے پر ہو رہا تھا، امام بخاری پہلے شخص ہیں جنہوں نے احادیث کے بے شمار مجموعوں میں سے صرف صحیح ترین حدیثوں کو چھان پھٹک کر اکٹھا اور یکجا کیا۔
صحیح مسلم
یہ کتاب مشہور محدث امام مسلم کی تالیف ہے۔ کتاب کا پورا نام الجامع الصحيح ہے۔ علمی دنیا میں اسے نمایاں مقام حاصل ہے۔ شہرت و مقبولیت کا اندازہ لگانے کے لیے یہی کافی ہے کہ اگرچہ علمائے حدیث نے متعدد حیثیتوں سے صحیح بخاری کو صحیح مسلم پر ترجیح دی۔ اس کے باوجود صحیح مسلم کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ ہمیشہ بخاری کے ساتھ مسلم کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ اور دونوں کتابوں کے لیے صحیحین کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح جو احادیث بخاری اور مسلم دونوں کتابوں میں موجود ہیں انہیں متفق علیہ کہا جاتا ہے۔
صحیح مسلم کی تالیف کا سبب بیان کرتے ہوئے امام مسلم لکھتے ہیں کہ مجھ سے میرے بعض تلامذہ نے درخواست کی کہ میں احادیثِ صحیحہ کا ایک ایسا مجموعہ تیار کر دوں جس میں بلا تکرار احادیث کو جمع کیا جائے۔ چنانچہ ان کی درخواست پر اپنی صحیح کی میں نے تالیف کی۔ امام مسلم کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے جن مشائخ کی احادیث کو اپنی صحیح میں روایت کیا ہے ان سب سے انہوں نے بالمشافہ اور براہِ راست حدیث کا سماع کیا ہے۔
صحیح مسلم میں انہوں نے صرف اپنی ذاتی تحقیق پر ہی اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ مزید احتیاط کے پیشِ نظر اس میں صرف ان حدیثوں کو بیان کیا ہے جن کی صحت پر اس وقت کے اکابرین کا اتفاق تھا۔ امام مسلم نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ تحقیق مزید کے لیے کتاب کے مکمل ہو جانے کے بعد اس زمانے کے مشہور محدث ابو زرعہ کی خدمت میں پیش کیا۔ ابوزرعہ اپنے زمانے میں جرح و تعدیل اور عللِ حدیث کے فن میں امام تسلیم کیے جاتے تھے۔ اور جس روایت کے بارے میں آپ نے کسی علت کی نشان دہی کی، امام مسلم نے اس کو اپنی صحیح سے خارج کر دیا۔ اس طرح پندرہ سال کی لگاتار جدوجہد اور محنت کے نتیجے میں صحیح مسلم کی صورت میں حدیث کا یہ لازوال مجموعہ تیار ہوا۔
صحیح مسلم کا ایک خاص امتیاز اس کا مقدمہ ہے۔ کیوں کہ یہ مقدمہ ایک طرف جرح و تعدیل اور اصولِ حدیث سے متعلق انتہائی اہم نکتوں کی نشان دہی کرتا ہے تو دوسری جانب مقدمہ مسلم سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ امام مسلم نے جس زمانے میں اپنی صحیح کو مرتب کیا ہے اس وقت احادیث کے معاملے میں عام صورتِ حال کیا تھی اور کس قدر موضوع حدیثیں عام ہو گئی تھیں۔ امام مسلم نے مقدمے میں ان کے اسباب و وجوہات پر سے پردہ ہی نہیں اٹھایا ہے بلکہ ایسے مشکل حالات میں صحیح مسلم کو مرتب کر کے ان کا صحیح معنوں میں تدارک کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔
جامع ترمذی
جامع ترمذی امام ترمذی کی مشہور و معروف تالیف ہے۔ اس کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں اس کا نام الجامع الصحيح ہے۔ ترمذی کے جامع ہونے میں تو کسی کو کلام نہیں ہاں صحیح ہونے پر اعتراض کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں بعض حدیثیں ضعیف بھی ہیں، لیکن چوں کہ زیادہ روایتیں صحیح ہیں اس لیے غالب کا خیال کرتے ہوئے اس کو الجامع الصحيح کا نام دیا جا سکتا ہے۔ اور چونکہ ترمذی کی ترتیب فقہی ابواب پر ہے، اس لیے کچھ لوگ اسے سنن میں شمار کرتے ہیں اور اس کا نام سنن ترمذی لکھتے ہیں۔
بہر حال جامع ترمذی کو الجامع الصحيح کہا جائے یا سنن ترمذی اس سے اس کے معیار و کمال میں فرق نہیں پڑتا۔ کیوں کہ عام طور پر علماءِ حدیث نے صحیحین کے بعد جامع ترمذی کو صحاح میں تیسرے درجے پر رکھا ہے۔ جب کہ بعض علماءِ حدیث نے سنن نسائی اور ابو داؤد کے بعد اس کو پانچویں درجے پر رکھا ہے، کیوں کہ ترمذی قوتِ سند اور صحت کے اعتبار سے ان کے درجے کو نہیں پہنچتی، ہاں حسن ترتیب، جامعیت اور افادیت کے لحاظ سے یہ ان سے بہتر ہے۔
جامع ترمذی میں احادیث کو نقل کرنے میں امام ترمذی نے صحاح کی بنیادی شرطوں یعنی راوی کا اسلام، فہم و فراست، صداقت، عدم تدلیس، عدالت مع جملہ شرائطِ حفظ، ضبط، تیقظ، عدم وہم، سلامتِ ذہن اور صحتِ عقیدہ کو عام طور پر ملحوظ رکھا ہے۔ البتہ ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ روایت (حدیث) پر کسی نہ کسی امام یا محدث کا عمل ہونا چاہیے خواہ راوی اور سند اصولِ حدیث کی رو سے یکسر نقائص سے پاک نہ ہوں، چنانچہ وہ چوتھے طبقے تک کے راویوں کی روایتیں قبول کر لیتے ہیں اور صحیح، مسلسل اور مرفوع روایتوں کے ساتھ ضعیف، مرسل، منقطع اور مضطرب روایتوں کو بھی رد نہیں کرتے۔ البتہ اس طرح کی روایتوں کو امام صاحب کسی صحیح روایت کی تائید اور حمایت میں قبول کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ان کی خوبی یہ ہے کہ ہر روایت کا عیب و ہنر اور نقص و کمال بھی ظاہر کر دیتے ہیں۔ اس لیے پڑھنے والے کو اس حدیث کی حیثیت اور درجے کا علم ہو جاتا ہے۔ یہ خصوصیت ترمذی کے علاوہ صحاح کی کسی دوسری کتاب میں نہیں پائی جاتی۔ توابع اور شواہد کے ساتھ جامع ترمذی کی روایات کی تعداد 3956 ہے اور اگر انہیں الگ کر دیا جائے تو احادیث مقصودہ کی تعداد 1385 رہ جاتی ہے۔
سنن ابی داؤد
سنن ابی داؤد کا شمار حدیث کی امہات (بڑی) کتابوں میں ہوتا ہے۔ یہ صحاح ستہ میں شامل ہے اور علمائے حدیث کی بڑی تعداد نے صحیحین (بخاری و مسلم) کے بعد سنن ابی داؤد کو حدیث کی سب سے اہم کتاب قرار دیا ہے۔ اس کے مؤلف امام ابو داؤد سلیمان ہیں۔ انہوں نے 5 لاکھ حدیثوں میں سے 4 ہزار آٹھ سو حدیثوں کا انتخاب اس کتاب میں کیا ہے۔ سنن ابی داؤد سنن کی پہلی کتاب ہے۔ اس سے پہلے حدیث کی جو کتابیں لکھی گئیں ان کا تعلق جوامع اور مسانید سے ہے۔ امام ابو داؤد نے سب سے الگ ہٹ کر صرف احکامی حدیثیں اپنی سنن میں جمع کی ہیں۔ گویا اس کی تقریباً 5 ہزار احادیث صرف احکام و مسائل سے متعلق ہیں۔ سنن ابی داؤد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امام ابو داؤد نے مرتب کرنے کے بعد جب اسے امام احمد بن حنبل کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے اسے بہت پسند کیا۔ یہی وجہ ہے کہ سنن ابی داؤد ہر دور میں علماء اور محدثین کے درمیان مقبول و متداول رہی ہے۔ اور لوگوں نے اس پر اعتماد کیا ہے۔
امام ابو داؤد فرماتے ہیں کہ میرے اس مجموعہ احادیث میں صرف 4 حدیثیں انسان کو دین پر عمل کرنے کے لئے کافی ہیں:
1۔ إنما الأعمال بالنيات (اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے / یا اعمال نیتوں کے ساتھ وابستہ ہیں)۔
2۔ من حسن إسلام المرء تركه مالا يعنيه (یہ آدمی کے اسلام کی خوبی ہے کہ وہ لایعنی باتوں کو چھوڑ دے)۔
3۔ لايكون المؤمن مؤمناً حتى يرضى لأخيه مايرضى لنفسه (مؤمن اس وقت تک مؤمن نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے)۔
4۔ الحلال بين والحرام بين وبين ذلك أمور مشتبهات فمن اتقى الشبهات إستبرأ لدينه (حلال اور حرام دونوں واضح ہیں اور جو کچھ اس کے درمیان ہے مشتبہات ہیں پس جو شخص مشتبہات سے بچا اس نے اپنے دین کو بے داغ رکھا)۔
پہلی حدیث عبادات کی صحت و درستی کے لئے، دوسری عمر عزیز کے اوقات کی حفاظت کے لئے، تیسری پڑوسیوں، قرابت داروں، متعارف لوگوں اور دوسرے متعلقین وغیرہ کے حقوق کی ادائیگی کے لئے اور چوتھی ان تمام شکوک و شبہات کے ازالے کے لئے کافی ہے جو علماء کے اختلافات اور دلائل کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
سنن نسائی
سنن نسائی امام ابو عبدالرحمن نسائی کی تالیف ہے۔ امام نسائی نے سنن میں دو کتابیں لکھی تھیں۔ سنن کبریٰ اور سنن صغریٰ۔ سنن صغریٰ کو زیادہ شہرت حاصل ہوئی اور یہی کتاب سنن نسائی کے نام سے صحاح ستہ میں شامل ہے۔ اس کے دوسرے نام ’المجتبیٰ‘ اور ’المجتنیٰ‘ بھی ہیں۔ سید ابوالحسن علی ندوی اپنی کتاب ’محدثین عظام اور ان کے علمی کارنامے‘ میں ایک واقعہ نقل کرتے ہیں کہ شاہ عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ امام نسائی جب سنن کبریٰ کی تالیف سے فارغ ہوئے تو اس کو امیر رملہ کی خدمت میں پیش کیا، امیر موصوف نے امام ممدوح سے دریافت کیا کہ اس میں جو کچھ ہے سب صحیح ہے؟ امام صاحب نے فرمایا نہیں!
اس پر امیر نے فرمائش کی کہ میرے لیے صرف صحیح روایات کو جمع کر دیجیے، تب امام صاحب نے ان کے لیے سنن صغریٰ تصنیف فرمائی۔ سنن نسائی امام نسائی کا سب سے بڑا علمی و دینی کارنامہ ہے۔ اور یہی سب سے زیادہ مشہور ہے۔
سنن نسائی کی اہمیت کو بتانے کے لئے یہی کافی ہے کہ اس کا شمار صحاح ستہ میں ہے۔ عام طور پر صحیحین کے بعد ابو داؤد اور ترمذی کے بعد نسائی کو جگہ دی جاتی ہے۔ تاہم اس کا ذکر بھی ان دونوں کتابوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ جس طرح صحاح میں شامل ہر کتاب بعض امتیازی خصوصیات کے سبب دوسروں پر فوقیت رکھتی ہے اسی طرح سنن نسائی بھی بعض ایسی خصوصیات و امتیازات کی حامل ہے جن سے کہ دوسری کتابیں خالی ہیں۔
بعض ائمہ فن نے صحیحین کے بعد نسائی کو رکھا ہے۔ کیوں کہ اس میں سب سے کم ضعیف حدیثیں ہیں۔ اور اس کے رجال زیادہ قوی ہیں۔ اسی طرح بعض علما کے خیال میں قبول روایت کے لئے نسائی کے شرائط امام بخاری اور امام مسلم سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ بہر حال اتنا طے ہے کہ امام بخاری اور امام مسلم کی طرح امام نسائی نے نہ صرف صحیح سند والی حدیثیں ہی اپنی کتاب میں بیان کی ہیں اور اگر کہیں کم تر درجہ کی حدیثیں بیان کی ہیں تو ان کے ضعف کو بیان کر دیا ہے۔ بعض لوگوں کے مطابق سنن نسائی میں بیان کی گئی حدیثوں کی تعداد پانچ ہزار سات سو اکسٹھ (۵۷۶۱) ہے۔
سنن ابن ماجہ
امام ابن ماجہ کی تالیف ہے۔ اس کو ان کی زندگی کا سب سے بڑا علمی و تصنیفی اور دینی کارنامہ قرار دیا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں حدیث کی جو کتابیں رائج اور متداول ہیں ان میں سنن ابن ماجہ ایک اہم کتاب ہے اور اکثر اسلامی مدارس کے نصاب میں بھی شامل ہے۔ سنن ابن ماجہ حدیث کی ان چھ مشہور اور معتبر کتابوں میں شامل ہے جو صحاح ستہ یا کتب ستہ کہلاتی ہیں۔ علماءِ حدیث نے اس کو اسلامی علوم کی اہم اور علم حدیث کی امہات کتابوں (بڑی) میں شمار کیا ہے۔ سنن ابن ماجہ امام ابن ماجہ کے علمی تبحر اور کثرتِ معلومات کا مظہر ہے۔ اس کی اہمیت کا پتہ اس بات سے چلتا ہے کہ امام ابن ماجہ کے استاذ حافظ ابو زرعہ جو اپنے زمانے کے باکمال محدث گزرے ہیں، کا قول ہے کہ اگر یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ گئی تو حدیث کی سب یا اکثر کتابیں بالکل معطل ہو جائیں گی۔
اسی اہمیت اور عظمت کے پیشِ نظر سنن ابن ماجہ کو ہر زمانے اور ہر دور میں نہایت مستند اور قابلِ حجت کتاب مانا گیا ہے۔ محدثین نے اس کتاب کو صحیحین اور سنن ابی داؤد، جامع ترمذی اور سنن نسائی کے ساتھ شامل کیا ہے۔ اور اس کی روایتوں کو حجت مانا ہے۔ البتہ علمائے حدیث کی ایک مختصر تعداد ہے جو اسے صحاح ستہ میں شامل نہیں کرتی اس کے بجائے ان کی اکثریت موطا امام مالک کو صحاح ستہ میں شامل کرتی ہے جب کہ چند لوگ سنن دارمی کو صحاح میں شمار کرتے ہیں۔ سنن حدیث کی عام کتابوں کی طرح سنن ابن ماجہ میں بھی ایمانیات سے وصایا تک جملہ ابواب فقہی ترتیب کے ساتھ شامل ہیں۔ یہ سنن 32 کتابوں، 1500 ابواب اور چار ہزار احادیث پر مشتمل ہے۔ امام ابن ماجہ سے ان کے متعدد شاگردوں نے اسے روایت کیا ہے۔
