اختر الایمان کا تعارف

اختر الایمان 12/ نومبر بروز جمعہ 1915ء بمقام سہنی قلعہ پتھر گڑھ، نجیب آباد (یوپی) میں پیدا ہوئے۔ یہ ان کا ننھیال تھا۔

اختر الایمان کا خاندان موضع راؤکھیڑی ضلع بجنور میں مقیم تھا۔ راؤکھیڑی مسلمان راجپوتوں کی بستی تھی۔ ان کے دادا کا نام اقبال راؤ تھا۔ اختر الایمان کے والد کا نام فتح محمد اور والدہ کا نام سلیمن تھا۔ فتح محمد کے چھ اولادیں تھیں۔ اختر الایمان اپنے بھائی بہنوں میں سب سے بڑے تھے۔

اختر الایمان کا تعارف

اختر الایمان کی پوری زندگی بڑے نشیب و فراز سے گزری۔ جب ذرا ہوش سنبھالا تو حصول تعلیم کے لیے والد کے ساتھ رہنے لگے۔ والد پیشے سے امام تھے۔ ان میں مستقل مزاجی نہیں تھی ایک جگہ زیادہ دنوں تک قیام نہیں رہتا۔ اکثر گاؤں اور مسجدیں بدلتے رہتے۔ اختر الایمان اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں لکھتے ہیں:

”جب ہوش آیا والد کے ساتھ اتر پردیش ہریانہ پنجاب کے دیہاتوں میں خانہ بدوشی کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ والد پیشہ سے امام تھے اور مسجدیں بدلتے رہتے تھے۔ اسی کے ساتھ گاؤں بھی۔ میری تعلیم کا ایک سلسلہ نہیں رہا۔ کبھی سرکاری اسکول میں داخل کر دیا گیا کبھی قرآن حفظ کرنے مکتب بٹھا دیا گیا۔“ 

کچھ دنوں تک سکھر مدرسہ جو کہ ایک یتیم خانہ بھی تھا میں تعلیم حاصل کی۔ قصبہ ’بوڑیا‘ کے سرکاری اسکول میں چوتھی جماعت تک پڑھائی کی۔ اختر الایمان 1930ء میں دہلی چلے آئے۔ یہاں آنے کے بعد ان کی زندگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ باقاعدہ تعلیم کی غرض سے مدرسہ ’موید الاسلام‘ میں داخل کرایا گیا۔ یہاں ان کا داخلہ چوتھی جماعت میں منظور ہوا۔ موید الاسلام حکومت سے منظور شدہ ریفارمٹری تعلیمی ادارہ بھی تھا اور یتیم خانہ بھی جہاں تعلیم کے ساتھ رہنے کھانے کا معقول انتظام بھی تھا۔ اب یہ ادارہ ’بچوں کا گھر‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اختر الایمان یہاں چار سال تک زیر تعلیم رہے، یہیں ان کی ادبی زندگی کا آغاز ہوا۔ اختر الایمان نے غزل گوئی سے اپنی تخلیقی زندگی کا آغاز کیا۔ 33-1932ء کا زمانہ تھا جب اختر الایمان نے شاعری شروع کی اس وقت ان کی عمر تقریباً 18 سال تھی اور وہ چھٹی یا ساتویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ یہاں ان کے دو استاد ماسٹر عبدالصمد اور ماسٹر عبدالواحد نے ان کی ذہنی تربیت اور ادبی ذوق کی بھر پور ہمت افزائی کی ۔

1934ء میں موید الاسلام سے آٹھویں جماعت پاس کرنے کے بعد فتح پوری مسلم ہائی اسکول میں نویں جماعت میں داخلہ لیا۔ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں اسکول میگزین کا ایڈیٹر بنایا گیا۔ فتح پوری مسلم ہائی اسکول میں آنے کے بعد ان کی طبیعت نظم کی طرف مائل ہو گئی اور انہوں نے غزل کہنا ترک کر دیا۔

1937ء میں میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد اینگلو عربک کالج میں داخلہ لیا۔ پہلے سال کا امتحان پاس کرنے کے بعد اختر الایمان کی شادی کر دی گئی، لیکن شادی کا یہ رشتہ زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہا اور کچھ ہی دنوں بعد یہ رشتہ ٹوٹ گیا۔ انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کرنے کے بعد بی۔ اے میں دہلی کالج میں داخلہ لے لیا۔

بی۔ اے میں داخلہ لینے کے بعد کالج کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے یہاں بھی انہیں کالج میگزین کا ایڈیٹر بنایا گیا۔ اس دوران وہ کالج یونین کے سکریٹری بھی رہے۔ اختر الایمان ایک خوش بیان مقرر تھے انہوں نے تقریری مقابلوں میں دہلی اور دہلی سے باہر کئی اہم مقابلوں میں شرکت کی اور بیشتر میں پہلے انعام کے مستحق قرار دیے گئے۔

بی۔ اے کرنے کے بعد کچھ ایسے حالات پیدا ہوئے کہ پڑھائی چھوٹ گئی۔ طلباء یونین اور اساتذہ کے درمیان تنازعہ کی وجہ سے انہیں داخلہ نہیں دیا گیا۔ اختر الایمان نے اس درمیان ملازمت کی طرف رخ کیا۔ انہوں نے سپلائی آفس میں نوکری کی۔ مگر اس ملازمت سے مطمئن نہ تھے۔ کچھ مہینے بعد اس ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ اس دوران ماہ نامہ ”جریدہ“ ”ایشیا“ کے مدیر ساغر نظامی سے ملاقات ہوئی اور ان کے ساتھ بطور نائب مدیر کام کرنے میرٹھ چلے گئے۔

میرٹھ میں قیام کے دوران انہوں نے فارسی مضمون کے ساتھ میرٹھ کالج میں داخلہ لیا۔ لیکن رسالے کی تمام ذمہ داری کی وجہ سے انہوں نے یہ نوکری چھوڑ دی اور واپس دہلی آ گئے۔ دہلی آنے کے بعد انہوں نے ریڈیو اسٹیشن پر اسٹاف آرٹسٹ کی نوکری شروع کی۔ یہاں اختر الایمان کی ملاقات اس عہد کی اہم ادبی ہستیوں مثلاً م۔ راشد، میرا جی، کرشن چندر، اپندر ناتھ اشک اور سعادت حسن منٹو سے ہوئی۔ اس زمانے میں یہ تمام ادبی شخصیات دہلی ریڈیو اسٹیشن سے وابستہ تھیں۔ ان کے علاوہ فیض احمد فیض، حفیظ جالندھری اور راجہ مہدی علی خاں جیسے قلم کار دہلی آ گئے تھے۔ ان تمام فنکاروں کے ساتھ اختر الایمان کی ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔

شاہد احمد دہلوی اختر الایمان کے سرپرستوں میں سے تھے۔ انہوں نے اختر الایمان کی خاطر خواہ مدد کی۔ شاہد احمد دہلوی ماہنامہ ’ساقی‘ کے مدیر تھے ۔ نئے لکھنے والوں کی انہوں نے بھر پور ہمت افزائی کی۔ اختر الایمان کا پہلا مجموعہ کلام ”گرداب“ 1943ء میں ساقی بک ڈپو سے شائع ہوا۔ اختر الایمان نے جب اپنا مجموعہ ترتیب دیا تو نظر ثانی کے لیے پہلے راشد اور پھر میرا جی کو دیا۔ ان دونوں حضرات کے سخت انتخاب کے بعد 150 نظموں میں سے صرف 23 نظمیں گرداب میں شامل ہوئیں۔

ریڈیو اسٹیشن کی ملازمت ختم ہونے کے بعد اختر الایمان نے ایک بار پھر پڑھائی کی طرف رخ کیا۔ اکتوبر 1943ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایم۔ اے۔ میں داخلہ لے لیا۔ علی گڑھ میں رشید احمد صدیقی کی سرپرستی حاصل رہی۔ رشید صاحب نے ان کی ہر طرح سے مدد کی۔ 1944ء میں ایم، اے۔ سال اول پاس کرنے کے بعد اپنے اساتذہ کے ساتھ ’آل انڈیا اردو کانفرنس‘ میں نمائندگی کرنے کے لیے حیدر آباد گئے اور وہیں سے اپنے دوست مدھوسودن کے پاس بمبئی چلے گئے۔ اختر الایمان کی ملاقات فلمی دنیا کی بڑی شخصیت ڈبلیو۔ زیڈ احمد سے ہوئی۔ اور اختر الایمان پونے کی شالیمار پکچر کمپنی میں قلم کار شعبہ سے وابستہ ہو گئے۔

اختر الایمان نے تقریباً سو فلموں کے مکالمے اور منظر نامے لکھے۔ قانون، گمراہ، وقت، آدمی، نغمہ، ہمراز، داغ، میرا سایہ، مجرم، آدمی اور انسان، زندگی اور طوفان وغیرہ فلمیں بہت کامیاب ہوئیں ۔ 3/ مئی 1947ء کو دہلی میں سلطانہ منصوری کے ساتھ عقد ہوا اور اس کے بعد مستقل طور پر بمبئی مقیم ہو گئے۔ فلموں سے وابستگی کے بعد اختر الایمان تاعمر فلمی دنیا ہی سے جڑے رہے۔ مشاعروں، کانفرنسوں اور فلموں کے سلسلے میں ملک اور بیرون ملک کے کئی شہروں کا سفر کیا۔ عمر کے آخری کچھ سال میں کئی طرح کی بیماریوں نے آگھیرا۔ علاج کے سلسلے میں ملک سے باہر بھی جانا پڑا۔ علالت کی وجہ سے قلمی مصروفیت بہت کم ہو گئی۔ بیماری کا اثر شعر گوئی پر بھی پڑا اور شعر کہنا بہت کم ہو گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ صحت خراب ہوتی گئی اور 9/ مارچ 1996ء کو اختر الایمان اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

اختر الایمان کا پہلا شعری مجموعہ ’گرداب‘ (1943ء) میں شائع ہوا۔ سب رنگ (1946ء)، تاریک سیارہ (1952ء)، آب جو (1959ء)، یادیں (1961ء) بنت لمحات (1969ء)، نیا آہنگ (1977ء)، سرو ساماں (1983ء)، زمین زمین (1990ء) اور ان کی وفات کے بعد زمستاں سرد مہری کا (1997ء) میں شائع ہوا۔ کلیات اختر الایمان کی اشاعت (2000ء) میں عمل میں آئی۔ ان کی خود نوشت سوانح ’اس آباد خرابے میں‘ رسالہ ’سوغات‘ میں قسط وار شائع ہوئی۔ وفات کے بعد ’اس آباد خرابے میں‘ (1996ء) میں دہلی اردو اکادمی سے کتابی شکل میں شائع ہوئی۔

اختر الایمان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں کئی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 1962ء میں ’یادیں‘ پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔ بنت لمحات پر اتر پردیش اردو اکادمی اور مہاراشٹر اردو اکادمی نے انعام دیا۔ نیا آہنگ پر مہاراشٹر اردو اکادمی نے انعام سے نوازا۔ سرو ساماں پر مدھیہ پردیش نے ’اقبال سمان‘ دیا، غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی نے غالب انعام سے نوازا۔ دہلی اردو اکادمی نے 1985ء میں بہادر شاہ ظفر ایوارڈ دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *