حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانیؒ
وفات: ۱۳۴۸ھ مطابق ۱۹۲۹ء
آپ ( حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانیؒ ) حضرت مولانا فضل الرحمنؒ کے خلفِ رشید تھے۔ حضرت مفتی عزیز الرحمن عثمانیؒ اور علامہ شبیر احمد عثمانیؒ آپ کے حقیقی بھائی ہیں۔ حق تعالیٰ نے آپ کو دین کا خاص فہم عطا فرمایا تھا۔ آپ کی دانش و تدبیر مشہور زمانہ تھی۔ ادبیات کے ماہر تھے، عربی نظم و نثر دونوں پر کمالِ قدرت رکھتے تھے۔ آپ کا تدبر و انتظام دارالعلوم کی تاریخ میں مثالی سمجھا جاتا ہے۔ دارالعلوم کی ترقی میں ان کی خدمات اور خداداد صلاحیتوں کو بڑا دخل حاصل تھا۔

آپ ( مولانا حبیب الرحمن عثمانیؒ ) کی تاریخِ پیدائش محفوظ نہیں۔ شروع سے آخر تک دارالعلوم میں علوم کی تکمیل کی۔ آپ کی فراغت ۱۳۰۰ھ میں ہوئی۔ اسی سال دارالعلوم میں بطور مدرس رکھے گئے۔ آپ حضرت گنگوہیؒ کے متوسل اور طریقت کے معمولات کے پابند تھے۔ ۱۳۲۵ھ / ۱۹۰۷ء میں حضرت مولانا حافظ محمد احمد صاحب کی مصروفیات کے باعث نیز دارالعلوم کو ترقی دینے کے سلسلے میں ایک ایسے لائق اور بیدار مغز شخص کی ضرورت پیش آئی جو انتظامی امور اور ترقی کی تجویزوں میں حافظ صاحب کا ہاتھ بٹا سکے۔ اس کے لیے آپ سے زیادہ موزوں کوئی اور دوسرا شخص موجود نہ تھا، چنانچہ انکار کے باوجود آپ کو مجبور کر کے نیابتِ اہتمام کا منصب سپرد کر دیا گیا۔ یہ دارالعلوم کی خوش قسمتی تھی کہ اس کو مولانا حبیب الرحمن عثمانیؒ صاحب عثمانی جیسا کام کرنے والا، بیدار مغز، منتظم اور مخلص ہاتھ آ گیا۔ اہتمام کے کاموں میں ان کو اس قدر شغف تھا کہ شب و روز کا بیشتر حصہ اسی میں صرف ہوتا تھا۔
انہوں نے دارالعلوم کے شعبہٴ انتظام و انصرام کو اتنا منظم اور مستحکم کر دیا تھا کہ جب حکومتِ آصفیہ کی جانب سے نواب صدر یار جنگ بہادر دارالعلوم کے حسابات کی تنقیح کے لیے دیوبند آئے، تو ان کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ایک ایک اور دو دو آنے تک کے حسابات کے کاغذات اور رسیدیں باضابطہ طور پر فائل میں موجود تھیں، نواب صدر یار جنگ بہادر کا بیان ہے کہ کوئی کاغذ ایسا نہ تھا کہ جو مانگا گیا ہو اور فوراً پیش نہ کر دیا گیا ہو، حافظ صاحب کے عہدِ اہتمام کی ترقی در حقیقت آپ ہی کی رفاقت کا نتیجہ سمجھی جاتی ہے، آپ ان کے دستِ راست، معتمد علیہ اور نائب رہے ۔
۱۳۴۴ھ مطابق ۱۹۲۵ء میں جب حافظ صاحب اپنی پیرانہ سالی کے باعث حیدرآباد کے مفتی اعظم کے منصب سے سبکدوش ہوئے تو ان کی جگہ پر آپ کا تقرر عمل میں آیا لیکن دارالعلوم میں داخلی اختلافات رونما ہو جانے کے سبب آپ کو بہت جلد اس منصب سے دست کش ہو جانا پڑا۔ اسی طرح جب حضرت علامہ انور شاہ، حضرت مفتی عزیز الرحمن اور حضرت مولانا شبیراحمد عثمانی رحمہم اللہ اور دوسرے چند اساتذہ طلبہ کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ دارالعلوم سے علیحدہ ہو گئے تھے، یہ بڑا نازک موقع تھا مگر آپ کے عزم واستقلال، ہمت و جرأت اور دانش و تدبیر نے دارالعلوم کی کشتی کو ڈگمگانے سے بچالیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زبردست انتظامی صلاحیت اور سیاسی سوجھ بوجھ عطا فرمائی تھی۔ دارالعلوم پر سخت سے سخت وقت آئے، بڑی بڑی یورشیں ہوئیں لیکن آپ کو کبھی ہراساں اور پریشان نہیں دیکھا گیا۔ سنگین سے سنگین حالات میں بھی ان کے اطمینان اور خود اعتمادی میں کوئی فرق نہیں آتا تھا۔
مولانا حبیب الرحمن عثمانیؒ کی شخصیت ہر حیثیت سے یگانہ روزگار تسلیم کی جاتی تھی عام خیال ہے کہ اگر آپ کو ملک کی سیاست میں بھی اتنا ہی شغف ہوتا جیسا کہ دارالعلوم کے ساتھ تھا، تو آپ ہندوستان کے نمایاں سیاسی لیڈر ثابت ہوتے۔ حضرت شیخ الہندؒ کی وصیت تھی کہ ارکانِ جمعیہ علماء کے دو آدمیوں کو کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے، ان میں پہلا نام آپ ہی کا تھا، چنانچہ آپ جمعیۃ علماء کے بہترین مشیر ثابت ہوئے۔ ۱۳۴۰ھ مطابق ۱۹۲۱ء میں جمعیۃ علماء کا اجلاس گیا (صوبہ بہار) میں ہوا تھا اس میں آپ کو صدر منتخب کیا گیا۔ آپ کا خطبہٴ صدارت نہ صرف عام طور پر پسند کیا گیا بلکہ اس کی سیاسی اہمیت کے پیش نظر ملک کے سیاسی حلقوں میں بھی سراہا گیا۔
مطالعے کی کثرت نے آپ کو نہایت وسیع المعلومات بنا دیا تھا، حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ فرمایا کرتے تھے: ’اگر مجھے کسی کے علم کا اثر پڑتا ہے تو وہ مولانا حبیب الرحمن عثمانیؒ ہیں‘۔
تصنیفات و تالیفات
عربی ادب اور تاریخ سے خاص ذوق تھا اور ان علوم میں ان کی وسیع النظری مشہورِ زمانہ تھی۔ مندرجہ ذیل تصانیفِ علمی یادگار ہیں:
(۱) قصیدة لامیۃ المعجزات: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عربی نعت میں تقریباً تین سو اشعار پر مشتمل ہے، جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سو معجزے نہایت فصیح و بلیغ انداز میں پیش کئے گئے ہیں۔ مولانا محمد اعزاز علی صاحب امروہوی (وفات ۱۳۷۴ھ) نے عربی اشعار کی سلیس اردو میں شرح فرمادی ہے۔
(۲) اشاعتِ اسلام: دنیا میں اسلام کیوں کر پھیلا؟ اس سوال کے جواب میں تقریباً پانچ سو صفحات پر مشتمل ان تاریخی واقعات کو پیش کیا گیا ہے جو اپنی نفسیاتی کشش کے اعتبار سے اشاعتِ اسلام کا باعث ہوئے۔ یہ کتاب پہلے قسط وار مضامین کی شکل میں ماہنامہ القاسم میں شائع ہوئی۔ اشاعتِ اسلام آپ کی معرکہ الآراء تصنیف ہے جو خواص و عوام میں بہت مقبول ہوئی۔
(۳) تعلیماتِ اسلام: اس کتاب میں اسلام کے طرزِ حکومت کو بیان کیا گیا ہے، اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ مشورہ امیر جماعت کے لیے کس قدر ضروری ہے۔ اس ضمن میں آپ نے بتایا ہے کہ امیر کی ذات پر اگر کلی اعتماد ہو تو اکثریت و اقلیت کی رائے شماری کی ضرورت نہیں ہے، لیکن امیر اگر ایسا اعتماد حاصل نہ ہو تو پھر کام چلانے کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ اکثریت کا اعتبار کیا جائے۔
(۴) حاشیہ مقاماتِ حریری: حلِ لغات کے ساتھ پہلی مرتبہ مطبع مجتبائی دہلی سے شائع ہوا۔
(۵) حاشیہ تفسیر جلالین
(۶) رحمۃ للعالمین (سیدالمرسلین) : یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر ایک نہایت گراں قدر تصنیف ہے، افسوس ہے کہ یہ ناتمام ہے، مگر جس قدر حصہ لکھا جا چکا ہے وہ سیرتِ نبوی کی تصانیف کی فہرست میں ایک عظیم الشان تصنیف کا اضافہ کرتا ہے۔
(۷) رسالہ القاسم والرشید: آپ کی کوششوں سے دارالعلوم میں صحافت کا آغاز ہوا۔ علمائے دیوبند کے علوم و معارف عام مسلمانوں تک پہنچانے اور عوام الناس کو دین کے صحیح عقائد و مسائل سے باخبر کرنے کے لیے آپ نے القاسم کے نام سے ماہانہ اردو رسالہ جاری کیا جس کو بعد میں دارالعلوم سے متعلق کر دیا گیا۔ اسی طرح دارالعلوم سے ماہنامہ الرشید بھی آپ کی سرپرستی میں جاری ہوا۔
وفات
مولانا حبیب الرحمن عثمانیؒ صاحب نہایت نحیف الجثہ تھے، خوراک حیرت انگیز طور پر کم تھی، مگر ضعف اور کمزوری کے باوجود بے پناہ ہمت کے مالک تھے، حضرت حافظ صاحب کے انتقال کے ٹھیک چودہ ماہ کے بعد ۳/ رجب ۱۳۴۸ھ مطابق ۵/ دسمبر ۱۹۲۹ء کی شب میں اس جہانِ فانی سے رحلت فرمائی اور ہمیشہ کے لیے دارالعلوم کو اپنا مداح چھوڑ گئے ۔ نور اللہ مرقدہ!
آپ کے انتقال پر علامہ سید سلیمان ندویؒ نے رسالہ معارف کے تعزیتی نوٹ میں لکھا: ’اس مہینہ کا سب سے بڑا علمی اور تعلیمی حادثہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانی کی وفات ہے۔ دیوبند کا مدرسہ عالیہ اگر ہمارے پرانے مدارس کی روح ہے تو اس میں شک نہیں کہ اس مدرسہ عالیہ کی روح حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب عثمانی تھے۔ مرحوم شاید اس مدرسہ کے مقدس بانیوں کی آخری یادگار تھے۔ وہ ایک عالم متبحر اور عربی کے ادیب تھے۔ دیگر علوم کے علاوہ عربی نظم ونثر پر ان کو یکساں قدرت حدرت حاصل تھی۔ اسلامی تاریخ سے بھی ان کو ذوق کامل تھا۔ اردو انشاء میں بھی ان کا سلیقہ خاصہ تھا۔” (معارف، اعظم گڈھ، جمادی الثانیۃ ۱۳۴۸ھ، دسمبر۱۹۲۹ء، ذکر رفتگاں)
مآخذ:
- تاریخ دارالعلوم دیوبند، جلد دوم، ص۵۸ تا ۶۰، ۲۳۳ تا ۲۳۵
- دارالعلوم دیوبند کی پچاس مثالی شخصیات، ص ۱۲۱ تا ۱۲۳
