حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ

۱۲۸۰-۱۳۶۲ھ / ۱۸۶۳-۱۹۴۳ء

آپ ( حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ ) حکیم الامت کے لقب سے مشہور عالم ربانی، عظیم ترین مصنف، مصلحِ وقت اور خدا رسیدہ بزرگ تھے۔ دین کے ہر شعبہ اور ہر موضوع پر آپ نے نہایت قیمتی سرمایہ چھوڑا ہے۔ آپ کا شمار شریعتِ اسلامیہ کے متبحر علماء اور تاریخِ اسلامی کے کثیر التصانیف بزرگوں میں ہوتا ہے اور علماءِ دیوبند میں بھی تصانیف کی تعداد کے لحاظ سے آپ سب سے اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔ آپ طریقت و سلوک میں بھی مقامِ رفیع کے مالک تھے۔ آپ کی ذات علومِ ظاہری و باطنی کا مخزن تھی۔ آپ کی تحریریں علم وفضل کا معدن ہوتی تھیں اور تقریر میں بھی بلا کی اثر انگیزی تھی۔ خود ایک درویش گوشہ نشیں تھے لیکن ان کا آستانہ بڑے بڑے اربابِ ثروت و دولت اور اصحابِ علم وفضل کی عقیدت گاہ تھا۔

حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ
حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ

آپ ( حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ ) کی خانقاہ علم معرفت و روحانیت کا ایک چشمۂ صافی تھا کہ ہزاروں تشنگانِ کام آتے اور سیراب ہو کر جاتے۔ زندگی اتباعِ سنت کا زندہ نمونہ اور گفتگو اسرار و رموزِ طریقت کا دفترِ گراں مایہ تھی۔ مواعظِ حسنہ اور کثیر تصانیف کے ذریعہ حضرت نے اصلاحِ عقائد و اعمال اور ابطالِ رسوم و بدعات کی جو عظیم الشان خدمت انجام دی ہے وہ تمام ہم عصروں میں ان کا طغرائے امتیاز ہے۔ تقویٰ و طہارت، تفقہ فی الدین، شرعی علوم میں مہارت و بصیرت، راست گفتاری و مخلصانہ عمل کوشی، بے لوث خدمتِ دین اور بے غرضانہ تلقینِ رشد و ہدایت آپ کے وہ اوصافِ عالیہ اور فضائلِ حمیدہ ہیں جو ہر موافق ومخالف کے نزدیک برابر مسلم رہے ہیں۔

ولادت اور تعلیم

۵/ ربیع الثانی ۱۲۸۰ھ مطابق ۹/ ستمبر ۱۸۶۳ء کو پیدا ہوئے۔ تاریخی نام کرم عظیم ہے، دادھیال والوں نے عبد الغنی نام تجویز کیا، لیکن حضرت حافظ غلام مرتضیٰ مجذوب پانی پتی کے دیے ہوئے نام اشرف علی سے آپ مشہورِ خلائق ہوئے۔ تھانہ بھون کے شیوخِ فاروقی میں سے تھے۔ پانچ سال کے تھے کہ والدہ محترمہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اس کے بعد مستقل اپنے والد محترم شیخ عبدالحق صاحب کی تربیت میں رہے۔ ذکاوت و ذہانت کے آثار بچپن سے ہی نمایاں تھے۔

 قرآن شریف حافظ حسین علی سے حفظ کیا۔ فارسی اور عربی کی ابتدائی کتابیں وطن میں مولانا فتح محمد تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھیں جو دار العلوم کے اولین فارغین میں سے تھے۔ فارسی کی اعلیٰ کتابیں اپنے ماموں واجد علی صاحب سے پڑھیں۔ ۱۲۹۵ھ / ۱۸۷۸ء کے اواخر میں تکمیلِ علوم کی غرض سے دار العلوم میں داخلہ لیا اور۱۳۰۱ھ / ۱۸۸۳ء میں دار العلوم سے فراغت حاصل کی۔ آپ نے حضرت مولانا محمد یعقوب اولین صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔ حضرت نانوتیؒ سے بھی براہِ راست بعض تفسیری درسوں میں مستفید ہوئے۔ آپ دارالعلوم دیوبند میں اس سال بغرضِ حصولِ تعلیم تشریف لائے تھے جس سال حضرت نانوتیؒ کا وصال ہوا؛ اس لیے حضرت نانوتیؒ سے مزید استفادہ نہیں فرما سکے، بلکہ حضرت ملا محمودؒ، حضرت مولانا سید احمد دہلویؒ، حضرت شیخ الہندؒ، حضرت مولانا عبدالاعلیٰ صاحب وغیرہ سے مختلف کتابیں پڑھیں۔ تجوید وقرأت کی تعلیم مکہ مکرمہ میں قاری محمد عبداللہ مہاجر مکی (استاد مدرسہ صولتیہ، مکہ مکرمہ) سے حاصل کی۔

ابتدائی حالات اور نسبتِ باطنی کا حصول

۱۳۰۱ھ / ۱۸۸۳ء میں اولاً مدرسہ فیض عام کان پور میں صدر مدرس مقرر ہوئے اور پھر مدرسہ جامع العلوم کان پور کی مسندِ صدارت کو زینت بخشی۔ کان پور میں آپ کے درسِ حدیث کی شہرت سن کر دور دور سے طلبہ کھنچے چلے آتے تھے۔ تدریسی خدمات کے علاوہ وعظ وارشاد بھی فرمایا کرتے تھے جس کی وجہ سے لوگ آپ سے کافی قریب ہو گئے۔ باوجودیکہ کان پور میں اہل بدعت کی خاصی تعداد اور زور تھا مگر حضرت تھانوی کی محبت اور آپ سے تعلق لوگوں کے دلوں میں جاگزیں ہو گیا تھا، جب کہ عمر بھی کچھ زیادہ نہ تھی۔

حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے ذریعہ سے بواسطہ خط غائبانہ بیعت حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے ۱۲۹۹ھ / ۱۸۸۲ء میں ہو چکی تھی، پھر ۱۳۰۱ھ / ۱۸۸۳ء کے حج میں حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اخذِ فیض کیا۔ ۱۳۱۰ھ / ۱۸۹۳ء میں دوبارہ حج کیا اور حضرت حاجی صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر دوبارہ ایک زمانہٴ خاص تک رہ کر استفادہٴ باطنی فرمایا اور خلعتِ خلافت سے بہرہ ور ہوئے۔

تھانہ بھون میں مستقل قیام اور علمی و دینی خدمات

حضرت حاجی صاحب کے مشورہ کے مطابق ۱۳۱۵ھ / ۱۸۹۷ء میں کان پور چھوڑ کر خانقاہِ امدادیہ تھانہ بھون میں متوطن ہو کر قیام فرمایا اور وہیں تادمِ واپسیں ۴۷/ سال تک تبلیغ دین، تزکیہ نفس اور تصنیف و تالیف کی ایسی عظیم الشان اور گراں قدر خدمات انجام دیں کہ جس کی مثال اس دور کی کسی دوسری شخصیت میں نہیں ملتی۔ اللہ نے آپ کے وعظ میں بڑا اثر رکھا تھا، بڑے بڑے مجمع میں مخالفین کی اکثریت کے باوجود وعظ فرماتے تھے اور لوگ متاثر ہوتے تھے۔ کان پور میں تدریس چھوڑنے کے بعد وعظ کا شغل تا حیات باقی رہا۔ آپ کا شمار عظیم اصحابِ طریقت اور اکابرِ تصوف میں ہوتا ہے۔ تھانہ بھون میں خانقاہِ امدادیہ میں جویانِ فیض اور طالبانِ حق کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ اس زمانہ کے بڑے بڑے علماء و افاضل آپ کی خدمت میں استفادہ کے لیے حاضر ہوتے تھے۔ اس راہ سے آپ نے اسلام اور اہل اسلام کی جو خدمت کی، وہ کم ہی لوگوں کے نصیب میں آئی ہے۔

حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے مواعظ، تصانیف اور ملفوظات نے لاکھوں انسانوں، ہزاروں مسلمانوں اور سیکڑوں کو متقی کامل بنا دیا۔ آپ کی بدولت بے شمار بدعات اور غیر اسلامی رسوم کے دروازے بند ہوئے، آپ کی تصانیف و مواعظ سے لاکھوں افراد کو علمی و عملی فیض پہنچا، عوام اور خواص کا جتنا بڑا طبقہ بیعت و ارشاد کی راہ سے اس دور میں ان سے مستفیض ہوا اس کی مثال کم ہی ملے گی۔ ان کی رفعت وبلندی کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ غیر منقسم ہندوستان کے بڑے بڑے صاحبِ علم وفضل اور اہلِ کمال ان کے حلقۂ بیعت میں شامل تھے۔

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے مشہور خلفاء ومنتسبین میں برصغیر کے جلیل القد ر علماء، فضلاء اور بزرگانِ دین کے نام آتے ہیں، مثلاً: حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ مہتمم دارالعلوم دیوبند، حضرت مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ مفتی اعظم پاکستان و بانی دارالعلوم کراچی، مولانا ظفر احمد عثمانیؒ مرتب اعلاء السنن، حضرت مولانا عبدالبارئ ندوی، حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ، حضرت مولانا عبدالماجد دریابادی، حضرت مولانا محمد عیسیٰ الہٰ آبادی، حضرت مولانا وصی اللہ الہٰ آبادی، حضرت مولانا مسیح اللہ جلال آبادی، حضرت مولانا عبدالغنی پھول پوریؒ، حضرت مولانا ابرار الحق ہردوئیؒ وغیرہہم۔ ان کی ذات والا صفات علم و حکمت اور معرفت و طریقت کا ایک ایسا سرچشمہ تھی جس سے نصف صدی تک برصغیر کے مسلمان سیراب ہوتے رہے۔ دین کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں ان کی عظیم خدمات تقریری و تصنیفی صورت میں نمایاں نہ ہوں۔

تصنیفی خدمات

حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کا علم نہایت وسیع اور گہرا تھا، جس کا ثبوت آپ کی تصانیف کا ہر ہر صفحہ دے سکتا ہے۔ دین کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں تصانیف موجود نہ ہوں۔ وہ اپنی تصانیف کی کثرت اور افادیت کے لحاظ سے ہندوستانی مصنفین میں اپنا جواب نہیں رکھتے۔ آپ کی چھوٹی بڑی تصانیف کی تعداد ساڑھے تین سو کے قریب ہے۔ ان کے علاوہ تین سو سے زائد وہ مواعظ ہیں جو چھپ چکے ہیں۔ مجموعی طور پر حضرت تھانوی کی تصانیف ورسائل کی تعداد تقریباً آٹھ سو ہے۔ برصغیر کے پڑھے لکھے مسلمانوں کے کم گھر ایسے ہوں گے جہاں حضرت تھانوی کی کوئی تصنیف موجود نہ ہو۔ ان میں بہشتی زیور کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ ہر سال مختلف مقامات سے ہزاروں کی تعداد میں چھپتی ہے اور ہاتھوں ہاتھ نکل جاتی ہے۔

کل کی کل تصنیفات حقائقِ علمیہ اور نکاتِ احسانیہ سے لبریز ہیں۔ ان میں تفسیر بیان القرآن، شرح مثنوی مولانا روم، امداد الفتاویٰ، التکشف وغیرہ کئی کئی جلدوں میں ہیں۔ ملفوظات، مواعظ اور خطبات کی تعداد سیکڑوں کی حد تک ہے۔ ان تصانیف میں مشکل آیاتِ کریمہ کی تفسیر، احادیثِ شریف کی شرح اور فقہ کے مشکل مسائل کے جواب، سلوک و طریقت کے نکتے، اخلاقی فضائل اور رذائل کی حکیمانہ تحقیق اور ان کے حصول وازالہ کی تدابیر اور زمانہ حال کے شکوک وشبہات کے جوابات سب کچھ ہیں۔ تصانیف میں متفرق علوم و مسائل اس کثرت سے ہیں کہ اگر ان میں سے ہر موضوع کے مباحث کو علیحدہ علیحدہ کیا جائے تو ہر موضوع پر ایک ایک مستقل کتاب بن جائے۔ چنانچہ اس قسم کے درجنوں مجموعے آچکے ہیں اور اب تک اس کا سلسلہ جاری ہے۔ خطوط کے جوابات کا جن کے متعلق وفات کے دن تک یہ اہتمام رہا کہ آج کے خط کا جواب کل کے لیے نہ اٹھا رکھا جائے، عظیم الشان دفتر الگ ہے۔

تصنیفات میں بلکہ ہر تحریر میں اہلِ نظر کو معلوم ہوگا کہ گویا مصنف کے سامنے سارے مسائل ومواد یکجا ہیں اور وہ سب کو اپنی اپنی جگہ احتیاط سے رکھتا جاتا ہے۔ عام طور سے یہ ہوتا ہے کہ مصنف جس موضوع پر قلم اٹھاتا ہے اس میں اس کو ایسا غلو ہو جاتا ہے کہ دوسرے گوشوں سے اس کو ذہول ہو جاتا ہے۔ لیکن حضرت کی تصانیف کی خاص بات یہ ہے کہ آپ کا قلم مکمل احتیاط اور رعایت کے ساتھ غلو سے بچ کر اس طرح نکلتا ہے کہ جانے والوں پر حیرت چھا جاتی ہے۔ آپ کا ترجمۂ قرآن، بتاثیر، سہولتِ بیان اور بیانِ مطالب میں اپنی نظیر آپ ہے۔ بیان القرآن آپ کا عظیم الشان کارنامہ ہے۔ اسی طرح حدیث میں اعلاء السنن کے نام سے فقہ حنفی کی مستدل احادیث کا جو زبردست ذخیرہ مرتب کیا گیا وہ آپ ہی کی کوششوں سے وجود میں آیا۔

آپ کی زندگی بڑی منظم تھی۔ کاموں کے اوقات مقرر تھے اور ہر کام اپنے وقت پر انجام پاتا تھا۔ متوسلین کے بہت خطوط آتے تھے، مگر بغیر وقت ہر ایک کا جواب خود اپنے قلم سے تحریر فرماتے تھے۔ سچ یہ ہے کہ آپ کی زندگی میں برکت، تصانیف و مشاغلِ علمیہ کی کثرت و افادیت کا راز بھی بظاہر اسی نظم وضبط اور وقت کے صحیح استعمال میں پوشیدہ ہے۔ ورنہ ۷۲/ سال کی مدت میں تصوف و سلوک اور مسترشدین کی اصلاح و خانقاہ کے انتظام کے ساتھ دین کے تقریباً ہر شعبہ اور فن میں تقریباً آٹھ سو نہایت قیمتی، تحقیقی اور بلند پایہ علمی تصانیف کا ذخیرہ جو ہزارہا صفحات پر پھیلا ہو، کوئی معمولی کارنامہ نہیں، بلکہ ایک زندہ کرامت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو استغناء کے ساتھ فیاضی کے جوہر سے بھی نوازا تھا۔ حضرت تھانوی کی یہ ایک امتیازی خصوصیت ہے کہ اپنی تصانیف سے کبھی ایک پیسہ کا فائدہ حاصل نہیں کیا۔ تمام کتابوں کے حقوقِ طبع عام تھے اور جس کا جی چاہے انہیں چھاپ سکتا تھا۔ حضرت تھانوی کی سیر چشمی اور فیاضی، خلوص وللّٰہیت کی دلیل اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ اپنی تصنیفات کی غیر معمولی مقبولیت کے باوجود آپ نے کبھی کسی کتاب کا حقِ اشاعت وطبع اپنے لیے محفوظ نہیں رکھا حالاں کہ اس سے ان کو بلا شبہ لاکھوں کی آمدنی ہو سکتی تھی۔

دارالعلوم دیوبند کی سرپرستی

۱۳۲۰ھ / ۱۹۰۲ء میں حکیم الامت کو دارالعلوم کا رکنِ شوریٰ بنایا گیا۔ ۱۳۴۴ھ / ۱۹۲۵ء میں حکیم الامت حضرت تھانویؒ دارالعلوم دیوبند کے سرپرست ہوئے۔ آپ نے اپنی باطنی توجہات اور صرفِ ہمت کے ذریعہ دارالعلوم کو فتن و حوادث کے تھپیڑوں سے محفوظ رکھا۔ ۱۳۵۴ھ / ۱۹۳۵ء میں اپنی گونا گوں مصروفیات کی وجہ سے آپ نے سرپرستی کے منصب سے استعفاء دے دیا۔ اس کے بعد دارالعلوم کے سرپرست کے نام سے کسی شخصیت کا انتخاب عمل میں نہیں آیا۔

وفات

۱۵-۱۶ رجب ۱۳۶۲ھ (مطابق ۱۹-۲۰ جولائی ۱۹۴۳ء)، کی درمیانی شب کو تھانہ بھون میں آپ نے اس جہانِ فانی کو خیر باد کہا۔ تھانہ بھون ہی میں حافظ ضامن شہیدؒ کے مزار کے قریب اپنے ذاتی باغ میں جسے آپ نے خانقاہِ امدادیہ کے نام وقف کر دیا تھا، مدفون ہوئے۔

حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ نے آپ کے انتقال کے موقع پر لکھا:

”اب اس دور کا بالکل خاتمہ ہو گیا جو حضرت شاہ امداد اللہ مہاجر مکی، مولانا یعقوب نانوتوی، مولانا قاسم نانوتوی، مولانا شیخ محمد تھانوی رحمہم اللہ کی یادگار تھا اور جس کی ذات میں حضراتِ چشت اور حضرت مجددِ الفِ ثانی اور حضرت سید احمد شہید کی نسبتیں یکجا تھیں، جس کا سینہ چشتی ذوق و شوق اور مجددی سکون و محبت کا مجمع البحرین تھا، جس کی زبان شریعت و طریقت کی وحدت کی ترجمان تھی، جس کے قلم نے فقہ و تصوف کو ایک مدت کی ہنگامہ آرائی کے بعد باہم ہم آغوش کیا تھا اور جس کے فیض نے تقریباً نصف صدی تک اللہ تعالیٰ کے فضل و توفیق سے اپنی تعلیم و تربیت اور تزکیہ و ہدایت سے ایک عالم کو مستفید بنا رکھا تھا، اور جس نے اپنی تحریر و تقریر سے حقائقِ ایمانی، دقائقِ فقہی، اسرارِ احسانی اور رموزِ حکمتِ ربانی کو بر ملا فاش کیا تھا۔ اسی لیے دنیا نے اس کو ’حکیم الامت‘ کہہ کر پکارا اور حقیقت یہ ہے کہ اس اشرفِ زمانہ کے لیے یہ خطاب عینِ حقیقت تھا۔“ (یادِ رفتگاں، ص ۲۵۳ تا ۲۵۵)

حکیم الامتؒ کے تفصیلی احوال کے لیے دیکھیے: اشرف السوانح (خواجہ عزیز الحسن مجذوبؒ)، حکیم الامت نقوش و تاثرات (مولانا عبدالماجد دریابادیؒ)

مآخذ:

  • تاریخ دارالعلوم دیوبند، جلد دوم، ص ۵۱ تا ۵۶
  • یادِ رفتگاں، مولانا سید سلیمان ندوی، ص ۲۵۳ تا ۲۶۸
  • مشاہیرِ علمائے دیوبند، ص ۶۶ تا ۸۳

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *