خواجہ حسن نظامی کے ہم زاد کا قصہ

سہیل انجم

خواجہ حسن نظامی ایک صاحب طرز انشا پرداز، منفرد ادیب و قلمکار اور اردو زبان کے شہسوار تھے۔ موضوع پر تو سب لکھتے ہیں وہ بغیر موضوع کے لکھتے تھے۔ البتہ مضمون کے عنوان پر گھنٹوں غور کرتے اور جب ایک اچھوتا عنوان ان کے ذہن میں آجاتا تو وہ فٹا فٹ مضمون بھی قلم بند کر دیتے۔ ان کی قوت مشاہدہ بہت تیز تھی۔ وہ کہیں سے سرسری بھی گزر جاتے تو اپنے تاثرات ایسی جزیات کے ساتھ بیان کرتے کہ حیرت ہوتی۔ خواجہ صاحب 27 دسمبر 1878 کو بستی حضرت نظام الدین دہلی میں پیدا ہوئے اور 31 جولائی 1955 کو بستی ہی میں ان کا انتقال ہوا۔ درگاہ حضرت نظام الدین کے احاطے میں دفن کیے گئے۔ ان کا پیدائشی نام قاسم علی تھا۔ ان کے ماموں بہادر علی شاہ بچپن میں انھیں علی حسن کہہ کر پکارتے تھے۔ رفتہ رفتہ یہی نام زبانوں پر چڑھ گیا۔ وہ ابتدائے عمر میں سید علی حسن ہوئے اور پھر سید علی حسن نظامی کہلائے۔ اسی نام سے انھوں نے اردو میں پہلا مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ”انڈیا کی نازک حالت“ اور وہ انڈیا گزٹ بمبئی میں شائع ہوا۔ پھر وہ خواجہ حسن نظامی ہو گئے اور بالآخر اپنی تحریروں کی بدولت ”شمس العلما، مصور فطرت، حضرت خواجہ حسن نظامی“ کہلائے۔ عسرت و تنگ دستی نے ان کے ہاتھ میں قلم پکڑایا تھا۔ وہ تھے تو پیر زادے لیکن حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے مزار پر آنے والے نذر و نیاز سے انھیں ذرا بھی دلچسپی نہیں تھی۔ انھوں نے ذریعہ معاش کے لیے کتابوں کی دکان کر لی تھی جس سے ان کو بڑا فیض پہنچا۔ اسی کے توسط سے انھوں نے مولانا عبد الحلیم شرر کے ناول پڑھے اور ان کو انشا پردازی کا چسکہ لگا۔

خواجہ حسن نظامی کے ہم زاد کا قصہ
خواجہ حسن نظامی کے ہم زاد کا قصہ

 وہ ہر فن مولیٰ قسم کے انسان تھے۔ ان کی متعدد کتابیں ہیں۔ وہ ”نظام المشائخ“ نامی اخبار بھی نکالتے تھے۔ ان کے ساتھ اس عہد کے ایک بڑے قلم کار ملا واحدی بھی تھے۔ خواجہ صاحب مہم جوئیوں میں بھی یقین رکھتے تھے۔ وہ زمانے سے الگ ڈگر پر چلنے میں یقین رکھتے تھے۔ مہم جوئی کی خُو کی وجہ سے ہی انھیں ایک بار تسخیر ہم زاد و جنات کا شوق پیدا ہوا۔ اس سلسلے میں انھوں نے اپنے مضامین میں تفصیلات پیش کی ہیں۔ یہاں یہ بتاتے چلیں کہ عملیات کا ایک علم ہوتا ہے جس کے حصول کے لیے بڑے مجاہدے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بڑے بڑے خطرات سے کھیلنا پڑتا ہے۔ اس عمل میں کمزور دل کے لوگ پاگل بھی ہو جاتے ہیں۔ جان جانے کا بھی خطرہ رہتا ہے۔ خواجہ حسن نظامی نے جوانی کے دور میں اس شوق کے چکر میں دو سال تک سخت محنت کی اور مختلف چلے کاٹے۔ سردیوں کے موسم میں دریا کے ٹھنڈے پانی میں گھنٹوں کھڑے رہ کر وظائف پڑھنا، ترک حیوانات (گوشت اور دیگر حیوانی غذاوں سے پرہیز) اور کڑی ریاضتوں کی وجہ سے ان کا جسم سوکھ کر کانٹا ہو گیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ بعد میں انھیں اندازہ ہوا کہ وہ صوفیانہ خانقاہ سے وابستہ ہونے کے باوجود کس غلط راستے پر چل پڑے تھے۔ انھوں نے اسی وقت تسخیر ہم زاد کے تمام اعمال اور چلّوں سے توبہ کی اور اپنا رخ تصوف، خدمت دین اور اردو ادب کی طرف موڑ دیا۔

یہاں ان کے ایک واقعہ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک عبرت آموز تحریر ہے۔ اس قسم کا شوق رکھنے والوں کے لیے اس میں ایک سبق پوشیدہ ہے۔ سبق یہ ہے کہ ایک انسان کو انسان ہی رہنا چاہیے اسے اپنے اندر مافوق الفطرت خصوصیات پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اسے اپنا یہ مرتبہ کھونا نہیں چاہیے۔ اسلام میں یہ کہیں نہیں کہا گیا ہے کہ انسانوں کو جنات وغیرہ کو اپنے بس میں کرنا چاہیے۔ خواجہ صاحب کے یہ مضامین جن میں انھوں نے اپنے تجربات بیان کیے، یہاں کے متعدد اخباروں میں شائع ہوئے تھے۔ بعد ازاں ان کو لاہور کے سیارہ ڈائجسٹ نے 1971 کے اپنے سالنامہ میں شائع کیا تھا۔ اب انہیں مضامین کو کراچی کے ایک ادیب و مصنف راشد اشرف نے اپنی مرتب کردہ کتاب ”حیرت کدہ“ میں شامل کیا ہے۔ اس کتاب کو ہندوستان میں ”ارسم پبلی کیشنز“ نے شائع کیا ہے۔ ارسم کے مالک دہلی کے ایک نوجوان پبلشر محمد عمران قنوجی ہیں۔ انھوں نے جس خوبصورتی کے ساتھ اسے شائع کیا ہے اس کی داد دیتے ہی بنتی ہے۔ (کتاب کی قیمت 750 روپے۔ رابطہ نمبر: 9899506816/9910981586)

 اس کتاب میں شامل خواجہ صاحب کا ایک مضمون پیش کیا جا رہا ہے تاکہ جو لوگ اس قسم کی خواہش رکھتے ہوں وہ خواجہ صاحب کے تجربے سے سبق لیں۔ وہ لکھتے ہیں میری عمر پچیس سال کی تھی۔ ریاست پیٹالہ کے ایک بزرگ عامل نے مجھے ہم زاد کا عمل سکھایا اور کہا کہ یہ عمل اُلٹی بسم اللہ کا ہے۔ اس کو انیس ہزار انیس مرتبہ کھڑے ہو کر روزانہ رات کے وقت پڑھا جاتا تھا۔ چراغ پیٹھ کے پیچھے رکھا جاتا تھا اور چھری حصار کے اندر رکھ لیتا تھا۔ استاد کا کہنا تھا کہ حصار کے باہر جو تماشا دیکھو اس سے نہ ڈرنا۔ حصار کے اندر کوئی چیز آجائے تو چھری مارنا۔ یہ عمل چھ گھنٹے میں پورا ہوتا تھا اور میں کھڑے کھڑے اس قدر تھک جاتا تھا کہ چکر آنے لگتے تھے۔ آٹھویں دن مجھے اپنا سایہ ہلتا دکھائی دیا۔ نویں دن وہ سایہ قلابازیاں کھانے لگا اور دسویں دن غائب ہو گیا۔ انیسویں دن تک غائب رہا۔ میں روز عمل پڑھتا رہا۔ روشنی پشت پر ہوتی تھی مگر مجھے اپنے قد کا سایہ حجرے کے اندر دکھائی نہ دیتا تھا۔ اس حجرے میں میری پشت پر ایک روشن دان تھا جس کے کواڑ بند کر کے میں کنڈی لگا لیا کرتا تھا۔ انیسویں رات میں کھڑا عمل پڑھ رہا تھا۔ کوئی دو بجے رات کا عمل ہوگا کہ یکایک مجھے روشن دان سے کسی جانور کے اڑنے اور اندر آنے کی آواز آئی۔ سامنے روشنی میں دیکھا کہ ہو بہو میری شکل وصورت اور لباس کا ایک آدمی میرے سامنے دروازے کی طرف پیٹھ کیسے بیٹھ گیا مگر حصار سے باہر ہے۔ وہ آدمی مجھے گھور گھور کر دیکھ رہا تھا۔ پہلے تو مجھے اپنی صورت کا آدمی دیکھ کر حیرت ہوئی اور کچھ دیر کے بعد میں ڈرا، اور مجھ پر خوف طاری ہوا۔ عمل پڑھتا تھا اور پڑھا نہ جاتا تھا۔ زبان سوکھ گئی تھی۔ حلق خشک ہو گیا تھا۔ آخر میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ تب بھی وہ شکل آنکھوں سے دور نہ ہوئی اور بند آنکھوں کو نظر آتی رہی تو میں نے آنکھ کھول دی۔ یکا یک ایک دوسرا آدمی میری شکل کا روشن دان سے اندر آیا اور اس آدمی کے برابر بیٹھ گیا۔ وہ دونوں چپ تھے اور مجھے گھور گھور کر غصے کی آنکھوں سے دیکھتے جاتے تھے۔ کچھ دیر کے بعد پھر تیسرا آدمی میری صورت کا آ گیا اور یہ بھی مجھے گھور گھور کر دیکھنے لگا۔ میرا عجب حال تھا۔ تمام جسم کانپ رہا تھا۔ عمل کے نقرے زبان سے ادا ہونے بند ہو گئے تھے۔ تسبیح ہاتھ سے گر پڑی تھی۔

یکا یک میں نے سنا کہ پہلے آنے والے نے میری جیسی آواز میں کہا میاں کچھ پکاتے کیوں نہیں۔ دوسرے نے کہا کیا پکا ئیں؟ تیسرے نے کہا کڑھائی کرو۔ یہ کہتے ہی پہلا آدمی اچکا اور اڑتا ہوا روش دان میں گھس گیا۔ کچھ دیر کے بعد وہ اندر آیا۔ اس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک چولہا تھا اور لکڑیاں تھیں۔ اس کے بعد دوسرا آدمی اڑ گیا اور کچھ دیر کے بعد آیا تو ایک کڑھائی اور تیل کا ایک کنستر لایا۔ کنستر پر چیکٹ لگا ہواتھا۔ انھوں نے کڑھائی چولہے پر رکھ دی اور تیل کڑھائی میں اور لکڑیاں چولہے میں بھر دیں۔ تیسرے آدمی نے لکڑیوں میں ایک پھونک ماری۔ لکڑیاں خود بخود جلنے لگیں اور تیل میں جوش آنے لگا۔ اس کے بعد وہ تینوں آپس میں کہنے گے اب اس کڑھائی کے تیل میں کیا تلیں۔ پہلے آنے والے نے کہا اس آدمی کو تیل میں ڈال دو جو سامنے کھڑا ہے۔ یہ سن کر میری بری حالت ہوگئی اور غش آتا معلوم ہوا۔ ہاتھ پاو ¿ں کانپ رہے تھے اور سارا بدن تھر تھرا رہا تھا اور پسینہ آرہا تھا۔ آخر میں جھکا اور میں نے اپنے ہاتھ سے چھری زمین سے اٹھالی اور اسے اس خیال سے پکڑ لیا کہ اگر یہ لوگ میری طرف مجھے پکڑنے کو بڑھیں تو میں ان کے چھری مار دوں۔

ایکا ایکی کیا دیکھتا ہوں کہ چولہے کی بھڑکتی ہوئی آگ کے اندر ایک زندہ چوہا پھر رہا ہے۔ میرے خوف میں ذرا کمی ہوئی اور میں چوہے کو دیکھے لگا کہ یہ جلتا نہیں۔ ایک آدمی نے چولہے کے اندر ہاتھ ڈالا اور چوہے کی دم پکڑی اور چوہے کو آگ سے باہر لے آیا۔ پھر چوہے کو کڑھائی کے جوش کھاتے ہوئے تیل میں ڈال دیا۔ چوہا ابلتے ہوئے تیل میں کبھی او پر آتا اور بھی تیل کے اندر چھپ جاتا۔ تھوڑی دیر کے بعد چوہے نے اپنا منہ تیل کے باہر نکالا اور اس کی ناک سے خون کا فوارہ نکلنے لگا اور اتنا نکلا کہ کڑھائی میں تیل نہ رہا خون ہی خون دکھائی دینے لگا۔ اس خون کے اندر سے ایک کالے آدمی کا سر نکلا جس کے بال حبشیوں کے سے تھے۔ آنکھیں بڑی بڑی اور پھٹی ہوئی اور لال لال، چہرہ کالا ، ناک چپٹی، دانت زرد اور بے حد خوفناک۔ اس چہرے نے بھی مجھے گھور نا شروع کیا اور اس کے اندر سے بلی کے غرانے کی سی گرج اور پھر شیر کی سی گرج پیدا ہوئی۔ ایسا معلوم ہوا کہ وہ کالا حبشی میری طرف غراتا ہوا بڑھا۔ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ وہ کڑھائی سے نکل کر حصار کے اندر آ گیا ہے۔ میرا ڈر کے مارے برا حال تھا۔ چیخ مار کر گر پڑتا کہ مجھے استاد کی بات یاد آئی کہ کوئی چیز اندر آ جائے تو اس کے چھری مارنا۔ میں نے بہت زور سے وہ چھری اس حبشی کے تالو پر ماری۔ چھری کا مارنا تھا کہ ایسا معلوم ہوا گویا میں نے وہ چھری اپنے دل میں ماری اور میں غش کھا کر گر پڑا۔ میں ساری رات بے ہوش پڑا رہا۔ صبح سورج نکلا تو ہوش آیا۔ میں نے دیکھا وہاں نہ کڑھائی ہے، نہ چولہا ہے، نہ لکڑیاں ہیں، نہ آگ کا نشان ہے اور نہ ہی ان تینوں آدمیوں کا کہیں اتا پتا ہے، نہ ان کے بیٹھنے کی جگہ کوئی علامت ہے۔ چھری حصار کے باہر زمین پر گڑی ہوئی ہے۔ باوجود خوف اور ڈر کے میں نے چھری اس زور سے ماری تھی کہ وہ زمین کے اندر آدھی گھس گئی تھی۔ میرا یہ حال تھا گویا برسوں سے بیمار ہوں۔ بہت مشکل سے اٹھا اور حجرے کے کواڑ کھولے۔ ہاتھ پاو ¿ں میں دم نہ تھا۔ سر چکرا رہا تھا۔ اس واقعے کے بعد بھی میں چھ ماہ بیمار رہا۔

بعد میں انھوں نے ”ہم زاد، روح اور جن“ کے عنوان سے متعدد مضامین لکھے۔ جن میں انھوں نے اپنے تجربات و مشاہدات کا ذکر کیا تاکہ دوسرے لوگ ان گمراہ کن راستوں پر چل کر اپنا وقت اور ایمان برباد نہ کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *