دورِ ثانی کے کلیدی عہدہ داران

حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ

۱۳۰۵-۱۳۶۹ھ / ۱۸۸۷-۱۹۴۹ء

حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز فضلاء اور حضرت شیخ الہند کے معتمد علیہ تلامذہ میں سے تھے۔ ایک عرصہ تک آپ نے دارالعلوم میں تدریسی خدمات انجام دیں اور کچھ برسوں تک صدر مہتمم بھی رہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان کی سب سے زیادہ نمایاں شخصیات میں آپ کا شمار ہوتا تھا اور شیخ الاسلام کے لقب سے جانے جاتے تھے۔ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے رکن اور شرعی دستور ساز کمیٹی کے صدر بھی تھے۔ آپ غیر معمولی ذہانت و ذکاوت کے حامل تھے۔ علم بڑا مستحضر اور راسخ تھا۔ علومِ عقلیہ سے خاص ذوق تھا، منطق و فلسفہ اور علم کلام میں غیر معمولی دسترس تھی۔ آپ حکمتِ قاسمیہ کے بہترین شارح تھے۔ علومِ قرآنی اور حدیث میں بھی یدِ طولیٰ حاصل تھا۔ حضرت شیخ الہند کے ترجمہٴ قرآن پر آپ کے تفسیری حواشی اور صحیح مسلم کی مشہور عربی شرح فتح الملہم آپ کے علمی کمالات کی آئینہ دار ہے۔

حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ
حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ

ابتدائی حالات

حضرت مولانا عثمانی ۱۰/ محرم ۱۳۰۵ھ / ۲۸/ ستمبر ۱۸۸۷ء کو بمقام بجنور پیدا ہوئے۔ آپ حضرت مولانا فضل الرحمن عثمانی دیوبندی کے فرزندِ رشید تھے۔ حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانی مہتمم دارالعلوم اور حضرت مفتی عزیز الرحمن دیوبندی مفتی اعظم دارالعلوم کے بھائی تھے۔ سات سال کی عمر میں حافظ محمد عظیم دیوبندی کے سامنے بسم اللہ ہوئی۔ فارسی کی کتابیں مولانا محمد مبین صاحب دیوبندی سے پڑھیں۔ ۱۰/ ربیع الثانی ۱۳۱۹ھ / ۲۷/ جولائی ۱۹۰۱ء کو دارالعلوم دیوبند میں عربی تعلیم کے لیے داخل ہوئے۔ آپ کے عربی کے اساتذہ میں حضرت شیخ الہند، حضرت مولانا غلام رسول ہزاروی، حضرت مولانا حکیم محمد حسن دیوبندی، حضرت مولانا محمد یسین صاحب شیر کوٹی وغیرہ علماء شامل تھے۔ ۱۳۲۵ھ / ۱۹۰۷ء میں سندِ فراغت حاصل کی۔

فراغت کے بعد مدرسہ فتح پوری دہلی میں صدر مدرس مقرر ہوئے۔ آپ نے دارالعلوم میں ۱۳۲۸ھ / ۱۹۱۰ء سے ۱۳۳۳ھ / ۱۹۲۴ء تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ ۱۳۴۶ھ / ۱۹۲۸ء میں جامعہ اسلامیہ ڈابھیل (سورت، گجرات) تشریف لے گئے جہاں حضرت علامہ انور شاہ کشمیری کے انتقال کے بعد ۱۳۵۲ھ / ۱۹۳۳ء میں شیخ الحدیث مقرر ہوئے۔

دارالعلوم میں تدریس اور صدارتِ اہتمام

۱۳۲۸ھ / ۱۹۱۰ء میں دارالعلوم میں تدریس کے لیے آپ کا تقرر ہوا۔ یہاں آپ نے ۱۳۳۳ھ / ۱۹۲۴ء تک درجہٴ علیا کی مختلف کتابیں پڑھائیں۔ آپ کے درسِ صحیح مسلم کو بڑی مقبولیت و شہرت حاصل تھی۔ دارالعلوم میں ایک عرصہ تک تعلیمی خدمات انجام دینے کے بعد ۱۳۴۶ھ / ۱۹۲۸ء میں دارالعلوم انتظامیہ سے بعض اختلافات کے سبب حضرت مولانا علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن عثمانیؒ وغیرہ کے ساتھ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل (سورت، گجرات) تشریف لے گئے۔

۱۳۵۲ھ / ۱۹۳۵ء میں حضرت تھانویؒ اور بعض دوسرے اکابر کے ارشاد پر دارالعلوم تشریف لائے اور ۱۳۶۲ھ / ۱۹۴۳ء تک بہ حیثیت صدر مہتمم خدمات انجام دیتے رہے۔ اس دوران جامعہ اسلامیہ ڈابھیل سے بھی تعلق قائم رہا۔

اوصاف و کمالات

علم و فضل، فہم و فراست اور تدبر و اصابتِ رائے کے لحاظ سے علامہ عثمانی کا شمار ہندوستان کے چند مخصوص علماء میں ہوتا تھا۔ عجز و انکساری اور بزرگوں کا ادب و احترام آپ کی نمایاں خصوصیت تھی۔ اہل علم کے قدر دان اور خلوص کا مجسمہ تھے اور نہایت صاف شفاف قلب کے مالک تھے۔ غرباء و مساکین سے نہایت شفقت و محبت اور اخلاقِ کریمانہ کا برتاؤ فرماتے تھے۔ آپ کے ظاہر و باطن میں یکسانیت تھی، اپنے قلبی جذبات کے چھپانے یا ان کے بر خلاف اظہار پر قدرت نہ رکھتے تھے۔ اگر کسی سے خوش ہوتے تو ظاہر و باطن سے خوش ہوتے اور اگر کسی سے ناراض ہوتے تو علانیہ اس کا اظہار ان کے چہرے سے ہو جاتا تھا۔

آپ حالاتِ حاضرہ پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے۔ اسی لیے ان کی تحریر و تقریر عوام و خواص دونوں میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی۔ بڑے بڑے جلسوں میں ان کی فصیح و بلیغ عالمانہ تقریریں اہل ذوق کے لیے باعثِ کشش ہوا کرتی تھیں۔

مزاج میں زہد و قناعت کا غلبہ تھا، آپ کو حیدر آباد دکن کی ریاست نے اپنی عربی درسگاہ مدرسہ نظام یہ کی صدر مدرسی کے لیے پانچ سو ماہوار پر بلایا، لیکن آپ نے وہاں جانا قبول نہیں کیا۔ کراچی میں بھی کوئی سرکاری مراعات حاصل نہیں کی، انھوں نے پاکستان میں مستقل ہجرت کے باوجود نہ تو اپنا کوئی خاص گھر بنایا اور نہ ہی کسی کوٹھی پر قبضہ کیا، بلکہ بعض عقیدت مند اہل ثروت کے مکان میں رہے اور اسی مسافرت میں اپنی زندگی بسر کر دی۔

سیاسی خدمات

حضرت عثمانی تحریکِ شیخ الہند میں بھی شریک رہے۔ سیاست میں اولاً جمعیۃ علمائے ہند کے ساتھ شریک تھے۔

علامہ عثمانی سالہا سال تک جمعیۃ علمائے ہند کی مجلسِ عاملہ کے رکن رہے، جمعیۃ کے صفِ اول کے رہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا تھا، اس سے قبل وہ خلافت کمیٹی کے اہم رکن رہ چکے تھے۔ ۱۳۳۳ھ / ۱۹۱۴ء میں جنگِ بلقان کے زمانے میں انھوں نے ترکوں کے لیے چندہ وضع کرنے میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا تھا۔

۱۹۳۵ء میں متحدہ قومیت کے مسئلہ پر جمعیۃ علمائے ہند سے اختلاف پیش آیا اور وہ مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ ۱۳۶۵ھ / ۱۹۴۶ء میں جمعیۃ علمائے اسلام کی بنیاد ڈالی اور اس کے پہلے صدر منتخب کیے گئے۔ جمعیۃ علمائے اسلام کے ارکان نے تحریکِ پاکستان میں عملی حصہ لیا اور سرحد و سلہٹ ریفرنڈم میں اہم کردار ادا کیا۔ ۱۹۴۶ء میں جب ہندوستان کی مجلسِ دستور ساز کا انتخاب ہوا تو آپ بنگال سے مسلم لیگ کی جانب سے اس کے رکن منتخب ہوئے۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد آپ کو مشرقی بنگال کے نمائندے کی حیثیت سے دستور بہ پاکستان کا رکن منتخب کیا گیا۔

۶/ اگست ۱۹۴۷ء کو تقسیمِ ملک سے قبل دیوبند سے افتتاحِ پاکستان کی تقریب میں حصہ لینے کے لیے کراچی روانہ ہوئے، ۱۴/ اگست ۱۹۴۷ء کو کراچی میں جشنِ آزادی میں شرکت فرمائی اور وہیں مقیم ہو گئے۔

پاکستان میں دستور ساز اسمبلی کی رکنیت کے ساتھ آپ شرعی دستور ساز کمیٹی کے صدر مقرر ہوئے۔ آپ پاکستان میں اس جماعت کے روحِ رواں تھے جو آئین کو اسلامی قالب میں ڈھالنا چاہتی تھی۔ اس راہ میں آپ کی ابتدائی کوششوں کی کامیابی کا نتیجہ تھا جس کو پاکستان کی آئینی اصلاح میں قراردادِ مقاصد کہا جاتا ہے۔

پاکستان کے اقتدارِ اعلیٰ پر آپ کی علمی و سیاسی خدمات کا خاص اثر تھا، خصوصاً عالمانہ اور مفکرانہ حیثیت سے خاص عظمت حاصل تھی۔ آپ کی دینی رہنمائی کے ساتھ سیاسی رہنمائی بھی مسلم سمجھی جاتی تھی۔ حکومت کے نزدیک مذہبی معاملات میں آپ کی حیثیت مشیرِ خاص کی تھی؛ اس لیے زبانِ خلق نے آپ کو شیخ الاسلام کہہ کر پکارا جو اسلامی سلطنتوں میں عموماً قاضی القضاة کا لقب رہا ہے۔

علمی خدمات

علامہ عثمانی زبان و قلم کے یکساں شہسوار تھے۔ اردو زبان کے بلند پایہ ادیب اور بڑی سحر انگیز خطابت کے مالک تھے۔ فصاحت و بلاغت، عام فہم دلائل، ہر اثر تشبیہات و اندازِ بیان اور نکتہ آفرینی کے لحاظ سے ان کی تحریر و تقریر کا انداز یگانہ و منفرد تھا، اپنی تقریر و تحریر میں قاسمی علوم کو بکثرت بیان فرماتے تھے۔ حضرت شیخ الہند نے اپنی حیات کے آخری دنوں میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاسیس کے وقت جو خطبہ دیا تھا اس کے لکھنے اور جلسہ میں پیش کرنے کا شرف مولانا عثمانی کو ہی حاصل ہوا تھا۔

حضرت شیخ الہند کے ترجمہٴ قرآن پر آپ کے تفسیری حواشی کو بڑی شہرت حاصل ہے۔ یہ حواشی علامہ کی قرآن فہمی، تفسیر پر عبور اور دل نشیں اندازِ بیان پر قدرت کے غماز ہیں۔ ان حواشی کی افادیت ہی ہے کہ ۱۹۰۴ء میں حکومتِ افغانستان نے اپنے سرکاری مطبع سے قرآنی متن اور ترجمہٴ شیخ الہند کے ساتھ ان تفسیری حواشی کا فارسی ترجمہ افغانی مسلمانوں کے لیے شائع کیا۔ خود سعودی حکومت نے مجمع الملك فہد مدینہ سے ہزار ہا ہزار کی تعداد میں شائع کراسے تقسیم کیا۔ ترجمہٴ شیخ الہند اور تفسیرِ عثمانی کا پشتو، بنگلہ، ہندی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔

علمِ حدیث میں آپ کی گران قدر تصنیف فتح الملہم بشرح صحیح مسلم کی پہلی شرح ہے۔ فتحِ مسلم کی شرح لکھنے کا خیال آپ کو جوانی ہی سے تھا۔ حافظ بدرالدین العینی نے صحیح بخاری کی شرح لکھ کر احناف کی طرف سے حق ادا کر دیا تھا، مگر صحیح مسلم کی کوئی شرح حنفی نقطہٴ نظر سے اب تک نہیں لکھی گئی تھی۔ آخر آپ نے اس سلسلہ میں اپنے دست و بازو کو آزمایا اور فتح الملہم لکھنا شروع کیا جس کا سلسلہ تمام عمر جاری رہا۔ فتح الملہم آپ کا ایسا زندہ جاوید کارنامہ ہے کہ جس نے آپ کے علم و فضل کو تمام عالمِ اسلام میں روشناس کرایا ہے۔

علم الکلام، العقل والنقل، اعجاز القرآن، حجابِ شرعی، الاسلام والاشہاب لرجيم الخاطب المرتاب وغیرہ آپ کی معرکۃ الآرا تصانیف ہیں۔ آپ کے متعدد رسائل کا مجموعہ مقالاتِ عثمانی کے نام سے بھی شائع ہو چکا ہے۔

حضرت علامہ عثمانی کی کوئی صلبی اولاد نہیں تھی، لیکن انھوں نے لائق و فائق تلامذہ کی ایک کھیپ چھوڑی جن میں زیادہ تر دیوبند اور بعض ڈابھیل میں آپ کے شرفِ تلمذ سے مشرف ہوئے؛ ان میں یہ نام بہت نمایاں ہیں: مولانا مناظر احسن گیلانی، مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی، ابو المآثر مولانا حبیب الرحمن اعظمی، مولانا محمد ادریس کاندھلوی، مولانا محمد یوسف بنوری۔

وفات

۲۱/ صفر ۱۳۶۹ھ / ۱۳/ دسمبر ۱۹۴۹ء کو بہاول پور (بغداد الجدید) میں چند گھنٹوں کی مختصر علالت کے بعد انتقال فرمایا جہاں آپ وزارتِ تعلیم کی درخواست پر ریاستِ بہاول پور کے جامعہ عباسیہ کی اصلاح و ترقی کے سلسلہ میں صلاح و مشورہ کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ جنازہ بہاول پور سے کراچی لایا گیا اور مقامِ قائد اعظم محمد علی روڈ کے قریب آپ کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔

مآخذ:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *