حضرت مولانا فخر الحسن گنگوہیؒ
حضرت مولانا فخر الحسن بن عبدالرحمن گنگوہی دارالعلوم کے اولین فضلاء اور حضرت نانوتیؒ و حضرت گنگوہیؒ کے خاص تلامذہ میں تھے۔ مناظرہ سے بہت دلچسپی تھی اور بہت شیریں اور دلکش تقریر کرتے تھے۔ وطن گنگوہ تھا۔
سن ۱۲۸۴ھ مطابق ۱۸۶۷ء میں دارالعلوم میں داخل ہوئے اور ۱۲۹۰ھ / ۱۸۷۳ء میں فراغت حاصل کی۔ دہلی میں حکیم محمود بن صادق شریف خانی دہلوی سے طب کی تعلیم بھی حاصل کی تھی۔

۱۲۹۴ھ / ۱۸۷۷ء میں خورجہ کے مدرسہ میں صدر مدرس مقرر ہوئے۔ پھر دہلی کے مدرسہ عبدالرب چلے گئے۔ بعد میں کچھ خانگی مجبوریوں کے باعث گنگوہ کی سکونت ترک کر کے کان پور چلے گئے تھے اور وہیں مطب اور مستقل سکونت اختیار کرلی تھی۔ حضرت نانوتیؒ سے خاص مناسبت تھی۔ سفر اور حضر میں ان کے ساتھ رہتے تھے۔
حضرت نانوتیؒ کے ساتھ مباحثہ شاہ جہاں پور عرف میلہ خدا شناسی میں شریک ہوئے تھے اور بعد میں اس کی مکمل روداد مرتب کی جو مباحثہ شاہ جہاں پور کے نام سے شائع ہوئی۔ حضرت نانوتیؒ کی ایک مفصل سوانح حیات بھی لکھی تھی جو کم وبیش ایک ہزار صفحات پر مشتمل تھی۔ کان پور میں ان کے مکان میں آگ لگ گئی تھی جس میں کتابوں کے ساتھ سوانح حیات کا مسودہ بھی جل گیا تھا۔ حدیث ابوداؤد کا ایک مبسوط حاشیہ التعلیق المحمود کے نام سے لکھا ہے، یہ حاشیہ مطبع مجیدی کان پور میں چھپا تھا اور اب عام طور پر متداول ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ابن ماجہ کا بھی حاشیہ لکھا تھا جو مطبع نامی کان پور سے شائع ہوا تھا۔ آپ کا ایک حاشیہ تلخیص المفتاح پر بھی ہے۔ ۱۳۱۵ھ / ۱۸۹۷ء کان پور میں انتقال ہوا اور وہیں مدفون ہوئے۔
مآخذ:
تاریخ دارالعلوم دیوبند، جلد دوم، ص ۳۷؛ نزہۃ الخواطر، الجزء الثامن، فخر الحسن اللکنوہی
