حضرت مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ
۱۲۷۹ – ۱۳۴۷ھ / ۱۸۶۲ – ۱۹۲۸ء
حضرت مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ، حضرت نانوتیؒ کے فرزندِ رشید اور حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ کے والدِ ماجد تھے۔ آپ دارالعلوم دیوبند کے پانچویں مہتمم تھے اور ۳۷/ سال تک اس عظیم منصب پر فائز رہے۔ حضرت حافظ محمد احمد کا زمانہٴ اہتمام دارالعلوم کی ظاہری و باطنی ترقی اور استحکام کا دور ثابت ہوا اور اسی زمانہ میں یہ ادارہ مدرسہ سے دارالعلوم بنا۔ یہ دارالعلوم کا زریں دور تھا جس میں حضرت گنگوہیؒ دارالعلوم کے سرپرست اور حضرت شیخ الہندؒ دارالعلوم کے شیخ الحدیث اور صدر المدرسین تھے۔

ابتدائی حالات
حضرت مولانا حافظ محمد احمد صاحب ۱۲۷۹ھ / ۱۸۶۲ء میں نانوتہ میں پیدا ہوئے۔ قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے لیے گلاؤٹھی (ضلع بلند شہر یو پی) میں حضرت نانوتیؒ کے قائم کردہ مدرسہ تشریف لے گئے۔ حضرت نانوتیؒ کے بڑے داماد حضرت مولانا عبداللہ انبیٹھوی اس مدرسہ میں مدرس تھے۔ بعد ازاں مزید تعلیم کے لیے مراد آباد کے مدرسہ شاہی گئے جہاں حضرت نانوتیؒ کے شاگرد رشید اور خلیفہٴ خاص حضرت مولانا احمد حسن امروہی صدر مدرس تھے۔ وہاں مختلف علوم و فنون کی کتابیں پڑھنے کے بعد دیوبند تشریف لائے اور حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب اور حضرت شیخ الہند کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ آخر میں دورہٴ حدیث گنگوہ پہنچ کر حضرت گنگوہیؒ کے حلقہٴ درس میں پورا کیا اور وہیں سے سندِ حدیث حاصل کی۔
۱۲۹۷ھ میں حضرت نانوتویؒ کے انتقال کے بعد حضرت حافظ محمد احمد صاحب تھانہ بھون کے عربی مدرسہ میں جو حضرت نانوتویؒ کا ہی قائم فرمودہ تھا تشریف لے گئے اور کئی سال تک وہاں پڑھاتے رہے۔ ۱۳۰۳ھ / ۱۸۸۵ء میں بحیثیت مدرس دارالعلوم میں تقرر ہوا۔ عموماً تمام علوم و فنون کی کتابیں پڑھانے کی نوبت آئی، خصوصیت سے مشکوٰة شریف، مختصر المعانی، جلالین شریف، میر زاہد وغیرہ کتابوں کا درس زیادہ مشہور تھا جس کی طرف طلبہ جوق در جوق درس میں شرکت کرتے تھے۔
دارالعلوم کے مسندِ اہتمام پر
۱۳۱۰ھ مطابق ۱۸۹۲ء میں جب حضرت حاجی عابد حسینؒ اہتمام سے علیحدہ ہوئے تو یکے بعد دیگرے دو مہتمم (حاجی فضل حق دیوبندی اور مولانا محمد منیر نانوتویؒ) مقرر ہوئے، مگر ایک ڈیڑھ سال سے زیادہ اہتمام نہ کر سکے۔ ہر سال کے تغیرات کی وجہ سے دارالعلوم کے نظام میں اختلال پیدا ہونے لگا تو ۱۳۱۳ھ مطابق ۱۸۹۵ء میں حضرت گنگوہیؒ نے اہتمام کے لیے حضرت مولانا حافظ محمد احمد صاحب کا انتخاب فرمایا۔ حافظ صاحب نہایت منتظم اور صاحب اثر تھے، چنانچہ وہ بہت جلد دارالعلوم کے انتظام پر قابو یافتہ ہو گئے اور تقرر کے وقت ان سے جو توقعات قائم کی گئی تھیں بدرجہٴ اتم ان کے اہل ثابت ہوئے۔ حضرت حافظ محمد احمد کے زمانہٴ اہتمام سے دارالعلوم کا دوسرا دور شروع ہوتا ہے جسے دورِ ترقی و استحکام کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔
حافظ صاحب کے زمانہٴ اہتمام میں دارالعلوم نے غیر معمولی ترقی کی، جب انہوں نے عنانِ اہتمام اپنے ہاتھ میں لی تھی تو دارالعلوم کی آمدنی کا اوسط ۵-۶ ہزار روپیہ سالانہ تھا، آپ کے عہد میں یہ اوسط ۹۰ ہزار تک ترقی کر گیا۔ اس وقت تک کتب خانہ میں ۵ ہزار کتابیں تھیں، آپ کے زمانے میں کتابوں کی تعداد ۲۰ ہزار تک پہنچ گئی۔ ۱۳۱۳ھ مطابق ۱۸۹۵ء تک عماراتِ دارالعلوم کی مالیت ۲۶ ہزار روپے تھی، آپ کے عہد میں یہ مالیت ۲/ لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ دارالعلوم کی ترقی کے سلسلے میں حافظ صاحب نے ملک کے مختلف شہروں کے سفر کر کے دارالعلوم کے لیے بہت سے دائمی چندے مقرر کرائے، خصوصاً سابق ریاست بھوپال، بہاول پور اور حیدرآباد کے سفر، دارالعلوم کی تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہیں گے۔ حیدر آباد سے دارالعلوم کی امداد دوسو روپیہ ماہانہ مقرر تھی، حافظ صاحب حیدرآباد تشریف لے گئے اور اپنے اثرات سے ڈھائی سو روپے مقرر کرائے، دوسرے سفر میں پانچ سو اور تیسرے میں ایک ہزار ماہانہ تک نوبت پہنچ گئی جو سقوطِ ریاست حیدرآباد تک جاری رہی۔
غرض کہ آپ کے دورِ اہتمام میں دارالعلوم نے معنوی اور صوری دونوں حیثیتوں سے نہایت عظیم الشان ترقی کی جو اس سے پہلے اس کو حاصل نہ ہو سکی تھی، آپ کے زمانہٴ اہتمام سے پہلے شعبہٴ جات اور دفاتر کا کوئی صاف ستھرا اور باقاعدہ نظام نہ تھا اور گو دارالعلوم معنوی حیثیت سے ’دارالعلوم‘ بن چکا تھا مگر اپنی عمارتوں اور ظاہری شکل وصورت کے لحاظ سے آپ ہی کے زمانہٴ اہتمام میں مدرسہ سے دارالعلوم بنا، شعبوں اور دفاتر کی تشکیل عمل میں آئی، حلقہٴ اثر میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا۔ غرض کہ ہر حیثیت سے دارالعلوم کا قدم روز افزوں ترقی کی جانب گامزن رہا، چنانچہ آپ کا دورِ اہتمام دارالعلوم کی تاریخ میں اس کی ترقیوں کا نہایت تابناک اور زریں دور سمجھا جاتا ہے۔ حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانیؒ آپ کے دانش مند مشیر اور نائب تھے جو ایک مانے ہوئے مدیر، عالم ربانی اور صاحبِ فراست بزرگ تھے۔
حضرت حافظ صاحبؒ ہی کے دورِ اہتمام میں دارالحدیث جیسے عظیم الشان عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا گیا اور حضرت ممدوح کی طرف سے جب اس عمارت کی تجویز کا اعلان شائع ہوا تو چندہ گویا بارش کی طرح برسنا شروع ہو گیا۔ پھر طلبہ کی اتنی کثرت ہوئی کہ تنگیِ مکان کی وجہ سے ایک عظیم الشان دارالاقامہ جدید کی بنیاد ڈالی گئی۔ لیکن ان دونوں عمارتوں کی تکمیل آپ کے دور میں نہ ہو سکی۔ آپ ہی کے دورِ اہتمام میں ۱۳۲۸ھ مطابق ۱۹۱۰ء میں وہ عظیم الشان جلسہٴ دستار بندی ہوا، جس میں ایک ہزار سے زائد فضلاء کی دستار بندی ہوئی تھی اور ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی تھی۔
برطانوی گورنمنٹ کی جانب سے آپ کو ’شمس العلماء‘ کا خطاب دیا گیا تھا، مگر آپ نے دارالعلوم کے حریت پسندانہ مسلک کی بنا پر حکومت کا خطاب یافتہ ہونا پسند نہیں کیا، چنانچہ خطاب واپس کر دیا۔ یہ بھی آپ ہی کے زمانے کی خصوصیت ہے کہ دومرتبہ صوبہ متحدہ کے گورنر دارالعلوم میں آئے، دارالحدیث کی مجوزہ جگہ پر شہر کے پانی کا نالہ بہتا تھا، اس کے سبب سے دارالحدیث کی تعمیر میں رکاوٹ پڑی ہوئی تھی، نیز نالے کے قرب کے باعث دارالعلوم کی آب و ہوا بھی خراب رہتی تھی۔ اکابر دارالعلوم کی پیہم کوششوں کے باوجود مقامی حکام نالے کے ہٹائے جانے پر آمادہ نہ تھے۔ حضرت حافظ صاحب نے گورنر کو دعوت دے کر اس مسئلہ کا حل نکال لیا، چنانچہ صوبائی گورنمنٹ کے حکم سے سرکاری مصارف پر نالہ ہٹا دیا گیا۔ حافظ صاحب کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ دارالعلوم کی مشکل سے مشکل مہم کو آسانی سے سلجھا دیتے تھے۔
اوصاف و کمالات
طلبہ کی چھوٹی چھوٹی جزئیات پر جہاں ہر وقت نظر رہتی تھی، اور ان پر روک ٹوک اور ڈانٹ ڈپٹ رکھتے، وہیں ان پر بے حد شفیق اور مہربان تھے۔ طلبہ کی معمولی معمولی ضرورتوں پر بھی نظر رہتی تھی، بیمار طلبہ کے علاج پر خاص توجہ فرماتے تھے، طلباء اور مدرسین پر حافظ صاحب کا رعب و داب ضرب المثل تھا۔ دستر خوان نہایت وسیع تھا، دارالعلوم کے مہمانوں کا صرفہ بذاتِ خود نہایت فراخ حوصلگی کے ساتھ برداشت کرتے تھے۔
شروع سے درس و تدریس کا جو مشغلہ قائم ہو گیا تھا وہ زمانہٴ اہتمام میں بھی کبھی بند نہیں ہوا، مشکوٰة المصابیح، جلالین، صحیح مسلم، ابن ماجہ، مختصر المعانی، رسالہ میر زاہد وغیرہ کتابیں نہایت شوق سے پڑھاتے تھے، تقریر نہایت صاف ومرتب اور سلجھی ہوئی ہوتی تھی، اپنے والدِ ماجد حضرت نانوتیؒ کے خاص علوم اور مضامین پر کافی عبور تھا۔
حضرت حافظ محمد احمد نہایت بارعب اور وجیہ شخصیت کے مالک تھے۔ احاطہٴ دارالعلوم میں قدم رکھتے تو اساتذہ اور طلبہ میں ایک قسم کا سناٹا محسوس ہوتا۔ حضرت شیخ الہندؒ استاد اور شیخ ہونے کے باوجود حضرت نانوتیؒ کی نسبت کا حد درجہ احترام فرماتے اور انتہائی نیازمندی کے ساتھ پیش آتے۔ حضرت حافظ صاحبؒ چلتے تو عموماً نگاہ نیچی کر کے چلتے تھے۔ چال میں وقار اور متانت ہوتی تھی۔ ان کے سامنے پہنچ کر ایک ہیبت محسوس ہوتی تھی۔ صاف گوئی اور ظاہر و باطن میں یکسانی معروف و ممتاز تھی۔ ہر ایک سے نہایت صاف، بے لاگ اور بے جھجک گفتگو فرماتے بہت سے مسائل اور مشکل مہمات آپ کی جرأت مندی اور خدا داد وجاہت وقار کی وجہ سے بہت آسانی سے حل ہو جاتے تھے۔
زندگی کے آخری دن
نظام دکن نے حضرت حافظ صاحب کو ریاست حیدرآباد میں مفتی اعظم کے عہدے پر مقرر فرمایا تھا۔ حکومت آصفیہ کے اس سب سے بڑے دینی منصب پر آپ ۱۳۴۱ھ مطابق ۱۹۲۲ء سے ۱۳۴۴ھ مطابق ۱۹۲۵ء تک فائز رہے۔ نظام حیدرآباد کو دارالعلوم میں آنے کی دعوت دی تھی جو منظور کر لی گئی تھی۔ پروگرام یہ تھا کہ نظام جب دہلی جائیں گے تو دارالعلوم کو بھی دیکھیں گے، ۱۳۴۷ھ مطابق ۱۹۲۸ء میں نظام کے دہلی آنے کی توقع تھی، وعدے کی یاد دہانی کے لیے آپ حیدرآباد تشریف لے گئے۔ جس وقت آپ حیدرآباد کا قصد فرما رہے تھے تو طبیعت ناساز تھی، ضعفِ پیری اور مسلسل علالت نے بہت کمزور کر دیا تھا مگر دارالعلوم کے مفاد کے لیے اپنی صحت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حیدرآباد روانہ ہو گئے۔ وہاں پہنچ کر طبیعت زیادہ خراب ہو گئی۔ پہلے تو انتظار رہا کہ طبیعت سنبھلے تو نظام سے ملاقات کی جائے مگر جب مرض دن بہ دن بڑھتا ہوا معلوم ہوا تو متوسلین اور رفقائے سفر کی رائے قرار پائی کہ دیوبند واپس لے جایا جائے، چنانچہ واپسی کے قصد سے آپ حیدرآباد سے روانہ ہو گئے، مگر ابھی ترین حیدرآباد کی حدود میں ہی تھی کہ نظام آباد اسٹیشن پر حافظ صاحب نے جان، جانِ آفریں کے سپرد کی۔ یہ واقعہ ۳/ جمادی الاولیٰ ۱۳۴۷ھ مطابق ۱۸/ اکتوبر ۱۹۲۸ء کا ہے۔ وفات کے وقت زبان پر ذکرِ اللہ جاری تھا۔
نظام آباد اسٹیشن پر غسل اتار کر جنازہ تیار کیا گیا، متعلقین اور نظام دکن کو تار کے ذریعے اطلاع دی گئی، نظام کا جواب آیا کہ حافظ صاحب کا جنازہ حیدرآباد ہی لایا جائے، نظام آباد اور حیدرآباد میں متعدد مرتبہ نمازِ جنازہ پڑھی گئی۔ اگلے دن ۴/ جمادی الاولیٰ کو سرکاری مصارف پر آپ کو مخصوص قبرستان میں جو ’حظة صالحین‘ کے نام سے موسوم ہے سپردِ خاک کیا گیا، نظام دکن نے تعزیت کرتے ہوئے نہایت تأسف کے ساتھ یہ پر اثر جملہ فرمایا: ’افسوس وہ مجھے لینے آئے تھے مگر خود وہیں رہ گئے۔‘
حضرت حافظ صاحب نے ۴۵/ سال دارالعلوم کی خدمات انجام دیں، ابتدائی ۱۰/ سال تعلیم وتدریس میں گزرے اور ۳۵/ سال اہتمام کے فرائض انجام دیے۔
مآخذ:
- تاریخ دارالعلوم دیوبند، جلد دوم، ص ۵۲۸ تا ۵۳۱، ۲۳۴ تا ۲۳۶
- دارالعلوم دیوبند کی پچاس مثالی شخصیات، حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ، ص ۸۲ تا ۱۱۶
