حضرت عمر فاروقؓ کا اسلام لانا (سن 6ء نبوی)

حضرت حمزہؓ کے مسلمان ہونے کی خبر سن کر قریش کے فکر و تردد اور بغض و عداوت نے اور بھی ترقی کی اور آپس میں مشورے ہونے لگے۔ حضرت عمر فاروقؓ حضرت حمزہؓ کی طرح مشہور پہلوان اور عرب کے نامور بہادروں میں سے تھے۔ مسلمانوں کو ایذا پہنچانے اور آنحضرت ﷺ کے خلاف کوشش کرنے میں نمایاں حصہ لیتے تھے۔ وہ مسلمانوں کو پکڑ کر لاتے اور مارتے مارتے تھک جاتے تو دم لیتے اور پھر اٹھ کر مارتے۔ غرض کہ انہوں نے مسلمانوں کو دین اسلام سے مرتد بنانے کی بے حد کوشش کی اور ناکام رہے۔ آخر ایک روز انہوں نے فیصلہ کیا اور کفار کی مجلس میں وعدہ کیا کہ میں تنہا قریش کے اوپر وارد ہونے والے اس فتنہ کو جڑ سے ختم کر دوں۔ یعنی نبی محمد (ﷺ) کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔ جس پر ابو جہل نے خوش ہو کر ان سے انعام واکرام کا وعدہ کیا۔

حضرت عمر فاروقؓ کا اسلام لانا
حضرت عمر فاروقؓ کا اسلام لانا

حضرت عمرؓ اپنے مقصد کے لیے روانہ ہوئے تو راستہ میں نعیم بن عبداللہ سے ملاقات ہو گئی۔ اور جب حضرت نعیم کو ان کے ارادہ کا پتہ چلا تو انہوں نے اولاً حضرت عمر کو اس سے باز رکھنے کے لیے بنو ہاشم کے انتقام کا ڈراوہ دیا لیکن حضرت عمر کا ارادہ مضبوط تھا اور وہ پھر نعیمؓ کی نبی ﷺ کی حمایت پر وہ اور بھی برافروختہ ہو گئے۔ بالآخر ان کو باز رکھنے کے لیے حضرت نعیمؓ نے کہا کہ “تم مجھ کو اور محمد کو تو بعد میں قتل کرنا پہلے اپنے گھر کی خبر لو کہ تمہاری بہن مسلمان ہو چکی ہے اور اسلام تمہارے گھر میں داخل ہو چکا ہے”۔

حضرت عمرؓ یہ نشتر زن جواب سن کر اسی وقت اپنی بہن کے گھر کا رخ کیا۔ وہ آنحضرت ﷺ کے قتل کی نیت سے چلے تھے۔ راستے میں اپنی بہن کے گھر کی طرف اُن کا رخ پھرنا گویا اسلام کی طرف رخ پھرنا تھا۔ بہن کے گھر پہنچے، وہاں حضرت خباب بن الارتؓ، حضرت عمرؓ کی بہن فاطمہ اور ان کے شوہر حضرت سعیدؓ بن زید کو قرآن شریف کی تعلیم دے رہے تھے۔ ان کے آنے کی آہٹ سن کر حضرت خبابؓ تو وہیں گھر میں کسی جگہ چھپ گئے اور قرآن کریم جن اوراق پر لکھا ہوا تھا ان کو بھی فوراً چھپا دیا گیا۔ انہوں نے گھر میں داخل ہوتے ہی پوچھا آوازوں کے بارے میں استفسار کیا، اور اپنے بہنوئی سعید بن زیدؓ کو پکڑ کر گرا دیا اور مارنا شروع کر دیا کہ تم کیوں مسلمان ہوئے؟ بہن اپنے شوہر کو چھڑانے کے لیے آگے بڑھی، اس کشمکش میں بہن فاطمہؓ کو ایسی چوٹ لگی کہ اُن کے سر سے خون جاری ہو گیا۔ بہن نے آخر دلیری سے کہا کہ: قَدْ اَسْلَمْنَا وَتَابَعْنَا محمداً اِفْعَلْ مَا بَدَالَكَ (ہم مسلمان ہو چکے اور محمد (ﷺ) کے فرمان بردار بن چکے ہیں۔ اب جو کچھ تجھ سے ہو سکتا ہے کرلے) بہن کا یہ دلیرانہ جواب سنا اور نگاہ اٹھا کر دیکھا تو ان کو خون میں تر بتر پایا۔ اس نظارہ نے ان کے غصہ کو کم کر دیا۔

حضرت عمرؓ نے بہن سے دوبارہ کہا کہ انہیں وہ کلام دکھلائیں یا سنائیں جس کے پڑھنے کی آواز گھر میں داخل ہوتے ہوئے سنی تھی۔ حضرت عمرؓ کا یہ کلام چونکہ کسی قدر سنجیدہ لہجے میں تھا، اس لیے ان کی بہن کو اور بھی جرأت ہوئی اور انہوں نے بھائی سے غسل کرنے کے لیے کہا۔ حضرت عمرؓ نے اسی وقت غسل کیا اور قرآن مجید کی آیات جن اوراق پر لکھی ہوئی تھیں لے کر پڑھنے لگے۔ ابھی چند ہی آیات پڑھی تھیں کہ بے اختیار بول اٹھے: “کیا شیریں کلام ہے۔ اس کا اثر میرے قلب پر ہوتا جاتا ہے”۔

یہ سنتے ہی حضرت خبابؓ جو اندر چھپے ہوئے تھے، فوراً باہر نکل آئے اور کہا: “اے عمرؓ مبارک ہو۔ محمد رسول اللہ کی دعا تمہارے حق میں قبول ہو گئی۔ میں نے کل آنحضرت ﷺ کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے کہ الٰہی عمرؓ بن الخطاب یا ابو جہل دونوں میں سے ایک کو ضرور مسلمان کر دے”۔ اسی وقت مجھے آنحضرت ﷺ کے پاس لے چلو۔ چنانچہ وہ اسی وقت حضرت عمرؓ کو دار ارقم کی طرف لے کر چلے۔

دار ارقم کے دروازے پر پہنچ کر حضرت عمرؓ نے دستک دی۔ صحابہ کرام جو اندر تھے انہوں نے حضرت عمرؓ کے لیے دروازہ کھولنے میں تامل کیا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دروازہ کھول دو۔ حضرت حمزہؓ بھی موجود تھے، انہوں نے کہا آنے دو۔ اگر ارادہ نیک ہے تو خیر، ورنہ اُسی کی تلوار سے اُس کا سر اڑا دیا جائے گا۔ چنانچہ دروازہ کھولا گیا۔ حضرت عمرؓ اندر داخل ہوئے۔ آنحضرت ﷺ ان کو گھر میں داخل ہوتے ہوئے دیکھ کر آگے بڑھے اور ان کا دامن پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا اور فرمایا کہ “اے عمرؓ کیا تو باز نہ آئے گا”۔ حضرت عمرؓ نے جواباً عرض کیا کہ “یا رسول اللہ (ﷺ) میں ایمان لانے کے لیے حاضر ہوا ہوں”۔ آنحضرت ﷺ نے یہ سنتے ہی جوش مسرت میں بلند آواز سے اللہ اکبر کہا اور ساتھ ہی تمام صحابہؓ نے جو اس وقت دار ارقم میں موجود تھے اس زور سے اللہ اکبر کہا کہ مکہ کی پہاڑیاں گونج گئیں۔ حضرت حمزہؓ اور حضرت عمرؓ کے مسلمان ہونے سے مسلمانوں کو بڑی تقویت حاصل ہو گئی۔

حضرت عمرؓ کے مسلمان ہوتے ہی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ ہم کو اب پوشیدہ طور پر گھروں میں نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ علانیہ خانہ کعبہ میں نمازیں پڑھنی چاہئے۔ چنانچہ قریش میں سے اول اول جو کوئی مانع ہوا، حضرت عمرؓ نے اس کا مقابلہ کیا۔ پھر بلا روک ٹوک مسلمان خانہ کعبہ میں نماز پڑھنے لگے اور اسلام مکہ میں علانیہ اور آشکار ہو گیا۔ حضرت عمرؓ کی عمر اس وقت 33 سال کی تھی۔ حضرت عمرؓ کے مسلمان ہونے کے وقت مکہ میں مسلمانوں کی تعداد چالیس ہو گئی۔ ملک حبش میں موجود مسلمان اس کے علاوہ تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *