قدرتی وسائل (Natural Resources)
ہمارے ماحول میں قدرت نے بے شمار چیزیں پیدا کیں ہیں، یہ حیاتی بھی ہیں اور غیر حیاتی بھی ہیں۔ ان ہی سے مل کر ماحولی نظام تیار ہوتا ہے، اس ماحولی نظام میں انسان سب سے اہم ہے۔ ہمارے ماحول کا اور قدرتی وسائل کا ایک دوسرے سے بہت گہرا تعلق ہوتا ہے، وہ تمام چیزیں جو قدرت نے انسان کی فلاح و بہبود کے لئے پیدا کیں ہیں جس کے استعمال سے انسان کی نشوونما، ترقی اور زندگی آرام دہ ہوتی ہے جو انسان کی ضروریات زندگی ہے ان کو قدرتی وسائل (Natural Resources) کہتے ہیں۔ قدرتی وسائل ہمیں زمین کے اندر سے معدنیات، نمکیات وغیرہ کی شکل میں حاصل ہوتے ہیں جب کہ مختلف قسم کی جنگلاتی پیداوار بھی ایک قدرتی وسیلہ ہے، اس کے علاوہ ہوا، پانی، مٹی، حیوانات، توانائی اور دیگر مرکبات قدرتی وسائل کی وہ مثالیں ہیں جنہیں انسان اپنے لئے استعمال کرتا ہے۔ موجودہ حالات میں عالمی طور پر قدرتی طور سے حاصل ہونے والے وسائل جو توانائی کی شکل میں ہیں انسان کے لئے کافی ہو رہے ہیں۔ لیکن مستقبل میں اس کی کوئی گیارنٹی نہیں دی جاسکتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام وسائل یکساں طور سے دنیا بھر میں منقسم نہیں ہیں اس کی اہمیت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب ان وسائل کی ضرورت پڑتی اور وہ دستیاب نہیں ہوتے۔ قدرتی وسائل کا بے تحاشہ استعمال کرنے سے نہ صرف قدرتی وسائل کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ ماحولی نظام کا توازن بھی بگڑ رہا ہے۔ زمین پر انسان کے وجود کے بعد انسان ماحول کا ایک حصہ تھا، اس کی بنیادی ضروریات محدود تھیں یعنی وہ غذا، پانی اور رہائش کے لئے درکار اشیاء اپنے اطراف میں موجود وسائل کے توسط سے حاصل کر کے ان وسائل کو نقصان نہیں پہنچاتا تھا، لیکن جوں جوں آبادی بڑھتی گئی اور انسان زمین پر پھیلتا گیا ان وسائل کا بے تحاشہ استعمال ہونے لگا، زمین سے اس نے دھاتیں اور ایندھن حاصل کرنا شروع کیا، جنگلات کو بے تحاشہ کاٹنا شروع کیا جس کی وجہ سے نہ صرف جنگلاتی حیوانات کی زندگی متاثر ہوئی بلکہ ماحولی نظام بھی غیر متوازن ہونے لگا۔ ہمارے ماحولی نظام میں فلاح و بہبود کی موجود ہر ایک چیز قدرتی وسائل کہلاتی ہیں۔

قدرتی وسائل کے اقسام (Types of Natural Resources):
انسان کو حاصل ہونے والے تمام قدرتی وسائل کو بنیادی طور پر درج ذیل دو اہم اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔
- ختم ہونے والے قدرتی وسائل (Exhaustible Natural Resources)
- ختم نہ ہونے والے قدرتی وسائل (Inexhaustible Natural Resources)
ختم ہونے والے قدرتی وسائل (Exhaustible Natural Resources):
پانی، مٹی، جنگلات، پیٹرولیم، قدرتی گیس، معدنیات وغیرہ۔ یہ وہ قدرتی ذرائع ہیں جو انسان اپنے لئے استعمال کرتا ہے، اگر ان وسائل کا غیر ضروری استعمال کیا جائے تو ایک دن یہ ختم ہوجائیں گے۔ ختم ہونے والے ان وسائل کو مزید دو ضمنی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔
- تجدیدی قدرتی وسائل (Renewable Natural Resources)
- غیر تجدیدی قدرتی وسائل (Non-renewable Natural Resources)
تجدیدی قدرتی وسائل (Renewable Natural Resources):
وہ قدرتی وسائل جس کا استعمال انسان کر کے اسے ختم کرتا ہے یا متاثر کرتا ہے اور انہیں بہت مشکل سے بڑی جدوجہد کے بعد دوبارہ اگر حاصل کیا جائے تو ان قدرتی وسائل کو تجدیدی وسائل (Renewable Sources) کہتے ہیں، جیسے مٹی، جنگلات، زمینی پانی وغیرہ کو قدرتی ادوار کی مدد سے بہت مشقت کے بعد دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ مصنوعی جنگلات پیدا کر کے مٹی، پانی، ہوا کو دوبارہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ بیشتر قدرتی وسائل ایک دوسرے پر منحصر ہوتے ہیں، جنگلات ماحولی نظام اور موسم کو متوازن رکھتے ہیں، ان میں موجود پودے مٹی کے بہاؤ کو روکتے ہیں جس کی وجہ سے زمین میں پانی کی سطح برقرار رہتی ہے، ہوا جس میں آکسیجن ہوتی ہے متوازن رہتی ہے، ان درختوں پر انحصار کرنے والے دیگر حشرات بھی مخصوص تعداد میں موجود رہتے ہیں اس کی وجہ سے شعاعی ترکیب (Photosynthesis) کا عمل متوازن چلتا رہتا ہے۔ ماحول کے یہ عوامل انسانی زندگی کے لئے فائدہ مند ہوتے ہیں لیکن ان جنگلات سے حاصل ہونے والے دیگر محاصلات کو انسان متاثر کرتا رہتا ہے جس کی وجہ سے ان کی دوبارہ تجدید ہونا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ انسان کو جنگل سے حاصل ہونے والے پھل، پھول، لکڑی اور دیگر مرکبات والے درختوں کو دوبارہ بونا چاہئے جس سے قدرتی وسائل زیادہ مقدار میں دستیاب ہو سکے۔
غیر تجدیدی قدرتی وسائل (Non-renewable Natural Resources):
یہ وہ قدرتی وسائل ہیں جن کا ایک مرتبہ استعمال ہو جانے کے بعد انہیں دوبارہ حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے جیسے، کوئلہ، پیٹرولیم وغیرہ۔ اس طرح کے اشیاء انسان کے استعمال آنے کے بعد وہ ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بہت ساری دھاتیں، معدنیات، نمکیات وغیرہ کو دوبارہ پیدا نہیں کیا جاسکتا ہے۔ زمین سے حاصل ہونے والے ان ذرائع کو دوبارہ زمین سے حاصل نہیں کیا جاسکتا، اس لئے یہ وہ قدرتی وسائل ہیں جن کا احتیاط سے استعمال لازمی ہے۔ زمین سے حاصل ہونے والے کوئلہ، پیٹرولیم اجزا اور قدرتی گیس کو ‘رکازاتی ایندھن’ یعنی Fossil Fuels کہتے ہیں کیونکہ ان کی تشکیل لاکھوں سال پہلے زمین میں دفن پودوں اور حیوانات کے جسم کے ذریعے سے ہوتی ہے، انہیں ایندھن اس لئے کہتے ہیں کیونکہ انہیں جلانے پر توانائی حاصل ہوتی ہے، اسی طرح زمین سے حاصل ہونے والے معدنیات، نمکیات اور دیگر کیمیائی وغیرہ کو غیر حیاتی وسائل (Abiotic Resources) کہتے ہیں۔ کیونکہ یہ حیاتی طور سے متحرک نہیں ہوتے ہیں۔ ان ذرائع کا مسلسل اور بے تحاشہ استعمال زمین میں موجود اس قدرتی وسائل کو ختم کرنے کی طرف گامزن ہے۔
ختم نہ ہونے والے قدرتی وسائل (Inexhaustible Natural Resources):
ماحولی نظام میں موجود یہ وہ قدرتی ذرائع ہیں جن کا استعمال اگر مسلسل بھی کیا جائے تو یہ ختم نہیں ہوتے ہیں۔ مثلاً ہوا، سورج کی روشنی وغیرہ۔ قدرت نے ہمارے لئے سورج کو توانائی کا ذریعہ بنایا ہے اور انسان اس توانائی کو ابتداء سے حاصل کر رہا ہے، نباتات بھی شمسی توانائی کو حاصل کر کے کیمیائی توانائی میں تبدیل کرتے ہیں یہ کیمیائی توانائی پھر ماحولی نظام کے دیگر اجزا تک پہنچتی ہے جس سے ان کی نشو نما ہوتی ہے لیکن یہ وہ ذریعہ ہے جو بے تحاشہ استعمال کے باوجود بھی ختم نہیں ہوتا ہے اسی طرح ماحول میں موجود ہوا ہے جس میں مختلف گیسیں شامل ہیں جس پر نباتات اور حیوانات مسلسل انحصار کرتے ہیں اور ہوا کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔ انسان کے اطراف میں قدرتی وسائل کے بے شمار منبعے (Sources) ہیں جس میں جنگلات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ اسی طرح زمین، پانی، ہوا وغیرہ بھی انسان کی فلاح و بہبود کا اہم ذریعہ ہے۔
