حضرت امیر حمزہؓ کا اسلام لانا (سن 6ء نبوی)
قریش مکہ عداوت نبوی میں دیوانے ہو رہے تھے۔ ایک روز آنحضرت ﷺ کو صفا کے دامن میں بیٹھے تھے کہ ابو جہل اس طرف کو آنکلا۔ اُس نے آپ کو دیکھ کر اول تو بہت سخت و سست اور ناپسندیدہ الفاظ کہے۔ آپ ﷺ نے جب اُس کی بیہودہ سرائی کا کوئی جواب نہ دیا تو اس نے ایک پتھر اٹھا کر مارا جس سے آپ ﷺ زخمی ہوئے اور خون بہنے لگا۔ آپ ﷺ خاموش اپنے گھر چلے آئے اور ابو جہل صحن کعبہ سرداروں کی مجلس میں شامل ہوا۔ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب آنحضرت ﷺ کے چچا تھے۔ ان کو آپ ﷺ سے بہت محبت تھی مگر وہ ابھی تک شرک پر قائم تھے۔ اس واقعہ کے وقت وہ حسب عادت شکار پر گئے ہوئے تھے۔ وہ جب شکار سے واپس آئے تو راستے میں ابو جہل کی لونڈی ملی۔ اُس نے ابو جہل کا آنحضرت ﷺ کو گالیاں دینا اور پتھر مارنا اور آپ ﷺ کا صبر و شکر کے ساتھ خاموش رہنا سب بیان کر دیا۔

حضرت حمزہؓ آنحضرت ﷺ کے چچا ہونے کے علاوہ رضاعی بھائی بھی تھے، وہ اوّل خانہ کعبہ میں گئے۔ وہاں طواف سے فارغ ہو کر سیدھے اُس مجمع کی طرف متوجہ ہوئے جہاں ابو جہل بیٹھا ہوا باتیں کر رہا تھا۔ حضرت حمزہؓ بہت بڑے پہلوان، جنگ جو اور عرب کے مشہور بہادروں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے جاتے ہی ابو جہل کے سر پر اس زور سے کمان ماری کہ اُس کا سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا۔ پھر کہا کہ “میں بھی محمد (ﷺ) کے دین پر ہوں اور وہی کہتا ہوں جو وہ کہتا ہے۔ اگر تجھ میں کچھ ہمت ہے تو اب میرے سامنے بول”۔ ابو جہل کے ساتھیوں کو غصہ آیا اور وہ اس کی حمایت میں اٹھے۔ مگر ابو جہل حضرت حمزہؓ کی بہادری سے اس قدر متاثر و مرعوب تھا کہ اس نے خود ہی اپنے حمایتیوں کو بھی یہ کہہ کر روک دیا کہ واقعی مجھ ہی سے زیادتی ہو گئی تھی۔ اگر حمزہؓ مجھ سے اپنے بھتیجے کا انتقام نہ لیتے تو بے حمیت شمار ہوتے۔
حضرت حمزہؓ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور ابو جہل سے نبی ﷺ کا بدلہ لینے کے بارے میں بتایا۔ نبی ﷺ نے ان سے کہا کہ انہیں اصل میں خوشی اس وقت ہو گی جب کہ وہ مسلمان ہو جائیں۔ یہ سن کر حضرت امیر حمزہؓ نے اسلام قبول کر لیا یہ نبوت کا چھٹا سال تھا۔ ان کے اسلام میں آنے سے مسلمانوں کو بڑی قوت اور امداد حاصل ہوئی۔ قریش مکہ جو کہ آنحضرت ﷺ کی شان میں بہت ہی گستاخ اور بے باک ہو گئے تھے۔ اب حضرت حمزہؓ کے مسلمان ہونے کے بعد گستاخیاں کرنے میں کچھ تامل کرنے لگے۔
