رسالت نبوی کی مختصر تاریخ
اللہ تبارک و تعالیٰ جو بڑا رحمان و رحیم ہے اور جس نے انسانوں کے لیے وہ سب چیزیں پیدا کی ہیں جن کی انسانوں کو اپنی زندگی میں ضرورت ہوتی ہے، اس نے انسانوں کی اس سب سے بڑی ضرورت کو بھی ہمیشہ پورا کیا ہے یعنی جب سے اس دنیا میں انسانوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے اسی وقت سے نبوت و رسالت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس کو اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ جس انسان کو سب سے پہلے اس دنیا میں اتارا ہے اسی کے سر پر پیغمبری کا تاج بھی رکھا اور ان کو حکم دیا کہ وہ اپنی نسل کو اسلام کی تعلیم دیں یعنی بتائیں کہ اس کائنات کا خالق مالک ایک ذات ہے، اسی کی عبادت کرو، اسی کی مرضی کے مطابق زندگی گزارو، ایسا کرو گے تو انعام پاؤ گے اور اس کی اطاعت سے منھ موڑو گے تو سزا ملے گی۔

اب حضرت آدم علیہ السلام کی نسل بڑھی اور دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل گئی اور رفتہ رفتہ ان تعلیمات سے دور ہو گئی جو ان کے والد نے ان کو دی تھی۔ بلکہ طرح طرح کی برائیاں ان میں پیدا ہو گئیں اور حقیقی خالق کو چھوڑ کر کائنات کی مختلف اشیاء کو اپنا معبود بنا لیا۔ اب اللہ تعالیٰ نے ہر قوم میں پیغمبر بھیجنے شروع کیے جو انسانوں کو وہی بھولا ہوا سبق یاد دلاتے تھے جو آدم سکھا کر گئے تھے۔
الغرض ضرورت اور وقت کے مطابق مختلف زمانوں، ملکوں اور علاقوں میں رسول و پیغمبر آتے رہے ہیں۔ قرآنی آیت یا حدیث میں تعداد کی صراحت نہیں لیکن یہ صاف صاف بتایا گیا ہے کہ کوئی قوم اور مقام ایسا نہیں ہے جہاں رسول نہ بھیجا ہو، جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: “وَلِكُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولٌ” ، (اور ہر قوم کے واسطے پیغمبر آئے ہیں) دوسری جگہ ارشاد ہے: “وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ” ، (اور ہم نے ہر ایک امت میں رسول بھیجے کہ لوگ اللہ کی عبادت کریں اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچیں)۔ ایسے ہی سورۃ فاطر میں ہے: “وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ” ، (کوئی قوم ایسی نہیں ہے جن کے پاس ہمارا رسول نہ پہنچا ہو)۔
ابتداءً ہر قوم میں الگ الگ پیغمبر آتے تھے اور ان کی تعلیم انہیں کی قوم کے اندر محدود رہتی تھیں کیوں کہ ہر قوم اپنے وطن کی حدود میں گویا مقید تھی ایسی حالت میں کوئی عام اور مشترک تعلیم تمام قوموں میں پھیلنی بہت مشکل تھی۔ پھر زمانہ جیسے ہی آگے بڑھا تجارت و صنعت اور حرفت کی ترقی کے ساتھ ساتھ قوموں کے تعلقات ایک دوسرے سے قائم ہو گئے چین و جاپان سے لیکر یورپ اور افریقہ کے دور دراز ملکوں تک جہاز رانی اور خشکی کے سفروں کا سلسلہ قائم ہو گیا، علوم و فنون پھیلے اور قوموں کے درمیان خیالات اور علمی مضامین کا تبادلہ ہونے لگا اس طرح سے وہ دوری اور جدائی جو پہلے انسانی اقوام میں پائی جاتی تھی رفتہ رفتہ کم ہوتی چلی گئی اور اب یہ ممکن ہو گیا کہ ایک ہی تعلیم اور ایک ہی شریعت تمام دنیا کے لیے بھیجی جائے۔
یہ وقت تھا جب تمام دنیا اور اقوام کے لیے ایک پیغمبر یعنی محمد رسول اللہ کو عرب کی سرزمین میں پیدا کیا گیا اور آپکو اسلام کی پوری تعلیم اور منسوخ نہ ہونے والا قانون دیکر اس خدمت پر مامور کیا کہ اسے سارے جہاں میں پھیلا دیں پھر ان مقدس ہستیوں کے بارے میں ایمانی اصول یہ ہے کہ یہ حضرات شریعت ساز نہیں بلکہ شریعت رساں ہوتے ہیں جیسا کہ ایک موقع پر باری تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: کہ جب کفار حضور سے آکر کہتے تھے کہ آپ جو باتیں بیان کرتے ہیں ان میں کچھ ہم کو ناپسند ہوتی ہیں اگر آپ ان میں سے کچھ تبدیلی کریں تو ہم بھی آپ کے ساتھ ہو جائیں گے، تو آپ جواب دیتے ہیں کہ میرا کام صرف پہنچا دینا ہے کسی ترمیم و تبدیلی کا اختیار نہیں ہے۔
اللہ رب العزت نے خود کچھ جلیل القدر انبیاء کا تذکرہ قرآن کریم میں کیا ہے۔ کچھ نفوس قدسیہ کا ذکر احادیث میں ہے مگر ایک بڑی تعداد وہ جن کا ذکر ان دونوں میں نہیں ہے لیکن ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم سب پر ایمان لائیں اور سب کو یکساں طور پر پاک باز بندے سمجھیں، اس کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں۔ قرآن کریم میں اہل ایمان کا عقیدہ اس طرح بیان کیا گیا ہے: “لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ” ، کہ (ہم اللہ کے پیغمبروں میں کوئی تفریق نہیں کرتے) بلکہ سب کو مانتے ہیں۔
