حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایام رضاعت کے واقعات

عربی زبان میں ‘رضاعت’ کے معنی دودھ پینا ہوتا ہے۔ جب آنحضور کی پیدائش ہوئی تو آپ ﷺ نے والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کا دودھ پیا۔ اس کے بعد پھر کچھ دنوں تک چچا ابولہب کی باندی ‘ثویبہ’ نے بی آنحضور کو دودھ پلایا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایام رضاعت کے واقعات
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایام رضاعت کے واقعات

شرفائے مکہ کا یہ دستور تھا کہ جب ان کے یہاں کوئی بچہ پیدا ہوتا تھا تو وہ اس کی بہتر پرورش و پرداخت کے لیے عرب کے قصبات اور دیہاتوں میں بھیج دیتے تھے، تاکہ وہاں کی صاف اور صحت بخش آب و ہوا میں وہ پروان چڑھے تاکہ جسم طاقتور اور اعصاب مضبوط ہوں۔ ساتھ ہی ان کے پیش نظر یہ بات بھی ہوتی تھی کہ چونکہ شہر مکہ مکرمہ میں مختلف علاقوں سے لوگ آتے جاتے رہتے تھے، جس کی وجہ سے وہاں مختلف قبائل کے لوگوں کا اختلاط ہوتا رہتا تھا، چنانچہ وہاں کی زبان میں دوسری زبانوں کی آمیزش ہو جاتی تھی۔ اس لیے اپنے بچوں کو دیہات و قصبات میں بھیجنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ وہ عرب کی خالص اور فصیح زبان پر کمال حاصل کر لیں۔ اس غرض کے لیے اطراف کے قبیلوں کی عورتیں وقتاً فوقتاً مکہ مکرمہ آتی رہتی تھی، اور شرفائے مکہ کے بچوں کو اپنے ساتھ لے جاتی تھیں۔ جس سے انہیں بہتر معاوضہ بھی مل جاتا تھا اور آئندہ بہتر سلوک کی بھی امید رہتی تھی۔

قبیلہ ہوازن کی ایک شاخ بنو سعد اس معاملہ میں خاص شہرت رکھتی تھیں، ان کی زبان بھی پورے عرب میں سب سے زیادہ فصیح مانی جاتی تھی۔ چنانچہ جب آپ ﷺ کی پیدائش کا ایک ہفتہ گزر گیا، تو اسی دستور کے مطابق بنو سعد کی کچھ عورتیں نوزائیدہ بچوں کی تلاش میں مکہ آئیں۔ آپ ﷺ ان کے سامنے پیش کیے گئے، لیکن یتیم ہونے کے وجہ سے انہیں یہ خیال ہوا کہ جس بچے کا باپ موجود نہیں اس کی پرورش پر انہیں فراخ دلانہ بدلہ ملے گا اور نہ ہی آئندہ بہتر سلوک اور انعام، اس لے سب نے منع کر دیا۔ ان عورتوں کے ساتھ حلیمہ سعدیہ بھی آئی تھیں۔ اتفاق سے انہیں کوئی بچہ نہیں ملا، اور خالی ہاتھ واپس بھی نہیں ہونا چاہتی تھیں، لہٰذا انہوں نے آنحضور کو دودھ پلانا قبول کر لیا۔

اس واقعہ کو خود حضرت حلیمہ سعدیہ بیان کرتی ہیں کہ “اس سال بہت سخت قحط پڑا تھا، ہمارے پاس کھانے پینے کے سامان بھی نہ تھے، مجھے دودھ اتنا بھی نہ آتا تھا کہ میرے بچوں کو ہی کافی ہو جائے۔ ہمارے ساتھ ایک دبلی پتلی گدھی تھی جس پر میں سوار تھی، اور ایک اونٹنی بھی ہمارے ساتھ تھی، یہ بھی بہت دبلی پتلی تھی، اور اس کا دودھ بھی سوکھا ہوا تھا۔ چنانچہ جب میں مکہ مکرمہ کی جانب روانہ ہوئی تو سب سے پیچھے رہ گئی جس کی وجہ سے ہمیں کوئی بچہ نہ ملا۔ بالآخر مجھے حضرت محمد کو لینا پڑا، جنہیں یتیم ہونے کی وجہ سے دوسری عورتوں نے لینے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن جب میں نے آنحضور کو اپنی گود میں لیا تو مجھے دودھ اس کثرت سے آیا کہ خود آپ ﷺ نے پیٹ بھر کر پیا، پھر میرے اپنے بچوں نے خود سیر ہو کر پیا اور وہ سو گئے۔ اس کے بعد وہ اونٹنی جس کا تھن بالکل سوکھا ہوا تھا، اس میں بھی اتنا دودھ اتر آیا کہ ہم نے خوب سیر ہو کر پیا اور اس رات ہم اس قدر پر سکون نیند سوئے کہ ایسی نیند پہلے کبھی میسر نہ آئی تھی۔ راستہ میں جس میں گدھی پر میں سوار تھی اس قدر تیز رفتار ہو گئی کہ قافلہ کی ساری عورتوں کو پیچھے چھوڑ دیا”۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حلیمہ سعدیہ کے قافلے اور قبیلہ والوں کے ساتھ کئی خوارق عادات واقعات بھی پیش آئے۔

جب عمر دو سال کی ہوئی تو آپ ﷺ کا دودھ چھڑا دیا گیا، اور مکہ مکرمہ میں وبا پھیلی ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ حضرت حلیمہ سعدیہ کے پاس ہی مقیم رہے۔ اس کے تقریباً دو سالوں بعد چار سال کی عمر میں شق صدر کا واقعہ پیش آیا۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ اپنے رضاعی بھائیوں کے ساتھ جنگل میں بکریاں چرا رہے تھے کہ دو آدمی آئے، انہوں نے آپ ﷺ کا سینہ مبارک چاک کیا، اور اس میں سے کوئی سیاہ چیز نکال کر پھینک دی، پھر آپ ﷺ کا دل اچھی طرح دھویا اور صاف کر کے اس کی جگہ واپس رکھ دیا، اور پھر آپ ﷺ کا سینہ مبارک اسی طرح درست کر دیا جیسے پہلے تھا۔ اس واقعہ سے گھبرا کر حضرت حلیمہ نے آپ کو حضرت آمنہ کے حوالہ کر دیا۔

حضرت حلیمہ سعدیہ کے پاس آپ ﷺ تقریباً پانچ سالوں تک مقیم رہے۔ اس دوران ہر سال دو مرتبہ حضرت حلیمہ سعدیہ آپ ﷺ کو والدہ ماجدہ حضرت آمنہ سے ملاقات کرانے کے لیے مکہ مکرمہ لے جایا کرتی تھیں۔

آپ ﷺ کے رضاعی والد کا نام حضرت حارث بن عبد العزیٰ تھا۔ عبداللہ، حذیفہ، انیسہ اور شیما آپ ﷺ کے رضاعی بھائی بہن تھے۔ ان میں سے والدہ حلیمہ سعدیہ، والد حارث، بھائی عبداللہ اور بہن شیما نے اسلام قبول کیا تھا۔

حضرت حلیمہ سعدیہ نے آپ ﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت سفیان بن حارث کو بھی دودھ پلایا تھا، اور آپ ﷺ پہلی رضاعی ماں حضرت ثویبہ نے اپنے صاحبزادہ حضرت مسروح کے علاوہ حضرت حمزہ، حضرت جعفر اور حضرت ابو سلمہ کو بھی دودھ پلایا تھا۔ لہٰذا یہ سب آپ ﷺ کے رضاعی بھائی تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *