فورٹ ولیم کالج کے قیام کے اغراض و مقاصد
فورٹ ولیم کالج کی ابتدا جس زمانے میں ہوئی وہ ہندوستان کی تاریخ کا پر آشوب دور تھا۔ صوبائی بغاوتیں شہنشاہیت کو نقصان پہنچا رہی تھیں اور غیر ملکی طاقتیں اس دور کے سیاسی انتشار سے پورا فائدہ حاصل کرنے کے لیے سر گرم عمل تھیں۔ بنگال‘ پلاسی کی جنگ 1757ء کے نتیجہ میں فرنگی تسلط میں آگیا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی جو صرف تجارتی مقصد سے قائم کی گئی تھی اب سیاست کے میدان میں بھی قدم جمانے لگی تھی۔ بکسر کی لڑائی کے بعد انگریز تسلط نہ صرف مشرقی اضلاع پر مستحکم ہوا بلکہ مغربی اور جنوبی ہند تک پہنچ چکا تھا۔ اس تسلط کو بر قرار رکھنے ‘ مزید سیاسی اقتدار حاصل کرنے اور حکومت کے کاروبار چلانے کے لیے انگریز افسروں کا دیسی زبانوں سے واقف ہو نا ضروری تھا۔ فارسی کا عروج ختم ہو چکا تھا۔ اردو ایک عوامی زبان کی حیثیت سے ملک کے اکثر و بیشتر حصوں میں بولی اور سمجھی جاتی تھی۔ عوام میں اردو کا چرچا ہونے لگا تو کمپنی بہادر کے حکام نے بھی اردو سیکھنے کی طرف سنجیدگی سے توجہ کی اور فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں 1800 ء میں قائم کیا۔ اس کالج کا مقصد اردو کی بقا یا ترویج واشاعت نہ تھا بلکہ کمپنی کے انگریز ملازمین کو اردو سکھانے کا انتظام کرنا تھا۔ اس وقت ملک کی ابھرتی ہوئی زبان اردو ہی تھی جو ہندوستان کے طول وعرض میں نہ صرف بولی اور سمجھی جاتی تھی بلکہ اس میں تصنیف و تالیف کا کام بھی ہو رہا تھا۔ چنانچہ ارباب مقتدر اس زبان کو سیکھنے اور سمجھنے کے لیے مجبور تھے۔ فورٹ ولیم کالج کا قیام چوں کہ سرکاری طور پر منظم کا وش تھی اس لیے اس کا اردو نثر کی ترقی و رفتار پر خوش گوار اثر پڑا۔

کالج کا زوال
ہالٹ میکنزی (Halt Mackenzie) وہ پہلا شخص تھا جس نے کالج کے وجود پر سوالیہ نشان لگایا۔ 1835ء میں جب وہ کالج کونسل کا صدر بنا تو اس نے ممبران کے درمیان پہلی بار یہ شبہ ظاہر کیا کہ کالج اپنے مقاصد کی تکمیل میں کھڑا نہیں اتر رہا ہے۔ اس نے ویلزلی کے منصوبے پر تنقید کی اور نئے تعلیمی نظام کی پر زور حمایت کی۔
یکم اگست 1828 کو ولیم بنٹک نے کالج بند کرنے کے سلسلے میں میکنزی کی حمایت کی، اس کے باوجود ہندی کے پروفیسر کیپٹن پرائس نے 22/مارچ 1830 کو اس کے اس فیصلے کے خلاف لکھا لیکن 4/مئی 1830 کو نئے تعلیمی منصوبہ سرکاری طور پر منظور کر لیا گیا۔ یکم مارچ 1831ء کو کالج کی کونسل کو منسوخ کر کے کتابیں ایشیاٹک سوسائٹی لائبریری کو منتقل کر دی گئیں۔ 1835ء میں اس نے رائٹرس بلڈنگ کے دروازے پر تالا ڈال کر کالج کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ 1854ء میں لارڈ ڈلہوزی کی رپورٹ پر گورنر جنرل نے اس کالج کے خاتمے کا سرکاری حکم جاری کیا۔
