نواب محسن الملک کی ادبی خدمات

نواب محسن الملک:

نواب محسن الملک کا سر سید کے خاص رفقا میں شمار ہوتا ہے۔ اٹاوہ (اتر پردیش) کے رہنے والے تھے۔ انگریزی حکومت میں معمولی ملازمت کرتے ہوئے ڈپٹی کلکٹر تک پہنچے۔ اٹاوہ میں ملازمت کے دوران سر سید سے ملاقات‘ تعارف اور پھر زندگی بھر گہری دوستی و رفاقت قائم ہوگئی۔ کچھ عرصہ حیدرآباد میں رہے۔ 1893ء میں علی گڑھ آگئے اور سر سید کے سچے معاون بن کر رہے۔ سائنٹفک سوسائٹی کے ممبر اور سر سید کے انتقال کے بعد 1899ء میں کالج کے سکریٹری بنائے گئے۔

نواب محسن الملک کی ادبی خدمات
نواب محسن الملک کی ادبی خدمات

نواب محسن الملک فکری اعتبار سے اپنے رفقا میں سر سید کے زیادہ قریب تھے اور ان کی کتابیں بھی دراصل ان ہی خیالات کی ترجمان ہیں۔ اس لیے تمام کتابیں مذہبی اور تہذیبی موضوعات پر ہیں۔ ’تہذیب الاخلاق‘ پرچہ میں سر سید کے بعد سب سے زیادہ مضامین انہوں نے لکھے۔ ان کے ذریعہ محسن الملک کی ادبی رجحان کی شناخت کی جاسکتی ہے۔ ان کا انداز بیان سادہ اور شیریں ہے۔ تمثیل سے بھی پورا پورا فائدہ اٹھایا ہے۔ ان کا ایک مضمون ’تعلیم و تربیت‘ ہے۔ نمونہ کے طور پر اس کا ایک اقتباس دیکھیے۔

“ایک روز خیال نے مجھے عالم مثال تک پہنچایا ….. جب میں عالم مثال (وہاں) سے لوٹا اور لوگوں سے یہ قصہ کہا تو وہ سب ایک ایک لفظ کی حقیقت مجھ سے پوچھنے لگے۔ صرف یہ کہہ کہ باغ ہرا بھرا میں نے مغرب میں دیکھا ہے وہ علوم و فنون جدیدہ کا باغ ہے۔ جس کے پھل پھول اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ پر ہمارا اپنا دل بہلانے والا کوئی وہاں نہیں جس کی ویرانی اور خزاں کی کیفیت ہمارے سامنے ہے وہ پتھر جو سر چشمہ پر آگیا ہے۔ جہالت ہے، ’وہ ندی نالے‘ گندے پانی کے، رسم رواج کی پابندی، ’سیلی‘ نما تعصب، ’علم نما نادانی‘، ’جھوٹا زیور‘ جھوٹی شیخی، ’جاہلانہ تقلید‘ عامیانہ علامی، ’ضرر انگیز حرارت‘ وحشیانہ تعلیم و تربیت ہے۔ جس کا نتیجہ مسخ انسانیت ہے جو کہ ہم آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور جس کا علاج اب ہم سوائے دعا کے کچھ نہیں جانتے۔”

یہ پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ فکر کے ساتھ ساتھ کہنے کا انداز بھی بالکل سر سید جیسا ہے اور مقصدیت غالب ہے۔ لیکن ایسی عمدہ تصویر کشی کی ہے کہ محسن الملک کے اندر کہانی لکھنے کی پوری صلاحیت نظر آتی ہے ان کے دیگر مضامین “تدبیر و امید” اور “عزت” وغیرہ اہم ہیں جس میں ادبیت بھرپور نمایاں ہے۔ محسن الملک کا مقام اردو ادب میں گرچہ وہ نہیں ہے جو حالی اور شبلی کا ہے مگر ادب کو نئی جہت اور جدت ادا کرنے میں وہ ان کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں۔

سر سید احمد خان کے دیگر رفقا:

سر سید کے دیگر رفقا بھی ہیں جنہوں نے بہت کچھ لکھا مثلاً منشی ذکاء اللہ اور مولوی چراغ علی وغیرہ مگر ان کے موضوعات ادب سے ہٹ کر ہیں۔ منشی ذکاء اللہ مشہور ریاضی داں اور تاریخ نگار تھے۔ یہ بھی ڈپٹی نذیر احمد کی طرح دہلی کالج کے پڑھے ہوئے تھے۔ ڈیڑھ سو سے زائد کتابیں انہوں نے لکھی ہیں۔ تاریخ اور ریاضی سے ہٹ کر مضامین تہذیب الاخلاق میں لکھتے تھے۔ اس کے علاوہ سر سید کی مجوزہ ورنارکلر یونیورسٹی کے معاون و مؤید تھے۔ اردو ذریعہ تعلیم کے حامی منشی ذکاء اللہ نے اپنی زندگی میں محتاط اندازے کے مطابق پچاس ہزار صفحات لکھے ہیں۔ ان میں بعض کتابیں کئی جلدوں پر مشتمل ہیں۔ اگر انہوں نے ادب کو بھی اپنا موضوع بنایا ہوتا تو یقینا اردو کے نامور ادیبوں میں ان کا شمار ہوتا۔ چراغ علی نے علمی اور مذہبی کتابیں لکھی ہیں۔ اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان پر انہیں زبردست عبور حاصل تھا۔ متعدد کتابیں انگریزی میں بھی ہیں۔ یہ بھی محسن الملک کی طرح فکری اعتبار سے سر سید سے پوری طرح ہم آہنگ تھے۔ اپنی کتابوں میں سر سید کے مذہبی افکار کی ترجمانی کی ہے۔

اردو کے ایک اور بڑے ادیب ہیں جن کا تعلق براہ راست سر سید تحریک سے نہ تھا مگر ادبی اور فکری پہلو سے اس تحریک کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں۔ یہ ہیں مولوی محمد حسین آزاد۔ انہوں نے نظم اور نثر دونوں میں خدمات انجام دیں۔ ’انجمن پنجاب لاہور‘ کے روح رواں یہی تھے۔ اردو شاعری کو فطری اور موضوعاتی بنانے میں اس انجمن کا بڑا ہاتھ ہے۔ حالی بھی اس سے وابستہ تھے۔ محمد حسین آزاد کی مشہور کتابوں میں ’قصص ہند‘، ’آب حیات‘، ’نیرنگ خیال‘، ’دربار اکبری‘، ’سخندان فارس‘، ’نگارستان‘، ’نظم آزاد‘ وغیرہ ہیں۔ ’آب حیات‘ کو زیادہ مقبولیت نصیب ہوئی۔ اردو شعرا کا تذکرہ پہلی مرتبہ اس میں سماجی پس منظر، تاریخی ارتقا اور ادبی شعور کا لحاظ کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *