کھڑی بولی
کھڑی بولی دہلی اور اس کے اطراف کی بولیوں میں ایک اہم بولی ہے۔ یہ دہلی کے شمال مشرق کی بولی ہے جس کا علاقہ جمنا پار کرتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ جمنا کے مشرق میں دریائے گنگا ہے اس لیے اس علاقے کو بالائی دو آبہ کہا جاتا ہے۔ گنگا کے مشرق اور مغرب میں کھڑی بولی کا خاص علاقہ ہے جو مغربی اتر پردیش کے کئی اضلاع پر مشتمل ہے۔ ان اضلاع میں مسلمانوں کی اکثریت رہی ہے اور ان کی تہذیب و ثقافت کے گہرے اثرات آج بھی موجود ہیں۔ کھڑی بولی کی کئی شکلیں ہیں جن میں سے دو کی نشاندہی گریرسن نے کی ہے۔ اس کی ایک شکل گنگا کے مشرقی جانب مراد آباد، بجنور، رام پور اضلاع میں بولی جاتی ہے۔ اس کی دوسری شکل گنگا کے مغرب میں میرٹھ، مظفر نگر اور سہارن پور کے اضلاع کی بولی ہے۔ مظفر نگر میں تشدید کا استعمال زیادہ ہوتا ہے اور افعال کی صورت یہ ہے کہ ”میں مارتا ہوں“ کے ساتھ ”میں ماروں ہوں“ بھی کہا جاتا ہے۔ اسما کی جمع (اں) سے بنائی جاتی ہے مثلاً عورتاں، قلماں، مکاناں وغیرہ۔ ضمیر میں تیرا کی جگہ تجھ مجھ کا استعمال بھی ملتا ہے۔ کھڑی بولی شمال میں دہرہ دون اور اتراکھنڈ کے میدانی علاقے میں بھی بولی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ضلع انبالہ کی تحصیل انبالہ اور ضلع بلند شہر کے شمالی حصے میں یہ رائج ہے۔ کھڑی بولی کے شمال میں پہاڑی بولیوں کا علاقہ ہے۔ اس کے شمال مغرب میں ہریانوی، جنوب میں برج بھاشا اور جنوب مشرق میں قنوجی بولی جاتی ہے۔ اس طرح کھڑی بولی کے علاقے کے تین جانب مغربی ہندی کی بولیوں کا علاقہ ہے۔ مسعود حسین خاں نے مغربی روہیل کھنڈ کے اضلاع بجنور، مراد آباد اور رام پور کی کھڑی بولی کو معیاری اردو سے قریب ترین قرار دیا ہے۔

کھڑی بولی دوسری بولیوں کے مقابلے میں قدیم ترین ہے۔ یہ مسلمانوں کی آمد سے قبل ہی میرٹھ اور اس کے مضافات میں بولی جاتی تھی۔ اس بولی کی جھلک اپ بھرنش کی قدیم ترین تصنیفات میں ملتی ہے۔ اس کے اثرات اتنے ہمہ گیر تھے کہ یہ اپنے علاقے سے آگے بڑھ کر پنجابی کو بھی متاثر کرتی رہی ہے۔ لیکن پندرہویں صدی سے قبل اس بولی کا کوئی نمونہ دستیاب نہیں ہے۔ دکن میں اس کا پہلا مستند نمونہ ملتا ہے جو فخر دین نظامی بیدری کی تصنیف ”مثنوی کدم راؤ پدم راؤ“ (1421 سے 1445 کے درمیان) کی شکل میں موجود ہے۔ شمالی ہند میں امیر خسرو کے غیر مستند ہندوی کلام کے علاوہ صوفیا کرام کے چند فقرے ہی ملتے ہیں۔
کھڑی بولی کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ اردو جو ایک جدید ہند آریائی زبان ہے، براہ راست کھڑی بولی سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ کھڑی بولی کا ہی نکھرا ہوا روپ ہے اور اسی کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ پروفیسر گیان چند جین اپنے ایک مقالے ”اردو کے آغاز کے نظریے“ میں اس بات پر شدت کے ساتھ زور دیتے ہیں کہ ”اردو کی اصل کھڑی بولی اور صرف کھڑی بولی ہے ۔“ اردو کی اصل و اساس کھڑی بولی ہے اور اس کا ڈھانچہ اور کینڈا سب کچھ کھڑی بولی کا ہے۔ اردو کے ماخذ کے سلسلہ میں اکثر عالموں کا کھڑی بولی پر اتفاق ہے جو دو آبے کے علاقے کی شورسینی اپ بھرنش کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے۔ اردو میں اگر چہ کئی زبانوں کے الفاظ شامل ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اردو کھڑی بولی سے پیدا ہوئی۔ جس زمانے میں شمالی ہندوستان میں سیاسی طور پر تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں، اس وقت دہلی اور اس کے نواح میں بعض ایسی بولیاں سر اٹھا رہی تھیں جن کے بہت سے لفظوں کا ڈھانچا کھڑا تھا یعنی جن کے بیشتر الفاظ ”الف“ یا ”آ“ کی آواز پر ختم ہوتے تھے۔ کھڑی بولی ان میں سے ایک ہے۔ مرزا خلیل احمد بیگ نے بھی اردو کو کھڑی بولی کی ترقی یافتہ شکل تسلیم کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں:
”اردو کا ارتقا کھڑی بولی سے ہی ہوا ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ کھڑی بولی نے ہی اردو کا روپ اختیار کر لیا اور دھیرے دھیرے معیاری اور ترقی یافتہ بنتی گئی۔ اس طرح اگر دیکھا جائے تو کھڑی بولی اور اردو دونوں ایک ہی ہیں۔ ہر چند کہ قدیم اردو بالخصوص دکنی اردو پر ہریانوی کے بھی اثرات ہیں، لیکن اردو کا بنیادی ڈھانچہ اور کینڈا کھڑی بولی ہی کا ہے۔ زمانہ حال کی ہندی بھی جو ناگری یا دیوناگری رسم خط میں لکھی جاتی ہے، کھڑی بولی سے ہی پیدا ہوئی ہے لیکن اس کا ادبی ارتقا اردو کے ادبی ارتقا کے بعد ہوا ہے۔“ (اردو کی لسانی تشکیل ، ص 158)
