کاروبار کے مقاصد
مقصد ایک مقررہ نشانہ ہے، جس کے حصول کے لیے تمام تر کوششیں صرف کی جاتی ہیں۔ ایک کمپنی یا فرم کے وجود کے لیے مقصد ضروری ہوتا ہے۔ مقاصد کاروبار کو ایک رُخ فراہم کرتے ہیں۔ مقاصد تاجروں کے مشغول سرمایہ پر شرح واپسی یعنی نفع کے حصول سے متعلق ہے۔ جس کو وہ انجام دیتے ہیں۔ عام طور پر تاجروں کا اہم مقصد کاروبار کے ذریعہ نفع کمانا ہوتا ہے۔ ہر تاجر اپنے سرمایہ سے زیادہ نفع کمانا چاہتے ہیں۔ یعنی وہ اپنے کاروبار میں لگائی گئی رقم سے زیادہ شرح پر نفع حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کاروبار کا دوسرا پہلو سماج کی خدمت سے متعلق ہے۔ کاروبار کے ذریعہ روزگار کی تخلیق عمل میں آتی ہے۔ اور دیگر کاروباری سرگرمیاں بھی انجام دی جاتی ہیں۔ یہاں طلبا کو یہ بات ذہن میں رکھنا چاہیے کہ کاروبار میں اعظم ترین نفع حاصل کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا، اور اگر دیگر تاجروں کو بھی اس کاروبار میں سرمایہ لگانے کے لیے تحریک ملتی ہے، جہاں کاروبار میں مسابقت کے لیے راہ ہموار ہوتی ہے۔ کاروبار کے مقاصد کا مطالعہ تین عناوین کے تحت کیا جاسکتا ہے۔ ان کو ذیل میں تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے۔

کاروبار کے معاشی مقاصد
معاشی مقاصد کو ذیل میں بیان کیا جاتا ہے۔ i) نفع کمانا (Earning of Profit): کاروبار نفع کمانے کے لیے جاری رکھے جاتے ہیں۔ کاروبار کرنے کے نتیجہ میں نفع حاصل ہوتا ہے۔ کیونکہ کاروبار کا بنیادی مقصد نفع کمانا ہوتا ہے۔ کاروباری میدان آسان نہیں ہوتا ہے۔ کاروبار کے دوران کئی چیلنجس کا سامنا ہوتا ہے۔ اور کاروبار جوکھم بھرا ہوتا ہے۔ اس میں کئی غیر یقینی حالات درپیش ہوتے ہیں جیسے تجارتی صارفین کے ذوق میں تبدیلی، زر کے بازار میں تبدیلیاں، حکومت کی پالیسی، صارفین کی ترجیحات میں تبدیلی وغیرہ۔ کاروباری سرگرمیوں کی انجام دہی کے بعد نفع کا حصول ضروری ہوتا ہے۔ نفع کاروباری فرم کے وجود، توسیع، دیگر اشیاء کی پیداوار کے لیے بھی ضروری ہوتا ہے۔ سرمایہ کار کاروباری فرم میں اپنے مشغول کردہ سرمایہ پر نفع کی اچھی شرح چاہتے ہیں۔ فرم سے وابستہ ورکرز اور عہدیدار اچھی اجرتیں اور تنخواہ چاہتے ہیں، اور خود تاجر مکرر سرمایہ کاری کے لیے زیادہ نفع چاہتے ہیں تا کہ کاروبار آگے بڑھتا رہے۔ ان تمام توقعات کو اسی وقت پورا کیا جاسکتا ہے جبکہ فرم یا کمپنی کے نفع کی شرح اچھی ہو۔
کاروبار کا وجود
بازار میں کاروباری ادارے کا وجود نفع کے حصول کی بنیاد پر برقرار رہتا ہے۔ کاروبار کو دوسری فرمس سے مسابقت کا خدشہ لاحق ہوتا ہے۔ بازار میں پیدا شدہ بازار کاری ماحول میں تبدیلیاں اور مستقبل کی غیر یقینی صورت حال وغیرہ سے بھی نبرد آزما ہونے کا بھی خوف ہوتا ہے۔ اس لیے تاجر ان سب سے نمٹتا ہے۔ کاروباری غیر یقینی صورت حال بہتر ہونے پر ہی ان چیلنجس کا سامنا آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔
نشوونما و ترقی
کوئی بھی فرم بازار میں اسی وقت تک ٹک سکتی ہے جبکہ وہ وقت کے گزرنے کے ساتھ اس کی نشوونما و ترقی ہو۔ نشوونما و ترقی پر کاروبار کا مقصد ہوتا ہے۔ ایسا اسی وقت ہو سکتا ہے جبکہ فرم یا کمپنی سرمایہ کی مناسبت سے نفع بھی حاصل کر رہی ہو اور کاروبار کی توسیع عمل میں لا سکتی ہو۔ ایک غیر منظم کاروبار زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکتا۔ اس لیے کاروبار کی نشوونما اور ترقی کے لیے منصوبہ تیار کر کے اس پر عمل درآمد کیا جائے، تا کہ کاروبار دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر سکے۔ یہی عمل بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔
معیاری اشیاء کی پیداوار
فرم یا کمپنی اسی وقت نفع کما سکتی ہے جبکہ وہ اشیاء کی فروخت اور خدمات کی فراہمی کے ذریعہ نفع کما رہی ہو۔ اسی سلسلے کی اگلی کڑی یہ ہوگی کہ فرم اشیاء کی خرید و فروخت اور خدمات کی فراہمی کے ذریعہ صارفین کو معیاری اشیاء اور خدمات پیش کر کے مطمئن ہو سکتی ہے۔ عام طور پر پیدا کنندے اشیاء کی طلب کا اندازہ لگاتے ہیں اور اسی کی مطابق اشیاء فراہم کرتے ہیں تا کہ صارفین کو کوئی دشواری نہ ہو۔ بازار کاری میں وہ تمام سرگرمیاں شامل ہیں جن سے ہمیں وقتی، مقامی اور مالکانہ افادہ حاصل ہوتا ہے۔ تاجر ہمیشہ نئے گاہکوں کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ تا کہ ان کی اشیاء کی فروخت میں اضافہ ہو۔ اس سلسلہ میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ نئے صارفین کی تلاش کی چکر میں پرانے گاہک چھوٹ نہ جائیں۔ ایسا اسی وقت ممکن ہے جب اشیاء کا معیار بہترین ہو اور قیمت بھی معیار کی مناسبت سے واجبی ہو۔
تکنیکی بہتری
پیدا کنندہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ اشیاء کی تیاری کے لیے بہترین ٹکنالوجی استعمال کرے۔ کیونکہ یہ دور مسابقتی دور ہے۔ اس لیے بہترین ٹکنالوجی استعمال کرے تا کہ اس گلا کاٹ مسابقت کے دور میں بازار میں اپنی شئے کو دوسرے پیدا کنندوں کے برابر رکھا جاسکے۔ ہر پیدا کنندہ صارفین کو معیاری اشیاء کم قیمت پر فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں عصری ٹکنالوجی کا استعمال ضروری ہو جاتا ہے۔ عصری ٹکنالوجی دراصل معیاری شئے کی کم لاگت پر تیار کرنے میں مددگار ہوتی ہے۔ اس لیے ہر تاجر کے لیے ضروری ہے کہ وہ پیداوار کے عصری طریقوں کو اپنائے۔ تا کہ صارفین کے تقاضوں اور ان کے ذوق کی تکمیل کی جاسکے۔
وسائل کا اچھا استعمال
وسائل کا بہترین استعمال ضروری ہے۔ جیسے افراد، زر، خام مال، پلانٹ، مشینری، عصری ٹکنالوجی وغیرہ۔ وسائل کی قلت ہے ان کا بہترین استعمال کاروبار کو مستحکم کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔ عصری ٹکنالوجی کے استعمال کی صورت میں ملازمین کو مشین اور آلات کے استعمال کے طریقہ کار کی تربیت دی جائے۔ خام مال کی تضیع سے بچنے کی ترکیب بتائی جائے۔ بے کار اشیاء کے استعمال کے طریقوں سے عملہ کو واقف کروایا جائے۔ سرمایہ اتنا ہی صرف کیا جائے جتنا کہ اس سے فائدہ حاصل ہونے کی توقع ہو۔ اگر ان امور کو پیش نظر رکھا جائے تو وسائل کا بہترین استعمال ہو سکتا ہے۔
اختراع
اختراع پیداوار کے نئے طریقوں اور عصری ٹکنالوجی کے استعمال کے نئے طریقوں سے متعلق ہے۔ پیداوار کے لیے جب نئے طریقوں کو استعمال کیا جاتا ہے تو اچھے نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ وہ کمپنیاں جو عصری ٹکنالوجی کا سب سے پہلے استعمال کرتے ہیں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ آج کے اس مسابقتی دور میں کاروباری ماحول میں اختراع کاروبار کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ معیاری اشیاء کو صارفین ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں، پسند کرتے ہیں، طلب بڑھتی ہے اور طلب کے بڑھنے کے ساتھ فروخت کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور نفع کی شرح میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
بازار کی تخلیق
کاروبار کا اہم مقصد اشیاء کی خرید و فروخت ہے۔ بازار کاری اشیاء کی ملکیت کی منتقلی کی جانے والی محنت اور ان کی طبعی تقسیم پر مشتمل ہوتی ہے۔ بازار کاری ان تمام سرگرمیوں کا احاطہ کرتی ہے جو وقتی، مقامی اور ملکیتی افادہ سے متعلق ہوں۔ تاجر ہمیشہ نئے گاہکوں کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے تا کہ فروخت کی مقدار میں اضافہ ہو سکے۔ اس کے ساتھ تاجر پرانے گاہکوں سے تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے موزوں قیمت پر معیاری اشیاء سربراہ کرتا ہے۔ اس طرح نئے بازار اور گاہکوں کی تلاش اور ان سے تعلقات کو برقرار رکھنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور یہی سرگرمی تاجر کی تیار کردہ شئے کے لیے بازار میں فرم کے وجود کو بنائے رکھتی ہے۔
کاروبار کے سماجی مقاصد
کاروبار کے سماجی مقاصد درجہ ذیل ہیں۔
اشیاء کی تیاری / خریدی
فرم کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ صارفین کو درکار اشیاء کی پیداوار / تیاری کی طمانیت دے یا اس بات کا یقین دلائے کہ وہ ہمیشہ اشیاء کی سربراہی کو برقرار رکھے گا۔ تاجر کو چاہیے کہ وہ مختلف اشیاء کی کل طلب کا تخمینہ کر کے، اس کے مطابق اشیاء تیار کرے۔ آج کل فلاحی مملکتی حکومتیں بھی سوسائٹی کی ضرورتوں کے مطابق کاروبار، سرگرمیوں کو مربوط کرے۔ ایسا اسی وقت کیا جاسکتا ہے جبکہ مختلف لائسنسنگ قوانین ایسا کرنے کی اجازت دے۔ مختلف اشیاء کی طلب کے مطابق لائسنس کی اجرائی عمل میں آتی ہے۔
معیاری اشیاء اور خدمات کی سربراہی
ہر تاجر کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مناسب و موزوں قیمت پر معیاری اشیاء اور خدمات صارفین کو سربراہ کریں۔ ہر تاجر کا مقصد ہونا چاہیے کہ وہ گاہکوں کے ذوق کی تکمیل کرے۔ ملاوٹی، غیر معیاری، ناقابل استعمال یا صحت کے لیے نقصاندہ اشیاء کی سربراہی کاروباری اخلاقیات کے خلاف ہوگی۔ اشیاء کی قلت کے زمانے میں گاہک بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ صارفین کو آج بھی غیر معیاری اشیاء زیادہ قیمت پر سربراہ کیے جاتے ہیں، اور آج بھی اشیاء کی خاطر خواہ مقدار میں سربراہی نہیں ہورہی ہے۔ اگر فرم اسی سلسلہ کو طویل مدت تک جاری رکھتی ہے تو کاروبار ترقی نہیں پا سکتا۔ بعض اوقات کاروبار بند ہونے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ اس لیے ہر تاجر کے لیے ضروری ہے کہ صارفین کے ذوق و شوق اور ترجیحات کا تجربہ کر کے معیاری اشیاء موزوں ترین قیمت پر سربراہ کرے۔
حکومت سے تعاون
ہمارے ملک میں سوشلزم طرز معیشت پر عمل آوری ہوتی ہے۔ اس لیے کاروبار کے لیے ضروری ہے کہ وہ سوشلزم طرز معیشت کے مقاصد کے حصول کے لیے مددگار ہو۔ ایسی طرز معیشت میں عوامی اور خانگی شعبہ جات کا رول نہایت اہم ہوتا ہے۔ ملک کی معاشی ترقی کے لیے معینہ مقاصد کے ترجیحات کے مطابق عمل آوری ضروری ہے۔ ہندوستان میں ابھی تک ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کمپنیوں کی پالیسیاں حکومتی پالیسی کے خلاف بنی ہوں۔ بعض اوقات اگر بن بھی جائے تو ان پالیسیوں سے پہلو تہی کر لیا جاتا ہے۔ اسی طرح مختلف ٹیکس کی ادائی سے بھی اجتناب کیا جاتا ہے۔ ان صورتوں میں کاروبار اور حکومت کے درمیان غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ تاجر مثبت فکر رسائی اپنائے اور حکومت کی پالیسیوں کے مطابق مثبت رویہ اپنائیں۔ تا کہ قومی مسائل کے لیے حل میں مددگار ثابت ہو۔
روزگار کے مواقعوں میں اضافہ
تاجر اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مقامی اور غیر مقامی دونوں افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ جیسے فرم اگر اپنے کاروبار کی توسیع کرنا چاہے تو یہ عمل زائد روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔
