ڈپٹی نذیر احمد کی ادبی خدمات

ڈپٹی نذیر احمد:

ڈپٹی نذیر احمد کا وطن بجنور ہے۔ بچپن میں دہلی آگئے اور قدیم دہلی کالج سے تعلیم حاصل کی۔ انگریزی حکومت کی ملازمت کی اس لیے ان کی حمایت کرتے رہے۔ انہوں نے کبھی کچھ وقت حیدرآباد میں گزارا‘ بقیہ زندگی دہلی میں رہ کر تصنیف و تالیف کا کام کرتے رہے۔ “شمس العلما” کے خطاب سے نوازے گئے۔

ڈپٹی نذیر احمد کی ادبی خدمات
ڈپٹی نذیر احمد کی ادبی خدمات

سر سید سے ان کے روابط تھے۔ عموماً تقاریر کے لیے سر سید انہیں اپنے ساتھ رکھتے کیوں کہ آواز بلند اور بھاری بھر کم تھی۔ بڑے بڑے اجتماعات میں تقریر کرتے تو سناٹا چھا جاتا۔ ان کی تقریروں کے مجموعے خطبات نذیر احمد کے نام سے شائع ہو چکے ہیں، جسے پڑھ کر ان کے وسیع علم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ قرآن پاک کی تفسیر بھی انہوں نے لکھی۔ قانون کی کتابوں کا ترجمہ کیا ہے جن میں “تعزیرات ہند” اور “قانون شہادت” مشہور ہیں۔ نذیر احمد کی اصل شہرت ان کے ناولوں کی وجہ سے ہے۔

ڈپٹی نذیر احمد کو اردو کا پہلا ناول نگار کہا جاتا ہے۔ حالاں کہ بحیثیت ناول انہوں نے نہیں لکھا۔ ان کے سامنے پہلے سے ناول کا خاکہ یا نمونہ اردو میں موجود نہیں تھا۔ ظاہر ہے ان کے ناول فکری اور فنی اعتبار سے کمزور ہیں البتہ ناول کے عناصر ترکیبی ہونے کی بنا پر ان کی تصانیف کو ناولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد نے کل سات ناول لکھے۔ پہلا ناول “مراۃ العروس” 1869ء میں لکھا جو کہ اپنی لڑکی کی تعلیم و تربیت اور ذہن سازی کے لیے لکھا تھا۔ لیکن ایک انگریز کلکٹر کی فرمائش پر اسے شائع کیا جو مقبول ہو گیا۔ دوسرا ناول “بنات النعش” بھی اسی مقصد سے لکھا۔ تیسرا ناول “توبۃ النصوح” سب سے زیادہ مشہور اور دلچسپ ہے۔ اس کو پڑھ کر دلی کے اجڑے ہوئے مسلم خاندانوں کی تصویر سامنے آجاتی ہے۔ اس ناول کا ایک زندہ جاوید کردار “مرزا ظاہر دار بیگ” ہے۔ ان کے دیگر ناولوں کے نام “ابن الوقت”، “فسانہ مبتلا”، “ایامیٰ” اور “رویائے صادق” ہیں۔

نذیر احمد کے متعلق عموماً یہ رائے ظاہر کی جاتی ہے کہ فن کے اعتبار سے ان کے ناول، ناول کے بجائے ’خطبات‘ نظر آتے ہیں جس میں اصلاح معاشرت کی بات کہی گئی ہے۔ مگر اعتراض کرنے والے اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ اس وقت سماجی مسائل مسلمانوں کے درمیان سب سے اہم مسئلہ بنا ہوا تھا اور سر سید تحریک کے زیر اثر نذیر احمد بھی ناولوں کے ذریعہ لوگوں کو نئی راہ دکھانا چاہتے تھے۔ اس لحاظ سے ان میں ترقی یافتہ ناولوں کی تمام خوبیاں تلاش کرنا بے کار ہے۔ مگر انیسویں صدی کے ہندوستانی مسلمانوں کی معاشرت کی بہترین تصویریں ان ناولوں میں ملتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہر ناول کے نہ جانے کتنے ایڈیشن نکل چکے ہیں بلکہ دیگر کئی زبانوں میں اس کے ترجمے بھی ہو چکے ہیں۔ نذیر احمد زبان کے بادشاہ ہیں۔ دلی کی عام بول چال‘ محاورے‘ کنایے کے ساتھ ساتھ سنجیدہ علمی زبان کا استعمال بڑی مہارت سے کرتے ہیں۔ کبھی کبھی عربی کے نامانوس لفظ اور بے جا محاورے لکھ دیتے ہیں۔ دو رختی زبان ہونے کے باوجود یہ لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور بقول سید عبد اللہ نذیر احمد کا منفرد اسلوبِ بیان دلوں پر اپنا سکہ جماتا چلا جاتا ہے۔ یہ خاص رنگ سر سید کے رفقا میں سے کسی کو حاصل نہ ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *