علی گڑھ تحریک کا پس منظر

1757 ء کی جنگ پلاسی کے بعد ہندوستان جدید دور میں داخل ہوتا ہے۔ یہ پہلا موقعہ تھا جب یورپی تجارتی قوم نے ہندوستان کی سیاست میں ریشہ دوانیوں کا فائدہ حاصل کرکے ، اپنا استبدادی پنجہ گاڑ دیا۔ بنگال کی بے شمار دولت ہاتھ لگنے کے بعد انگریزوں کی نیت خراب ہو گئی۔ پھر 1764 ء کی بکسر کی لڑائی میں مغل ، اودھ اور بنگال کی متحدہ افواج کو انگریزوں نے شکست دے کر اپنی فوجی برتری کو ثابت کر دیا۔ ہندوستان کی دیگر ریاستوں کو بھی رفتہ رفتہ انگریزوں نے شکست دے کر یا کمزور کر کے لوٹنا کھسوٹنا شروع کر دیا۔ آخر یہ ظلم و بربریت کب تک ؟ ہندوستانیوں کے ذہنوں میں انگریزوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکنے لگی۔ چنانچہ جنگ پلاسی کے ٹھیک سو سال بعد 1857 ء میں انگریزوں کے خلاف پورے ہندوستان میں جنگ لڑ کر انہیں بے دخل کرنے کی آخری کوشش کی گئی لیکن یہ کوشش دیر پا ثابت نہ ہوئی جس کی کئی وجوہات ہیں مثلاً اتحاد و اتفاق کی کمی، بہتر اور منظم فوج کا نہ ہونا، انگریزوں کے مقابلے میں ناقص ہتھیار اور اسلحہ ، ترسیل و رابطہ کی عدم موجودگی ، انگریزی خفیہ محکمہ کی چابکدستی اور خود ہندوستانیوں کے ذریعہ مخبری اور غداری کرنا وغیرہ وغیرہ ایسے حقائق تھے جس کی بنا پر چند مہینوں میں انگریزوں نے پورے انقلاب کو کچل ڈالا اور صدیوں سے قائم مغل شہنشاہیت کے آخری ٹمٹماتے ہوئے چراغ کو بھی ہمیشہ کے لیے گل کر دیا۔

علی گڑھ تحریک کا پس منظر
علی گڑھ تحریک کا پس منظر

انقلاب 1857 ء ہندوستانی تاریخ کے سب سے اہم واقعات میں سے ایک ہے جس نے ایک نئے ہندوستان کو جنم دیا۔ انگریزوں اور پہلے کی دیگر فاتح قوموں میں ایک بنیادی فرق یہ تھا کہ موخرالذکر نے ہندوستان کو غلام نہیں بنایا بلکہ وہ خود اس کے غلام ہو گئے جب کہ اس کے برعکس انگریزوں نے ہندوستان کو غلام بنایا۔ نسلی تفوق، علمی برتری اور عسکری قوت کا زعم ان میں موجود تھا نتیجتاً ہندوستانی عوام ذہنی کشمکش میں مبتلا ہو کر احساس کمتری کا شکار ہوگئی۔ انھیں اس مصیبت سے نکالنے کے لیے بہت سارے مصلح قوم اٹھ کھڑے ہوئے جنہوں نے مختلف انداز سے سیاسی ، سماجی ، تعلیمی اور مذہبی اصلاحی تحریکات کے ذریعہ مخلصانہ خدمات انجام دیں۔ ایسے ہی ایک مصلح قوم کا نام سر سید احمد خان ہے جن کی تحریک علی گڑھ تحریک کے نام سے مشہور ہوئی۔

انیسویں صدی کی ان تحریکات کو ہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک کی بنیاد انگریزوں سے مفاہمت پر ہے جو مغربی علوم، سائنسی طرز فکر، منطقی استدلال اور عقلیت پرستی کی روشنی میں تجدیدی کام کرنا چاہتا تھا تاکہ کھویا ہوا وقار بحال ہو سکے ساتھ ہی انگریزوں کے ذہنوں میں ہندوستانیوں کے تئیں جو شکوک و شبہات ہیں اس کا ازالہ بھی ہو جائے۔ دوسری طرح کی تحریکات کی بنیاد انگریزوں سے نفرت پر ہے جو مغربی ثقافتی یلغار کے سامنے اپنی مشرقی روایات ، تشخص، تہذیب و ثقافت کو مٹنے دینا نہیں چاہتا۔ اس نے عقلیت کے بجائے عقائد اور تجدید کے بجائے احیا پر زور دیا۔ اول الذکر میں برہمو سماج، پرارتھنا سماج اور علی گڑھ تحریک وغیرہ جب کہ دوسری طرح کی تحریکات میں آریہ سماج ، رام کرشن مشن اور دیوبند تحریک وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

1857 ء کے انقلاب میں چوں کہ مسلمانوں کا بڑا اہم رول رہا اور انگریز اس بات سے بخوبی واقف تھے اس لیے انھیں ہر پہلو سے نظر انداز کرنا ضروری سمجھا۔ سر سید نے اپنی انتھک کوششوں سے ایک طرف انگریزوں کے ذہنوں کو صاف کرنے کی کوشش کی تو دوسری طرف مختلف انجمنوں اور علی گڑھ کالج کے قیام ، تصنیف، تالیف ، مضامین، صحافت اور تقریروں کے ذریعہ مسلمانوں کے تعلیمی، سیاسی اور سماجی انحطاط کو دور کرنے کا بھی بیڑا اٹھایا۔ علی گڑھ تحریک نے ہندوستانی مسلمانوں کے تنزل کے سد باب کے ساتھ ساتھ اردو ادب پر بھی بڑے گہرے اثرات مرتب کیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *