علامہ شبلی نعمانی کی ادبی خدمات
علامہ شبلی نعمانی:
شبلی نعمانی (1857-1914) اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ عربی فارسی اور فلسفہ وغیرہ کی تعلیم اپنے وقت کے علما سے حاصل کی۔ 1872ء میں وہ علی گڑھ کالج میں فارسی کے استاد کی حیثیت سے آئے۔ یہاں پر سر سید کے کتب خانے سے بھرپور استفادہ کیا اور ان ہی کی توجہ سے سوانح نگاری کی طرف راغب ہوئے۔ حالاں کہ اس وقت تک وہ نظمیں لکھتے تھے۔ علی گڑھ میں قیام کے دوران پروفیسر آرنلڈ سے فرانسیسی زبان سیکھی۔ آرنلڈ سے اتنا گہرا تعلق تھا کہ ان کے ہمراہ مصر‘ شام اور دیگر اسلامی ممالک کا سفر کیا۔ سفر کے دوران میں کچھ اہم کتب خانوں کی زیارت کی جس کے طفیل مطالعہ میں وسعت کے علاوہ ہوگئے۔ 1897ء میں وہ وہاں سے اپنے وطن اعظم گڑھ آگئے اور ایک نیشنل اسکول کی بنیاد رکھی۔ کچھ عرصہ وہ حیدرآباد میں رہے جہاں انھیں تصنیف و تالیف کا اچھا موقعہ ملا۔ لکھنؤ میں جب دارالعلوم ندوۃ العلما قائم ہوا تو شبلی کی خدمات حاصل کی گئیں۔ وہاں رہ کر مولانا عبد الماجد دریا بادی اور علامہ سید سلیمان ندوی جیسے صاحب طرز ادیبوں کی تربیت کرتے رہے۔ آخر میں پھر اعظم گڑھ آگئے اور ایک تحقیقی ادارہ “دارالمصنفین” نام سے قائم کیا جو آج تک اپنا کام کر رہا ہے۔

سر سید کے رفقا میں علامہ شبلی بڑی عبقریت کی حامل شخصیت تھی۔ علم الکلام اور فلسفہ میں کامل دست رس رکھتے تھے۔ سوانح نگاری‘ تاریخ نویسی‘ ادب‘ انشا اور شاعری کے ساتھ اردو تنقید میں بھی ان کا ایک بلند مقام ہے۔ “سیرۃ النبی”، “المامون”، “الفاروق”، “الغزالی”، “سیرۃ النعمان” اور “سوانح مولانا روم” ان کی سوانح عمریاں ہیں جب کہ “شعر العجم” اور “موازنہ انیس و دبیر” سے ان کی تنقیدی بصیرت کا پتہ چلتا ہے۔ ایک مختصر کلیات بھی شائع ہوا ہے جس میں مثنوی ’مسدس‘ قصیدے اور اخلاقی و سیاسی نظمیں ملتی ہیں۔ برطانوی سامراج کے واقعات پر بڑی دلولہ انگیز نظمیں لکھی ہیں جنہیں پڑھ کر شبلی خود بھی روتے تھے اور دوسروں کو بھی رلاتے تھے۔
شبلی کی تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں قوت اور جوش بیان کے ساتھ ساتھ ایجاز و اختصار بھی ہے۔ چوں کہ شبلی جمالیاتی تنقیدی دبستان سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے نثر میں شاعرانہ فضا پیدا کرنے کا بڑا اہتمام کیا ہے۔ وہ بر محل اشعار کا استعمال کر کے معانی و مطالب کو دل کش انداز میں ادا کر دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ ان کی نثر کی سادگی میں فن کاری کی ایک خاص شان پائی جاتی ہے۔ ادب کے طالب علم کو شبلی کی موازنہ انیس و دبیر اور شعر العجم کی چوتھی جلد ضرور پڑھنی چاہیے۔
