شعب ابی طالب میں محصور ہونا (سن 7 تا 10ء نبوی)

حضرت عمر فاروقؓ کے مسلمان ہونے سے قریش کو بڑا صدمہ پہنچا۔ ادھر مسلمان علانیہ خانہ کعبہ میں نمازیں پڑھنے لگے۔ بہت سے مسلمان نجاشی کے ملک میں جا چکے تھے جن پر قریش کا کوئی زور نہیں چلتا تھا۔ حضرت حمزہؓ اور حضرت عمرؓ کی وجہ سے مکہ کے مسلمانوں پر بھی وہ بالادستی ہاتھ نہیں ڈال سکتے تھے۔ ان حالات کو دیکھ کر نبوت کے ساتویں سال کی ابتدا یعنی ماہ محرم میں قریش نے ایک مجلس مشاورت منعقد کی۔ مسلمانوں کی روز افزوں جماعت کے خطرات سے قوم کو آگاہ کیا اور اس خطرہ و اندیشہ سے محفوظ رہنے کی تدابیر پر غور کیا گیا۔ بالآخر یہ فیصلہ ہوا کہ بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب اگرچہ سب کے سب مسلمان نہیں ہوئے لیکن وہ محمد کی حمایت اور رعایت سے باز نہیں آتے۔ لہٰذا اول ابوطالب سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ محمد کو ان کے حوالے کر دیں۔ اگر وہ انکار کریں تو بنو ہاشم اور بنی عبدالمطلب سے شادی بیاہ، میل ملاقات، سلام پیام سب ترک کر دیا جائے۔ کوئی چیز ان کے ہاتھ فروخت نہ کی جائے۔ اور کھانے پینے کی کوئی چیز ان کے پاس نہ پہنچنے دی جائے اور اس سخت اذیت رساں مقاطعہ کو اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک کہ محمد (ﷺ) کو ہمارے سپرد نہ کر دیں۔

شعب ابی طالب میں محصور ہونا
شعب ابی طالب میں محصور ہونا

چنانچہ اس مقاطعے کے متعلق ایک عہد نامہ لکھا گیا۔ تمام رؤساء قریش نے اس پر قسمیں کھائیں اور عہد نامہ پر دستخط کیے اور خانہ کعبہ میں لٹکا دیا گیا۔ ابوطالب تمام بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کو لے کر مکہ کے قریب ایک پہاڑی درے میں جا کر محصور ہو گئے۔ بنو ہاشم سے صرف ایک شخص ابولہب اس قید و نظر بندی سے آزاد رہا۔ وہ کفار قریش کے ساتھ تھا۔ غلہ و غیرہ جو کچھ بنو ہاشم اپنے ساتھ لے گئے تھے وہ جلد ختم ہو گیا۔ اور ان لوگوں کو کھانے پینے کی بڑی تکلیف ہونے لگی۔

تین برس تک بنو ہاشم اور مکہ کے ان مسلمانوں نے بڑی بڑی تکلیفیں اور اذیتیں برداشت کیں۔ صرف ایام حج میں یہ محصور لوگ باہر نکلتے تھے اور عرب کے دستور کے موافق ان ایام میں جو امن عام ہوتا تھا اس سے فائدہ اٹھاتے اور اپنے کھانے پینے کا سامان خرید کر ذخیرہ کر لیتے تھے۔ انہیں ایام میں آنحضرت ﷺ بھی باہر نکلتے اور باہر سے آئے ہوئے لوگوں میں تبلیغ اسلام کرتے تھے۔ لیکن قریش آپ ﷺ کے ساتھ ساتھ لگے رہتے اور جہاں آپ ﷺ جاتے لوگوں کو آپ کی باتیں سننے سے منع کرتے اور آپ ﷺ کو دیوانہ اور جادوگر بتا کر آپ ﷺ کی طرف کسی کو متوجہ نہ ہونے دیتے تھے۔ شعب ابی طالب کی سہ سالہ سختیوں کا تصور کرنے سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ قبیلوں کی حمیت اور خاندان و نسل کا پاس و لحاظ بھی ایک بڑی چیز ہے اور اسی نے بنو ہاشم کے ان لوگوں کو جو مسلمان نہیں ہوئے تھے آنحضرت ﷺ کا ساتھ دینے اور آپ کی مدد کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ایک طرف بنو ہاشم کی حمیت خاندانی نے ان کو آنحضرت ﷺ کی حمایت پر مجبور کیا۔ دوسری طرف شعب ابی طالب کی قید و نظر بندی نے ان کو آنحضرت ﷺ کے اخلاق کا زیادہ مطالعہ کرنے، زیادہ متاثر ہونے اور اسلام سے زیادہ واقف ہونے کا موقع دیا۔

شعب ابوطالب میں مسلمانوں کو بھوک سے بیتاب ہو کر اکثر درختوں کے پتے کھانے پڑتے تھے۔ بعض بعض شخصوں کی حالت یہاں تک پہنچی کہ اگر کہیں سوکھا ہوا چمڑا مل گیا تو اسی کو صاف اور نرم کر کے آگ پر رکھا اور بھون کر چبا لیا۔ حکیم بن حزام کبھی کبھی اپنے غلام کے ہاتھ اپنی پھوپھی حضرت خدیجہؓ کے لیے کچھ کھانا چھپا کر بھجوا دیا کرتے تھے۔ اس کا حال جب ایک مرتبہ ابو جہل کو معلوم ہوا تو اس نے غلام سے کھانا چھین لیا اور زیادہ سختی سے نگرانی شروع کر دی۔ بنو ہاشم کے چھوٹے چھوٹے بچوں کا بھوک کے مارے تڑپنا اور فاقہ زدہ والدین کے سامنے ان کی اولاد کا بلبلانا ایسی چیزیں تھیں کہ قریش مکہ ان کا صحیح اندازہ کر سکتے تھے۔ زبیر بن ابی امیہ بن مغیرہ نے بنو ہاشم کی مصیبت کو اس لیے سب سے پہلے محسوس کیا کہ ابوطالب اس کے ماموں تھے۔ زبیر نے اول مطعم بن عدی بن نوفل بن عبد مناف کو رشتہ داری کی طرف توجہ دلا کر عہد نامہ کے توڑنے پر آمادہ کیا۔ پھر ابو البختری بن ہشام اور زمعہ بن الاسود کو اپنا ہم خیال بنا لیا۔ غرض مکہ میں کئی شخص جو بنو ہاشم سے قرابت داری رکھتے تھے۔ بنو ہاشم کو مظلوم سمجھ کر اس ظالمانہ عہد نامہ کی تنسیخ کو لے کر چرچا کرنے لگے۔ انہی ایام میں آنحضرت ﷺ نے ابوطالب سے کہا کہ “مجھ کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ اس عہد نامہ کی تمام تحریروں کو کیڑوں نے کھا لیا ہے اس میں جہاں جہاں اللہ کا نام ہے وہ بدستور لکھا ہوا ہے۔ لفظ اللہ کے سوا باقی تمام حروف غائب ہو چکے ہیں”۔ یہ سن کر ابوطالب اپنی گھاٹی سے باہر نکلے، اور انہوں نے قریش سے کہا کہ مجھ کو محمد نے ایسی خبر دی ہے۔ تم عہد نامہ کو دیکھو، اگر یہ خبر صحیح ہے اور عہد نامہ کی تحریر معدوم ہو چکی ہے تو مقاطعہ ختم ہو جانا چاہئے۔ چنانچہ اسی وقت قریش خانہ کعبہ میں دوڑے ہوئے آئے، دیکھا تو دیمک نے تمام حروف چاٹ لیے تھے۔ جہاں جہاں لفظ اللہ لکھا ہوا تھا وہ البتہ بدستور موجود تھا۔ یہ دیکھ کر سب حیران و ششدر رہ گئے۔ اور اُسی وقت مقاطعے کے ختم ہونے کا اعلان کر دیا۔ بنو ہاشم اور تمام مسلمان شعب ابوطالب سے تین سال کے بعد نکلے اور مکہ میں آکر اپنے گھروں میں رہنے لگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *