سر سید احمد خان کی خدمات
سماجی خدمات:
یکم اپریل 1869 ء کو سر سید انگلینڈ روانہ ہوئے۔ اگرچہ اس سے پہلے اپنی تصنیفات اور سائنٹفک سوسائٹی کے اخبار انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں لکھے گئے اخلاقی اور معاشرتی مضامین کے ذریعہ انھوں نے اصلاح کا کام شروع کر دیا تھا۔ مگر اکتوبر 1870 میں انگلینڈ سے واپس ہوئے تو ان کے ذہن میں سماجی اصلاح اور تعلیمی تصور کا ایک واضح خاکہ موجود تھا۔ انہوں نے ’سپکٹیٹر اور ٹیٹلر‘ کی طرح ’تہذیب الاخلاق‘ پرچہ جاری کر کے سماجی اصلاح کا کام انجام دیا۔

تہذیب الاخلاق “کون سوشل رفارمر” بھی کہتے تھے کا مقصد یہ تھا کہ قوم میں جدید زندگی کے مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت بیدار ہو جائے نیز ان تمام خرابیوں کو دور کیا جائے جو سماج کو گھن کی طرح کھا رہی ہیں۔ سر سید نے تہذیب الاخلاق کی ایک اشاعت میں سماجی اصلاح سے متعلق 29 نکات پر مشتمل ایک پروگرام پیش کیا تھا۔
سب سے پہلے “آزادی رائے” کو سر سید ضرور سمجھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ انسان کو آزادانہ رائے دینے کا حق ہو تو دنیا کی آدھی برائیاں ختم ہو جائیں گی۔ “دین اور دنیا” کی تفریق کو وہ غیر ضروری سمجھتے تھے۔ کہتے ہیں کہ بد قسمتی سے دنیا دین کو غارت کر دیتی ہے اسی طرح خوش قسمتی سے دنیا دین کو سنوار بھی دیتی ہے۔ دین اور دنیا کے بارے میں سر سید کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ ایک ہاتھ میں قرآن دوسرے میں جدید علوم اور سر پر لا الہ الا اللہ کا تاج ہو۔ سر سید قوم میں “خود اعتمادی” پیدا کرنا چاہتے تھے۔ اس کا مفہوم ان کے نزدیک یہ تھا کہ دوسروں کے دست نگر نہ ہوں اور اپنے مسائل آپ حل کرنا سیکھیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب “اپنی مدد آپ” کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔ اپنی مدد آپ سے مراد یہ ہے کہ ہر شخص اپنی ترقی کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق خود کسی بیرونی امداد کا انتظار کیے بغیر کوشش کرے۔
یہی جذبہ ترقی کی بنیاد ہے۔ “ہمدردی اور بھلائی” کو وہ قوم کے لیے انتہائی مضر سمجھتے تھے۔ سر سید نے اپنے مشن میں بار بار ناکام ہونے کے باوجود اپنا کام جاری رکھا اور آخر ایک دن اپنی منزل کو پالیا۔ اپنے مضمون ’امید کی خوشی‘ میں بڑی خوب صورتی سے انہوں نے مثالوں کے ذریعہ اس بات کو سمجھایا ہے۔ “رحم اور ودی” کی پابندی کو سر سید نے ربر کی تنی ہوئی رسی سے تشبیہ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عقل کے بجائے محض جذبے سے کام لے کر اچھی رسموں کو اختیار کرے اور بری رسموں کو رد کرے۔ کاہلی اور سستی کسی کے نزدیک بھی اچھی چیز نہیں ہے۔ مگر سر سید کے “کاہلی و سستی” کا جسمانی محنت کے بجائے قلبی اور عقلی محنت کی کمی کو سمجھا تھا۔ دوسرے لفظوں میں دل‘ دماغ اور عقل کو قوم کے مفید کاموں میں استعمال کرے۔
“خوشامد” سر سید کے نزدیک دل کی بیماریوں میں سب سے زیادہ مہلک ہے۔ اس کی وجہ سے انسان خود غرضی اور مطلب پرستی کا شکار ہو جاتا ہے۔ “ریاکاری” انسانوں سے تہذیب اور معاشرت کا دشمن بتایا ہے۔ ریاکاری ظاہر و باطن کا الگ کرتی ہے۔ ریاکار آدمی آسانی سے اپنے دوست کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ “بحث و تکرار” بھی سر سید کے نزدیک ایک اچھی چیز نہیں۔ اس سے دلوں میں کدورت پیدا ہو جاتی ہے اور “تعصب” کو سر سید بدترین خصلتوں میں سے ایک خصلت بتاتے ہیں۔ یہ نیکیوں کو برباد اور خوبیوں کو تباہ کر دیتی ہے۔ عدل و انصاف اس کی وجہ سے جاتا رہتا ہے۔
ان چند انتہائی اہم اور قابل غور معاشرتی خرابیوں کی طرف سر سید نے توجہ مبذول کرائی ہے جن کو دور کر کے قوم ترقی کر سکتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ برائیاں ہمارے سماج میں پنپ رہی تھیں اور پنپ رہی ہیں جس کو سر سید نے محسوس کر کے بڑا خوف کھایا تھا یا دور کرنے کی حتی المقدور کوشش کی۔
تعلیمی خدمات:
سر سید کا سب سے بڑا کارنامہ ہندوستانی مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف راغب کرنا ہے۔ وہ قوم کے سارے امراض کا علاج مغربی تعلیم میں تلاش کرتے ہیں۔ 1857ء کے بعد ملک کے حالات تیزی سے بدل گئے۔ اقدار‘ رہن سہن‘ تعلیمی نظام اور نصاب کے علاوہ ہر چیز پر اس کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔ اب اگر ملازمتوں کو حاصل کرنا ہے‘ سماج میں بہتر زندگی گزارنا ہے‘ حکومت میں اپنی رسائی حاصل کرنا ہے‘ تجارت‘ صنعت و حرفت کے شعبوں میں ترقی کرنا ہے تو جدید تعلیم سے منہ موڑ نہیں سکتے۔ لیکن مسلمانوں کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ صدیوں تک حکومت ان کے پاس تھی ان کے علوم اور زبان کو دیگر اقوام سیکھ اور پڑھ رہے تھے۔ یہ پہلا موقعہ تھا کہ اپنی زبان اور علوم کو ترک کرکے دوسرے علوم اور زبان کو سیکھنا پڑ رہا تھا۔ اس کے لیے اتنی جلدی سے یہ آمادہ نہیں تھے۔ سر سید نے وقت کے تقاضہ کو سمجھا اور لاکھ مخالفتوں کے باوجود اپنے مشن میں لگے رہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اب مسلمانوں کو بھی جدید علوم پڑھنے پڑیں گے۔ ابتدا میں سر سید ہندو اور مسلمانوں کی تعلیم کے لیے یکساں کوشش کرتے رہے مگر راجہ رام موہن رائے نے بہت پہلے ہی ہندوؤں میں بیداری پیدا کر دی تھی اور ان کے سامنے مسلمانوں کی طرح کوئی مسئلہ بھی نہیں تھا۔ وہ پہلے عربی اور فارسی پڑھتے تھے اب انگریزی پڑھنے میں انہیں کیوں کر جھجھک محسوس ہوگی۔ البتہ سر سید نے اپنے تعلیمی ادارے کے دروازے غیر مسلموں پر بھی اسی طرح کھلے رکھے جس طرح مسلمانوں پر۔
سر سید اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ مسلمان انگریزی سیکھنے پر راضی نہیں ہوں گے۔ اس لیے وہ جدید علوم کی کتابوں کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرانا چاہتے تھے۔ اگرچہ دہلی کالج کی ’ورناکلر ٹرانسلیشن سوسائٹی‘ نے یہ کام انجام دیا تھا لیکن بے وقت کالج بند ہو جانے سے یہ کام ادھورا رہ گیا تھا۔ اس مقصد کے تحت سر سید نے غازی پور میں اپنے قیام کے دوران 9 جنوری 1869 ء کو ’سائنٹفک سوسائٹی‘ قائم کی بعد میں ان کے تبادلہ کے ساتھ یہ سوسائٹی بھی علی گڑھ منتقل ہو گئی۔ اس سوسائٹی نے تقریباً چالیس کتابوں کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرایا ہے۔
آغاز میں سر سید ہماری زبان یعنی اردو کو ذریعہ تعلیم قرار دینا چاہتے اس کی ایک وجہ تو وہی ہے جو پہلے گزر چکی یعنی مسلمان انگریزی کی طرف مائل نہیں ہو رہے تھے۔ دوسری وجہ انہوں نے یہ بیان کی کہ غیر ملکی زبان میں تعلیم حاصل کی جائے تو دوگنی محنت کرنی پڑتی ہے۔ ایک تو اصل مضمون پر دوسرے زبان سیکھنے پر مزید یہ کہ یہ علم دیرپا نہیں ہوتا اس لیے ان کے ذہن میں ایک ورناکلر یونیورسٹی کا خاکہ موجود تھا۔ مگر برطانیہ کے سفر سے لوٹنے کے بعد ان کی فکر میں بڑی تبدیلی آجاتی ہے اور اردو کے بجائے انگریزی کو ذریعہ تعلیم کے طور پر اپنانے کی پر زور دعوت دیتے ہیں۔ اپنے اس موقف کی تائید میں وہ کہتے ہیں کہ “تمام علوم کو اردو میں منتقل نہیں کیا جاسکتا جب کہ جدید علوم کو حاصل کرنا ناگزیر ہو گیا ہے دوسرے یہ کہ حکمرانوں کی زبان انگریزی ہے۔ تیسرے یہ کہ راجہ رام موہن رائے کی قیادت میں برادرانِ وطن انگریزی زبان کی طرف پوری طرح متوجہ ہو گئے ہیں اور وہ مسلمانوں سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ بہرحال سر سید نے برطانیہ سے لوٹ کر دو بڑے کام انجام دیے۔ ایک مسلمانوں کی معاشرتی اصلاح کے لیے تہذیب الاخلاق پرچہ کا اجرا، دوسرے تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لیے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کا قیام۔”
24 مئی 1875 کو مدرسہ العلوم علی گڑھ یعنی محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کا قیام عمل میں آیا۔ سر سید کا قائم کردہ یہ کالج آج ہمارے سامنے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل میں موجود ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی کو دور کرنے میں اس یونیورسٹی کا بڑا اہم کردار ہے جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ حالاں کہ ان کے اس تعلیمی مشن میں رکاوٹیں بھی پیدا کی گئیں۔ مولوی امداد علی اور مولوی علی بخش کٹر مخالفین میں تھے۔ شبلی نعمانی نے بھی بعض چیزوں میں سر سید کی مخالفت کی۔ اکبر الہ آبادی شروع میں اپنی شاعری کے ذریعہ سر سید پر چوٹیں کیں مگر بعد میں مداح ہو گئے۔ سر سید کا ساتھ دینے والوں میں الطاف حسین حالی‘ ڈپٹی نذیر احمد‘ منشی ذکاء اللہ ‘ محسن الملک‘ وقار الملک‘ مولوی سمیع اللہ وغیرہ کے نام لیے جاتے ہیں۔ سر سید کے ان رفقا نے بھی تعلیمی اور ادبی خدمات انجام دی ہیں۔
سر سید تعلیم کو سبھی کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔ مگر تعلیم حاصل کرنے والوں کو وہ چھ حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جو سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے تعلیم کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔ دوسری قسم وہ ہے جو تجارت یا صنعت و حرفت کو ذریعہ معاش بنانا چاہتے ہیں۔ تیسری طرح کے لوگوں میں زمین دار اور جاگیر دار آتے ہیں (یہ آزادی سے قبل کا طبقہ ہے)۔ چوتھی قسم میں ایسے لوگ آتے ہیں جو مختلف علوم و فنون میں مہارت حاصل کر کے تصنیف و تالیف کا مشغلہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ پانچواں طبقہ علم دین حاصل کرنے والوں کا ہے۔ چھٹا گروہ عام لوگوں کا ہے جو تھوڑی بہت تعلیم حاصل کر کے اپنے روز مرہ کے کاموں میں معمول کے مطابق لگا رہنا چاہتا ہے۔ اگر ان تمام پر غور کیا جائے تو سر سید کے قائم کردہ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج میں پہلی قسم کے لوگ یعنی سرکاری ملازمتوں کے خواہش مند ہی متوجہ ہوئے۔ یہاں کے طلبا نے ملازمت ہی کو ترجیح دی اور کالج کے ارباب حل و عقد کا مقصد بھی یہی تھا کہ ملازمتوں میں مسلمانوں کی نمائندگی کو اطمینان بخش بنایا جائے۔
عورتوں کی تعلیم کی طرف سر سید نے خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ اس کے مخالف تھے بلکہ ان کا کہنا تھا کہ مرد جب تک تعلیم یافتہ نہ ہوں عورتوں کی تعلیم کی طرف توجہ نہیں کی جاسکتی۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ مسلمان اپنی لڑکیوں کو اسکولوں میں بھیجنے پر آمادہ نہیں تھے۔ جہاں تک ابتدائی تعلیم کی بات ہے اس کا خاکہ بھی سر سید کے ذہن میں تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ پورے ملک میں ابتدائی تعلیم کے ادارے قائم ہوں اس مقصد کے لیے انہوں نے 1886 ء میں محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس قائم کی۔ بہرحال سر سید کی پیہم کوششوں کا نتیجہ تھا کہ مسلمان بالاآخر تعلیم کی طرف متوجہ ہو گئے۔
ادبی خدمات:
سر سید بے انتہا مصروف انسان تھے پھر بھی انہوں نے تصنیف و تالیف کے لیے وقت نکالا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ تصنیف و تالیف میں جیسا جیرا جی لگتا ہے ویسا کسی اور کام میں نہیں لگتا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سیاسی‘ سماجی اور تعلیمی خدمات انجام دیتے ہوئے لکھنے پڑھنے کے مشغلہ کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ ایک بڑی قابل لحاظ بات یہ ہے کہ سر سید کے تمام کاموں سے کچھ نہ کچھ اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر اردو زبان و ادب کی جو خدمات انہوں نے انجام دیں ان کا اعتراف دوست دشمن سبھی کرتے ہیں۔
سر سید نے کم عمری میں ہی لکھنا شروع کر دیا تھا اور یہ سلسلہ وفات کے نو دن پہلے تک چلتا رہا۔ آخری مضمون انہوں نے تہذیب الاخلاق میں اردو کی حمایت میں لکھا تھا جب کہ آغاز اپنے بڑے بھائی کے اخبار “سید الاخبار” سے کیا۔ ان کی پہلی کتاب ’رسالۃ القلوب بذکر محبوب‘ ہے۔ انہوں نے تقریباً ہر موضوع پر قلم اٹھایا۔ تاریخ کی تین اہم کتابوں “آئین اکبری”‘ “تاریخ فیروز شاہی” اور “تزک جہانگیری” کو مرتب کیا۔ دلی کی عمارتوں کا تفصیلی جائزہ “آثار الصنادید” میں لیا ہے۔ انقلاب 1857ء کے تعلق سے “تاریخ سرکشی بجنور” اور “اسباب بغاوت ہند” تحریر کی۔ مذہب پر کئی کتابیں لکھیں۔ ان میں “تفسیر قرآن”‘ “تفسیر انجیل” (تبیین الکلام)‘ “خطبات احمدیہ”‘ “ابطال غلامی اور “احکام طعام اہل کتاب” وغیرہ اہم ہیں۔ کل ملا کر چالیس سے زائد کتابیں سر سید نے تحریر کیں۔ جہاں تک ادب کی بات ہے اس پر باضابطہ کتاب تو نہیں لکھی البتہ اخبار سائنٹفک سوسائٹی (بعد کو علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ) اور تہذیب الاخلاق میں شائع ان کے انشائیوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اردو زبان‘ اسلوب اور نثر کو خود سر سید اور ان کی تحریک نے کس قدر متاثر کیا ہے۔ انہوں نے آسان اور سادہ نثر نگاری کو فروغ دیا۔ گرچہ فورٹ ولیم کالج اور خطوط غالب کے ذریعہ اس کی داغ بیل پڑ چکی تھی مگر ابھی یہ رجحان عام نہیں ہوا تھا۔ سر سید اور علی گڑھ تحریک نے اردو ادب کی یہ بڑی خدمت کی کہ پُر تکلف نثر کو ترک کر کے سلیس و سادہ نثر کو ترقی دی۔ دوسرا کام یہ کیا کہ تحریر کو بامقصد اور افادیت کا حامل بنایا۔ تہذیب الاخلاق میں سر سید کے جو ادبی مضامین یا انشائیے شائع ہوئے ان میں سے چند یہ ہیں : بحث و تکرار‘ امید کی خوشی‘ گزرا ہوا زمانہ‘ جائزۂ تعلیم‘ رسم و رواج کی پابندی‘ آزادی رائے‘ سمجھ‘ دنیا بہ امید قائم ہے‘ اخلاق‘ ریاکاری‘ خوشامد‘ اپنی مدد آپ وغیرہ۔
سر سید نے اپنے ان تمام مضامین میں انشا پردازی کا کمال دکھایا ہے۔ فطرت کی بچی تصویر کشی‘ درد انگیزی‘ اثر پذیری‘ حقیقت نگاری‘ افادیت پسندی وغیرہ ان کی تحریروں کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ ایک بڑا وصف ان کی تحریروں کا یہ بھی ہے کہ علمی اصطلاحات‘ الفاظ اور تعلیمات کو بڑی سادگی‘ صفائی اور دل آویزی سے ادا کیا ہے۔ ان کی تحریر کا ایک نمونہ ملاحظہ ہو۔
“مہذب آدمیوں کی مجلس میں بھی آپس میں اسی طرح تکرار ہوتی ہے پہلے صاحب سلامت کرکے آپس میں مل بیٹھتے ہیں پھر دھیمی دھیمی بات چیت شروع ہوتی ہے۔ ایک کوئی بات کہتا ہے دوسرا بولتا ہے واہ یوں نہیں کہتا کہ واہ تم کیا جانو؟ وہ بولتا ہے تم کیا جانو؟ دونوں کی نگاہ بدل جاتی ہے۔ تیوری چڑھ جاتی ہے۔ آنکھیں ڈراؤنی ہو جاتی ہیں‘ باچھیں چرڑہ جاتی ہیں۔ لہو دی ہونے لگتی ہے۔ کسی نے بیچ بچاؤ کر کے چھڑا دیا تو غراتے ہوئے ایک ادھر چلا گیا اور ایک ادھر۔” (بحث و تکرار)
اسے پڑھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ آسان الفاظ میں انسانی فطرت کی کتنی سچی تصویر کھینچی ہے۔ یہ اثر ان کی تحریروں میں جا بجا ملتا ہے۔ شوخی و ظرافت کی جھلکیاں بھی کہیں کہیں نظر آجاتی ہیں۔
شاعری سے سر سید کی طبیعت کو مناسبت نہیں تھی۔ البتہ ان خالص کی نشاندہی کی ہے جو ہماری شاعری میں راہ پاگئے۔ شاعروں کو مفید مشورے بھی دیے۔ انجمن پنجاب لاہور کی زیر نگرانی جب نئی طرز کی شاعری کو رواج دیا گیا تو محمد حسین آزاد کو جو اس انجمن کے روح رواں تھے‘ سر سید نے مبارک باد دی۔ سر سید کی یہ بڑی تمنا تھی کہ شاعری سے قوم کو بیدار کرنے کا کام لیا جائے چنانچہ الطاف حسین حالی سے انہوں نے مسدس مدو جزر اسلام لکھوائی جو آج تک اپنی اثر انگیزی‘ مضمون آفرینی‘ سادگی اور خلوص کی وجہ سے اتنی ہی مقبول ہے جتنی کہ پہلے تھی۔ مجموعی طور سے دیکھا جائے تو سر سید کی کوششوں سے ادب کی دنیا میں انقلاب برپا ہو گیا اور کچھ ہی دنوں میں نثر و نظم کا ایسا سرمایہ فراہم ہو گیا جس پر فخر کیا جاسکتا ہے۔
