جاہلی دور میں عربوں کے سماجی و تمدنی حالات

جاہلی دور میں عربوں کے سیاسی حالات کو سمجھنے کے لیے ان کی قبائلی زندگی پر روشنی ڈالنا ضروری ہوگا، جیسا کہ معلوم ہے کہ قحطانی (یمنی عرب) اور عدنانی (حجازی عرب) قبائل آگے چل کر بڑھ کر مختلف قبائل میں تقسیم ہو گئے۔ عرب سماج میں قوموں میں قبیلہ افراد کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی طرح اہم ہوتا تھا، قبیلہ ہی یہ وہ بنیاد تھا، جس پر عربوں کی تہذیب و تمدن کی بنیاد کھڑی ہوتی تھی، یہ ایک بڑا خاندان ہوتا تھا، جس کا ہر فرد یہ سمجھتا تھا کہ ہم سب ایک باپ کی اولاد ہیں، اس لیے ہم کو دکھ سکھ، رنج و راحت اور مصیبت و پریشانی میں سب کا ساتھ دینا چاہیے۔ عام طور سے قبیلہ اپنے جد اعلیٰ کے نام سے پکارا جاتا تھا، جیسے ربیعہ، مضر، اوس و خزرج۔ کبھی کبھی کسی قبیلے کا نام کسی مخصوص حادثے میں شہرت پا جانے یا اس کی طرف منسوب ہو جانے کی وجہ سے اسی کے نام پر رکھ دیا جاتا تھا، جیسے ‘غسان’ یہ ایک چشمہ تھا، جہاں پر ایک قبیلہ اترا تھا، چنانچہ اس قبیلے کا نام ہی غسان پڑ گیا۔

جاہلی دور میں عربوں کے سماجی و تمدنی حالات
جاہلی دور میں عربوں کے سماجی و تمدنی حالات

ہر قبیلے کا ایک سردار اور شیخ ہوتا تھا، جس پر پورے قبیلے کے افراد کی اطاعت فرض ہوتی تھی، یہ شیخ جنگ و صلح کا فیصلہ کرتا، آپس کے جھگڑوں کو چکاتا، افراد قبیلہ کی خبر گیری اور نگہبانی کرتا تھا، بعض قبیلوں میں یہ رواج بھی تھا کہ شیخ قبیلہ کو افراد قبیلہ کی موت و زندگی پر پورا اختیار ہوتا تھا، اسی طرح ہر قبیلے کا ایک شاعر یا مختلف شعرا ہوتے تھے جو قبیلے کی تعریف میں قصائد کہتے اور اپنے کلام کے ذریعے قبیلے کے شاندار کاموں کا ذکر کرتے فخر کرتے، قبیلے کی بہادری، مہمان نوازی اور سخاوت کے واقعات بیان کر کے دوسرے قبائل پر اپنی فضیلت اور برتری ثابت کرتے۔

اجتماعی حالت سے ہم عرب کے باشندوں کا اپنی بیوی، آل و اولاد، چچازاد بھائیوں اور مختلف قبائل کا ایک دوسرے سے آپسی رشتہ و تعلق مراد لیتے ہیں، اس طرح جب ہم عربوں کی قدیم تاریخ کے بارے میں چھان بین کرتے ہیں تو ہمیں دو اثرات نمایاں طور پر نظر آتے ہیں:

  1. ان کی زبان عربی زبان تھی، اگرچہ بول چال کے طریقے یا لہجے مختلف تھے۔ عربی قدیم آرامی کی ایک ترمیم شدہ صورت ہے۔ جس کا اصل سامی ہے۔
  2. نسلی اعتبار سے وہ سامی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ چنانچہ مذکورہ بالا عربوں کو ان کی طرز رہائش اور معیشت کے لحاظ سے سماجی و معاشرتی طور پر دو گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
  3. بادیہ دیہات میں رہنے والے عرب، (اہل الوبر) 2. شہروں میں رہنے والے عرب، (اہل المدر)

عرب بادیہ بادیہ (دیہات میں رہنے والے) عرب کو اہل الوبر بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ وہ خیموں میں زندگی گزارتے تھے، جو عام طور پر اون (وبر) سے بنے ہوتے تھے۔ جہاں عام طور پر خشک و بنجر، بے آب و گیاہ اور ریگستانی علاقوں کی موجودگی کے باعث حضری (شہری) اور غیر انتقالی رہائش کم ملتی تھی۔ جزیرہ نمائے عرب میں رہنے والے بدوی عرب عام طور سے صحرائی علاقوں میں رہتے تھے، خانہ بدوشی کی زندگی گزارتے تھے اور کہیں بھی جم کر نہیں رہتے تھے، ان کی زندگی کا دار و مدار بارش پر تھا، جہاں بارش ہوتی اور جہاں سبزہ زار، شادابی اور زرخیزی ملتی، وہاں اپنے جانوروں کے ساتھ مقیم ہو جاتے تھے اور خیموں میں زندگی گزارتے تھے۔

ان کی زندگی کا سر چشمہ ان کے جانور تھے۔ جو صرف اونٹ، بکری، اور گھوڑے تک محدود تھے۔ جس کے دودھ، اون اور کھال سے وہ اپنا کام چلاتے تھے۔ نجد کے اونچے علاقوں میں جب سردیوں میں بارش ہوتی، تھوڑی بہت گھاس پھونس اگ آتی تو یہ لوگ اپنے مویشیوں کے ساتھ وہاں چلے جاتے اور جب یہاں کی گھاس اور ہریالی ختم ہو جاتی تو دوسری جگہ تلاش کرتے، عام طور سے گرمیوں میں اپنے خیمے مویشیوں پر لاد کر دیہاتوں میں واپس آجاتے۔

ان کے خیمے ان کے جانوروں کی کھالوں کے بنے ہوتے تھے، جن کو نصب کرنے کے بعد دو حصے کر دیے جاتے تھے، ایک حصہ مردانہ اور دوسرا حصہ زنانہ۔ عام طور سے زنانہ حصہ پیچھے ہوتا تھا۔ عربی شاعری میں ان خیموں کو اور جن جگہوں میں وہ نصب ہوتے تھے اور جہاں جہاں قبیلہ رہتا تھا، بڑی اہمیت حاصل ہے۔ چنانچہ عربی کی غزلیہ شاعری میں ان خیموں اور ان میں رہنے والی نوجوان پردہ نشیں حسیناؤں اور جن بستیوں میں یہ نصب کیے جاتے تھے، ان کا ذکر عام طور سے بڑے اچھوتے اور دلکش انداز میں آیا ہے۔ ان خانہ بدوش عربوں کی غذا اپنے جانوروں کا دودھ اور کھجور ہوتی تھی، بکریوں اور اونٹوں کا گوشت بھی کھاتے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *