سر سید احمد خان کے رفقاء کی ادبی خدمات

الطاف حسین حالی :

حالی کا وطن پانی پت (ہریانہ) ہے۔ 1854ء میں جس وقت ان کی عمر سترہ سال تھی‘ دہلی آئے اور ادبی شخصیتوں سے ملنے کا موقع ملا۔ خصوصاً غالب سے وہ بڑے متاثر ہوئے اور ان سے گہرا رشتہ وابستہ ہو گیا۔ 1857ء کی بغاوت میں وہ دلی سے چلے گئے پھر 1863ء میں دلی واپس ہو گئے۔ اس سفر میں نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ سے ملاقات ہوئی۔ بغاوت کے بعد وہ دلی زیادہ دنوں نہ رہ سکے اور لاہور چلے گئے۔ اسی زمانے میں انجمن پنجاب لاہور نے اردو شاعری کو ایک نیا رخ عطا کیا۔ یہ اس سے وابستہ ہو گئے۔ سیکریٹری بھی بنائے گئے۔ انہوں نے انجمن کے لیے چار نظمیں “برکھا رت” ، “نشاط امید”، “مناظرہ رحم و انصاف” اور “حب وطن” لکھیں جو بہت پسند کی گئیں۔ چند سال لاہور رہ کر وہ پھر دلی چلے آئے۔

الطاف حسین حالی کی ادبی خدمات
الطاف حسین حالی کی ادبی خدمات

دلی آکر اردو نثر نگاری کی طرف توجہ دی کیوں کہ اب وہ سر سید کی صحبت میں آگئے تھے۔ ان کی نثر میں سر سید کی چھاپ بھی ہے اور انفرادیت بھی۔ مثلاً سادگی‘ منطقی استدلال اور بے تکلف اظہار وغیرہ سر سید کے اثرات کا نتیجہ ہے۔ سادگی میں لطافت‘ منطقیت میں شاعرانہ انداز‘ تمثیلی پیرایہ‘ فطری اور بول چال کا لہجہ‘ عربی اور فارسی الفاظ سے احتراز مگر بعض جگہ انگریزی کا بے جا استعمال حالی کی نثر نگاری کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ حالانکہ نثر نگاری کو دیکھنا ہے تو ان کی سوانحی تصانیف کو پڑھنا چاہیے۔ اردو میں سوانح نگاری کو سر سید تحریک نے ہی جلا بخشی۔ حالی نے تین اہم سوانح عمریاں لکھی ہیں۔

خود سر سید کی سوانح “حیات جاوید” نام سے لکھی۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ سر سید کی زندگی کے کسی پہلو پر لکھی جانے والی کوئی تحریر اس کے استفادے سے مستغنی نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح غالب کی سوانح “یادگار غالب” کے عنوان سے تحریر کی۔ یہ بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ ’حیات جاوید‘۔ تیسری کتاب “حیات سعدی” ہے جو کہ فارسی کے مشہور شاعر شیخ سعدی علیہ الرحمہ کی سوانح عمری ہے۔

سر سید نے حالی سے قوم کو بیدار کرنے کے لیے ایک نظم لکھنے کی خواہش کی چنانچہ مد و جزر اسلام (اسلام کا عروج و زوال) کے نام سے ایک طویل نظم لکھی۔ یہ نظم بعد میں “مسدس حالی” نام سے مشہور ہوئی۔ نظم میں حالی نے سب سے پہلے اسلام کے عروج و زوال پر روشنی ڈالی۔ پھر مسلم قوم کی جہالت اور تعلیم کی کمی پر اظہار خیال کیا ہے۔ ایک سچی اور دل سوز آواز کو لوگوں نے سنا۔ سر سید اس نظم کو پڑھ کر سر دھنتے تھے۔ زبان سادہ‘ سلیس اور دل نشیں ہے۔ روانی اس نظم کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ 1879ء میں یہ نظم شائع ہوئی۔ ہندوستان میں خواتین کی حالت زار کو بھی حالی نے سمجھا۔ راشد الخیری کو دنیا مصور غم کے نام سے جانتی ہے۔ حالی نے بھی عورتوں کے دکھ درد‘ بیوگی و بے چارگی کو سمجھنے اور اپنی نظموں میں ان حالات کو پیش کرنے میں جو تصویر کشی کی ہے‘ وہ مصور غم سے کسی طرح کم نہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے 1874ء میں “مناجات بیوہ” اور 1906ء میں “چپ کی داد” نام سے طویل نظمیں لکھیں۔ حالی اس معاملہ میں سر سید سے بھی آگے بڑھے ہوئے تھے چنانچہ “تعلیم نسواں” کے بارے میں ان کا ایک واضح تصور تھا۔ ڈپٹی نذیر احمد کی طرح انہوں نے بھی خواتین کے لیے ناول “مجالس النسا” تحریر کی۔

اردو تنقید کی تاریخ میں الطاف حسین حالی کا بڑا مقام ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اردو میں بحیثیت فن‘ تنقید کی ابتدا حالی کے مقدمہ شعر و شاعری سے ہوتی ہے۔ 1893ء میں انہوں نے یہ فکر انگیز مقدمہ اپنے مجموعہ کلام کے ساتھ شائع کیا تھا۔ اس کے شائع ہوتے ہی پوری ادبی دنیا میں تہلکہ مچ گیا۔ اردو تنقید کو اس سے نئی راہ ملی۔ اس طرح حالی پہلے شخص ہیں جنہوں نے شعر کو کسوٹی پر پرکھا اور تنقیدی مسائل سے بحث کی۔ بحیثیت مجموعی سر سید کے اہم رفیق حالی سے اردو ادب کو بے انتہا فائدہ پہنچا۔ ان پر آپ تفصیل سے مطالعہ کر سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *